طیاروں کو اڑانے کے لیے ایندھن نہیں الیکٹرک بیٹری استعمال ہو گی

ٹیکنالوجی نے اربوں ڈالر کے ایندھن کا متبادل تیار کر لیا

Sajjad Qadir سجاد قادر اتوار نومبر 05:52

طیاروں کو اڑانے کے لیے ایندھن نہیں الیکٹرک بیٹری استعمال ہو گی
واشنگٹن  ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 17 نومبر2019ء)   ٹیکنالوجی نت نئے تجربوں کے ساتھ ہماری زندگیوں میں آسانیاں پیدا کرنے کے لیے ہمہ وقت کوششوں میں جتی رہتی ہے۔ہر چیز میں جدت لانے کے لیے اس پر سائنسدان تجربات کرتے رہتے ہیں۔جہاز جو کہ دنیا کی تیز ترین سواری ہے اور جنگی مقاصد کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔اب اس میں ایندھن کی بجائے الیکڑک بیٹری استعمال کی جائے گی۔

اس کا تجرباتی طیارہ ایجاد کر لیا گیا ہے جبکہ اس پر مزید تجربات بھی کیے جا رہے ہیں۔اگر ایسا ممکن ہو جاتاہے تو اربوں ڈالر کا ایندھن بچ جائے گا اور الیکٹرک بیٹری سے ہی جہاز چلا کریں گے۔ الیکڑک طیارے میں 14 الیکٹرک موٹریں نصب کی گئی ہیں جس میں دو موٹریں بڑے سائز کی ہیں جو جہاز کو اڑانے کا کام کریں گی۔

(جاری ہے)

غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق امریکی خلائی ادارے ناسا نے کیلیفورنیا کے اپنے ایک مرکز میں ایک نئے ہوائی جہاز کی رونمائی کی ہے۔

یہ جہاز مکمل طور پر بجلی پر کام کرے گا اور اس میں کوئی دوسرا ایندھن استعمال نہیں کیا جائے گا۔اس تجرباتی جہاز کو میکس ویل ماڈل ایکس 57کا نام دیا گیا ہے۔میکس ویل کے متعلق بتایا گیا کہ اس میں 14 الیکٹرک موٹریں نصب کی گئیں ہیں جن میں سے دو موٹریں بڑے سائز کی ہیں جو جہاز کو اڑانے کا کام کریں گی۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ الیکڑک طیارے کی آئندہ برس امریکی ریاست سائوتھ کیلیفورنیا کے ایڈورڈ ایئرفورس بیس سے آزمائشی پرواز کی جائے گی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ایکس 57 درحقیقت اٹلی کا تیار کردہ ٹیکنم پی 2006 ٹی ڈبل انجن طیارہ ہے لیکن ناسا نے اس طیارے کے انجن کو تبدیل کرکے اس میں الیکڑک انجن نصب کیا ہے۔ناسان انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ابھی تجرباتی طور پر ایک طیارے پر کام کیا گیا ہے مستقبل میں مزید پیشرفت کر کے کمرشل اور جنگی معاملات میں استعمال ہونے والے طیارے بھی ایجاد کیے جائیں گے۔