بہادر شخص نے مگرمچھ کو اندھا کر کے خود کو موت کے منہ سے نکال لیا

آخری لمحے تک مگرمچھ کامقابلہ کر کے زندگی جیتنے والے شخص نے بہادری کی مثال قائم کر دی

Sajjad Qadir سجاد قادر منگل نومبر 06:14

بہادر شخص نے مگرمچھ کو اندھا کر کے خود کو موت کے منہ سے نکال لیا
سڈنی ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 19 نومبر2019ء)    یہ دنیا بہادر لوگو ںکے لیے ہی جینے کی جگہ ہے کیونکہ جو لوگ بزدل ہیں اور جلد ہمت ہار جاتے ہیں وہ زندگی کی بازی بھی ہار جاتے ہیں کبھی مشکلات کے سامنے گھٹنے ٹیک دیتے ہیں تو کبھی خونخوار جانور کے سامنے سانسیں ہار دیتے ہیں۔مگر ان کے برعکس کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو آخری لمحے اور آخری سانس تک مشکلات اور مسائل سے نبردآزما رتے ہیں انہی لوگوں کی قسمت میں جیت لکھی ہوتی ہے۔

کچھ ایسا ہی کارنامہ آسٹریلوی شخص نے اس وقت سرانجام دیا جب وہ خونخوار مگرمچھ کے جبڑوں میں خود کوپھنسا چکا تھا۔تاہم اس نے مگرمچھ کا مقابلہ کر کے اس کے جبڑوں سے اپنی زندگی کی سانسیں چرا لیں۔ آسٹریلیا میں ایک ریسکیو اہلکار نے مگرمچھ کی آنکھوں پر اپنی انگلیوں سے پے درپے وار کر کے خود کو مضبوط جبڑوں سے آزاد کرا لیا۔

(جاری ہے)

ادارہ تحفظ جنگلی حیات کے ایک اہلکار نے 9 فٹ لمبے اور تیز دھار جبڑے والے مگرمچھ کے مضبوط شکنجے میں پھنسنے پر ہمت نہیں ہاری اور اپنی حاضر دماغی کے باعث زندگی کی جنگ جیت لی۔

کریگ ڈکمین نے مچھلی کے شکار کیلئے شمالی آسٹریلیا کے ایسے علاقے کا رخ کیا جسے لاتعداد مگر مچھوں کی موجودگی کے باعث مگرمچھوں کا ملک کہا جاتا ہے۔ مچھلی کے شکار کے بعد ساحل سے باہر آتے ہوئے انہیں مگرمچھ نے دبوچ لیا۔باریک اور تیز دھار دانتوں سے مگرمچھ نے کریگ ڈکمین کی ران کو جبڑے میں دبوچا اور گھسیٹتے ہوئے واپس پانی میں لے جانے لگا، آسٹریلوی شخص نے مگرمچھ پر راڈ سے وار کئے لیکن مگر مچھ ٹس سے مس نہ ہوا۔

وائلڈ لائف اہلکار نے پیشہ ورانہ تجربے کو استعمال میں لاتے ہوئے مگر مچھ کی آنکھوں میں اپنی انگلیاں داخل کردیں جسے مگر مچھ برداشت نہ کرسکا اور گرفت کمزور پڑ گئی۔ موقع غنیمت جان کر ڈکمین مگرمچھ کی پیٹھ پر چڑھ گیا اور جبڑے کو مچھلی پکڑنے کے تار سے باندھ کر قابو کر لیا۔یوں وہ آسانی سے خونخوار مگرپچھ کی گرفت سے آزاد ہو کر باہر آگیا اور موت کو چکمہ دے کر زندگی چھین لی۔

متعلقہ عنوان :