وقت آگیا ہم مسئلہ کشمیر کو دنیا کے سامنے پیش کرنے کیلئے نئے بیانیہ کے ساتھ سامنے آئیں ، سردار مسعود خان

پاکستانیوں اور کشمیریوں کے اندر یہ صلاحیت موجود ہے وہ بدلے حالات میں تنازعہ کشمیر کو نئے پیرائے میں اجاگر کر کے بھارت کے جھوٹ پر مبنی موقف کو دنیا سے مسترد کرائیں، صدر آزاد جموںوکشمیر

جمعرات نومبر 17:16

وقت آگیا ہم مسئلہ کشمیر کو دنیا کے سامنے پیش کرنے کیلئے نئے بیانیہ ..
پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 14 نومبر2019ء) آزاد جموں وکشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ وقت آگیا ہے کہ ہم مسئلہ کشمیر کو دنیا کے سامنے پیش کرنے کے لئے ایک نئے بیانیہ کے ساتھ سامنے آئیں اور بھارت کے اصل چہرے کو عالمی برادری کے سامنے بے نقاب کریں۔ پاکستانیوں اور کشمیریوں کے اندر یہ صلاحیت موجود ہے کہ وہ بدلے ہوئے حالات میں تنازعہ کشمیر کو نئے پیرائے میں اجاگر کر کے بھارت کے جھوٹ پر مبنی موقف کو دنیا سے مسترد کرائیں۔

پاکستان کے نوجوان اور طلبہ سوشل میڈیا کے ذریعے بھارت کے جھوٹے پروپیگنڈے کا توڑ کریں اور مقبوضہ جموں وکشمیر میں بھارتی فوج کے مظالم سے دنیا کو آگاہ کریں۔ پاکستان کی حکومت اور ریاست پارلیمانی سفارتکاری کے ٹول کو استعمال کرتے ہوئے دنیا کی اہم پارلیمانز تک پہنچ کر بھارت پر دبائو بڑھائیں۔

(جاری ہے)

ان خیالات کا اظہار انہوں نے پشاور یونیورسٹی کے سنٹر فار گلوبل اینڈ اسٹرٹیجک اسٹڈیز کے زیر اہتمام ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

سی جی ایس ایس نے اس کانفرنس کا اہتمام شیخ زید اسلامک سنٹر کے تعاون سے کیا تھا۔ کانفرنس سے پارلیمانی کشمیر کمیٹی کے چیئرمین سید فخر امام، سابق وفاقی سیکرٹری اشفاق احمد گوندل، کونسل آف پاکستان نیوزپیپرز ایڈیٹر کے چیئرمین خوشنود علی خان، وائس چانسلر پشار یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر محمد آصف خان، سنٹر فار گلوبل اینڈ اسٹرٹیجک سٹڈیز کے صدر میجر جنرل (ر) سید خالد جعفری اور دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا۔

صدر آزادکشمیر سردار مسعو د خان نے اس اہم قومی اہمیت کے موضوع پر کانفرنس کے انعقاد پر سی جی ایس ایس کے صدر کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے طلبہ پر زور دیا کہ وہ تنازعہ کشمیر کے حوالے سے اپنی معلومات اور علم میں اضافہ کریں اور یہ جاننے کو کوشش کریں کہ پانچ اگست کے بعد مقبوضہ جموں وکشمیر کی صورتحال میں کیا جوہری تبدیلی آئی ہے اور بھارت کی موجودہ انتہاء پسند حکومت کی کشمیر اور خطہ کے حوالے سے پالیسی سے پاکستان اور خطہ کے دیگر مسلمان کس طرح متاثر ہو رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس سال پانچ اگست کے دن بھارت نے پہلے سے موجود سات لاکھ فوج کے علاوہ دو لاکھ مزید فوج کی مدد سے کشمیر پر دوبارہ قبضہ کیا، پورے مقبوضہ جموں وکشمیر کی آبادی کو کرفیو نافذ کر کے اپنے گھروں میں بند کر دیا اور ہزاروں نوجوانوں کو گرفتار کر کے بھارت کے مختلف جیلوں میں منتقل کر دیا جہاں ان پر بدترین تشدد کیا جا رہا ہے۔ بھارت کے ان اقدامات کے خلاف دنیا میں ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے۔

پاکستان کی حکومت اور اہل پاکستان نے اس پر شدید ردعمل کا اظہار کیا، ملک کی پارلیمنٹ، سیاسی جماعتوں اور ہر مکتب فکر کے لوگوں نے اس کی شدید مذمت کی اور کشمیریوں سے بھرپور یکجہتی کا اظہار کیا جبکہ حکومت نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا دروازہ کھٹکھٹایا لیکن بدقسمتی سے سلامتی کونسل نے اپنا وہ کردار ادا نہیں کیا جس کی اس سے توقع تھی یا جو اس کی ذمہ داری تھی۔

لیکن دوسری جانب عالمی ذرائع ابلاغ اور دنیا کی مختلف پارلیمنٹس اور سول سوسائٹی نے کشمیریوں کے حق میں آواز بلند اور بھارت کے اقدامات کے خلاف ناپسندیدگی کا اظہار کیا۔ صدر آزادکشمیر نے کہا کہ بھارتی حکمرانوں کی پالیسی صرف کشمیر تک محدود نہیں بلکہ اس کا نشانہ بھارت کے مسلمان شہری، پاکستان اور آزادکشمیر بھی ہے۔ بھارتی حکمران آزادکشمیر پر حملہ کر کے قبضہ کرنے، پاکستان کی سلامتی سے کھیلنے کی دھمکیاں دینے کے علاوہ بھارت کے مسلمان شہریوں کے خلاف انتقامی کارروائیوں میں مصروف ہیں اور آسام کے انیس لاکھ مسلمان شہریوں کو شہریت کے حق وے محروم کرنے کے بعد بھارتی مسلمانوں کو اپنا مذہب یا بھارت کی ریاست چھوڑنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بھارت پاکستان کے خلاف ایٹمی ہتھیار استعمال کرنے کی دھمکیاں دے رہا ہے۔ صدر آزادکشمیر نے کہا کہ ہمارے پاس سفارتکاری اور جنگ کے دو آپشنز تھے اور پاکستان نے سفارتکار ی کا آپشن چنا ہے لیکن اگر بھارت نے پاکستان کے خلاف کسی قسم کی مہم جوئی کی تو پاکستان اپنے دفاع میں ہر حد تک جانے کے لئے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر کے عوام دو سو سال سے آزادی اور اپنے جمہوری حق حکمرانی کے لئے لڑ رہے ہیں اور وہ یہ جدوجہد اس وقت تک جاری رکھیں گے جب تک کہ انہیں یہ حق مل نہیں جاتا۔