Live Updates

کلبھوشن یادیو کے معاملے پرکوئی ڈیل نہیں ہو رہی . ترجمان دفترخارجہ

بابری مسجد کیس کے فیصلے کے اثرات سے سیکرٹری خارجہ نے سفیروں کو آگاہ کیا. ہفتہ وار بریفنگ

Mian Nadeem میاں محمد ندیم جمعرات نومبر 13:20

کلبھوشن یادیو کے معاملے پرکوئی ڈیل نہیں ہو رہی . ترجمان دفترخارجہ
اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔14 نومبر ۔2019ء) وزارت خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا ہے کہ زیر حراست بھارتی جاسوس کمانڈر کلبوشن یادیو پر نئی دہلی کے ساتھ کوئی ”ڈیل“ نہیں ہورہی . اسلام آباد میں پریس بریفنگ کے دوران انہوں نے کہا کہ پاک فوج کے ترجمان پہلے ہی کلبھوشن یادیو کیس پر عالمی عدالت کے فیصلے پر عمل درآمد کے لیے آرمی ایکٹ میں ترمیم کی خبروں کو قیاس آرائیاں قرار دے چکی ہے .

(جاری ہے)

واضح رہے گزشتہ روز پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غفور نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر میں جاری بیان میں واضح کرتے ہوئے کہا تھا کہ سزا یافتہ بھارتی دہشت گرد کمانڈر کلبھوشن یادیو کے حوالے سے عالمی عدالت انصاف کے فیصلے پر عمل درآمد کے لیے پاک آرمی ایکٹ میں ترمیم کی قیاس آرائیاں درست نہیں ہیں .

دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل نے بتایا کہ کلبھوشن کیس پر تمام فیصلے پاکستان کے قوانین کے مطابق ہوں گے تاہم عالمی عدالت برائے انصاف کا فیصلہ پاکستان کے قوانین کی روشنی میں احترام کیا جائے گا . انہوں نے دوٹوک میں واضح کیا کہ کلبھوشن پر قطعی کوئی ڈیل نہیں ہو رہی ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا کہ ہمیں بھارت سے قطعی طورپر خیر کی توقع نہیں ہے، نئی دہلی نے 260 جعلی نیوز ویب سائٹس بنا کر پاکستان کو بدنام کررہا ہے .

انہوں نے بتایا کہ بھارت پاکستانیوں کے سوشل میڈیا اکاﺅنٹس بند اور مقبوضہ کشمیری کے لوگوں کو نشانہ بنا رہا ہے‘مقبوضہ کشمیر میں استصواب راے کے بعد ہی لائن آف کنٹرول ختم ہو گی . ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا کہ کشمیری ہمارے ساتھ ملنا چاہتے ہیں تو یہ استصواب رائے کے بعد ہمارا حصہ بن جائے گی اور لائن آف کنٹرول غیر متعلق ہوجائے گی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ کشمیر ایشو کو دنیا بھر میں تسلسل کے ساتھ اٹھا رہے ہیں، ہمارا موقف بالکل ایک ہے اور لائن آف کنٹرول پر ہماری افواج چوکس ہے اور ہر قسم کے دفاع کے لئے تیار ہیں .

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے سے اقلیتیں غیر محفوظ ہوگئی ہیں اور بابری مسجد فیصلے کی مذمت کرتے ہیں . انہوں نے کہا کہ بابری مسجد کا معاملہ ہر فورم پر اٹھائیں گے ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا کہ بھارت میں بابری مسجد کے فیصلے کے بعد تمام مساجد کو خطرات لاحق ہو گئے ہیں، بابری مسجد کو ساڑھے چار سو برس مسلمان استعمال کرتے رہے تھے . انہوں نے کہا کہ ہم اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لیے قطعا کچھ نہیں کر رہے اورفلسطینیوں کے ساتھ کھڑے ہیں ایک سوال کے جواب میں کہا کہ حریم شاہ جیسے واقعات مستقبل میں روکنے کے لیے ضروری اقدامات کئے گئے ہیں .
ڈیجیٹل پاکستان کی بنیاد سے متعلق تازہ ترین معلومات