سری لنکا میں مسلم ووٹرز کی بسوں پر فائرنگ

صدارتی انتخابات کی ووٹنگ کے دوران انتہا پسندوں نے اقلیتوں کو نشانہ بنایا

Sajjad Qadir سجاد قادر اتوار نومبر 06:06

سری لنکا میں مسلم ووٹرز کی بسوں پر فائرنگ
کولمبو ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 17 نومبر2019ء)   سری لنکا میں صدارتی انتخابات جاری ہیں جس دوران دنگے فساد کی خبریں بھی موصول ہو رہی ہیں مگر ان فسادات میں جو اہم اور قابل تشویش بات ہے وہ یہ کہ مسلمان ووٹرز کی بھری گاڑی پر شدت پسندوں کی طرف سے پتھراﺅ اور فائرنگ کی گئی ہے۔ووٹنگ کے دوران ملک کے شمال مغربی علاقے میں مسلم ووٹرز کی بسوں پر اندھا دھند فائرنگ کر دی گئی۔

صدارتی انتخابات کے لیے سری لنکا میں ووٹنگ شروع ہو گئی ہے، جس میں صدر میتھری پالاسری سینا کے جانشین کا انتخاب کیا جائے گا، ووٹ ڈالنے کے لیے نکلنے والے مسلمان ووٹرز کی بسوں پر فائرنگ کے واقعے نے سیکورٹی کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب سری لنکا میں اقلیتی مسلم ووٹرز سو سے زائد بسوں کے ایک کانوائے کی صورت میں قریبی قصبے میں ووٹ ڈالنے جا رہے تھے۔

(جاری ہے)

مسلح افراد نے سڑک پر ٹائر جلا کر راستہ بند کر دیا تھا۔ کانوائے پہنچنے پر مسلح افراد نے اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی جس سے دو بسیں متاثر ہوئیں، بسوں پر پتھراﺅ بھی کیا گیا۔مقامی پولیس کے حوالے سے غیر ملکی میڈیا کا کہنا ہے کہ اس واقعے میں ابتدائی طور پر کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔ مسلح حملہ آوروں کو بھی نہیں پکڑا جا سکا ہے۔واضح رہے کہ سری لنکا کی 70 فی صد آبادی بدھ مت سے تعلق رکھتی ہے جب کہ مسلمانوں کی تعداد 2 کروڑ ہے جو کل آبادی کا 10 فی صد ہیں۔

تامل بھی سری لنکا کا اقلیتی قبیلہ ہے۔ نئے صدر کے انتخابات کے لیے ہونے والی ووٹنگ میں تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ راجا پکسے قبیلہ ایک بار پھر صدارت کی کرسی پر براجمان ہو سکتا ہے، جنھوں نے تامل ٹائیگرز کو کچل دیا تھا جس کی وجہ سے ان کی حمایت کی جا رہی ہے۔انتخابات میں سابق وزیر دفاع 70 سالہ گوٹا بایا راجا پکسے اور حکمراں جماعت کے امیدوار 52 سالہ سجیت پریما داسا میدان میں ہیں جب کہ نیشنل پیپلز پاور اتحاد کے قائد انورا کمارا دسانائیکے بھی ایک مضبوط امیدوار ہیں۔مگر اس دوران دنگے فساد کا ماحول اور اس میں اقلیتوںکو نشانہ بنایا جانا کسی طور درست نہیں جو کہ سری لنکا کے امیج کو بڑے پیمانے پر متاثر کر سکتا ہے۔