Live Updates

وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس

معمولی جرائم میں ملوث 65 سال سے زائد عمر اور کم سن قیدیوں کو عام معافی دینے کا اصولی فیصلہ، نیشنل ٹیرف اور متبادل توانائی پالیسیوں کی منظوری، وزیراعظم عمران خان کا پڑھے لکھے لوگوں کے لئے روزگار کے مواقع بڑھانے پر زور، خالی آسامیوں کے حوالے سے تشویش کا اظہار، اداروں کے سربراہان کی تقرری کا عمل جلد ازجلد مکمل کرنے کی ہدایت وفاقی کابینہ نے اتفاق رائے سے فیصلہ کیا ہے کہ محمد نواز شریف کے حوالے سے لاہور ہائیکورٹ کے عبوری فیصلے کے خلاف اپیل دائر نہیں کی جائے گی، نوجوانوں کو نوکریوں کی تلاش میں سہولت فراہم کرنے کے لئے نیشنل جاب پورٹل کا قیام عمل میں لایا جا رہا ہے، آصف علی زرداری کو قانونی ریلیف عدالت سے ہی مل سکتا ہے، مولانا فضل الرحمان اپنی عزت بچا کر واپس چلے گئے ہیں معاون خصوصی اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کی وفاقی وزیر بیرسٹر فروغ نسیم کے ہمراہ وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ

منگل نومبر 20:07

وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 19 نومبر2019ء) وفاقی کابینہ نے اتفاق رائے سے فیصلہ کیا ہے کہ محمد نواز شریف کے حوالے سے لاہور ہائیکورٹ کے عبوری فیصلے کے خلاف اپیل دائر نہیں کی جائے گی تاہم میرٹ کی بنیاد پر کیس کے فیصلے پر حکومت اپیل کرنے کا حق محفوظ رکھتی ہے ،کابینہ نے 65 سال سے زائد عمر رسیدہ افراد اور کم سن قیدیوں کو جو معمولی نوعیت کے جرائم میں جیلوں میں قید ہیں، عام معافی دینے کا اصولی فیصلہ کیا ہے، وفاقی کابینہ نے نیشنل ٹیرف اور متبادل توانائی پالیسیوں کی منظوری دیدی ہے، مجوزہ پالیسی کو مشترکہ مفادات کی کونسل میں پیش کیا جائے تاکہ اس پر حتمی منظوری کا عمل مکمل کیا جا سکے، وزیراعظم عمران خان نے پڑھے لکھے لوگوں کے لئے روزگار کے مواقع بڑھانے پر زور دیا، وزیرِ اعظم نے خالی آسامیوں کے حوالے سے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ اداروں کے سربراہان کی تقرری کا عمل جلد ازجلد مکمل کیا جائے، وزیراعظم عمران خان نے ہدایات دی ہیں کہ خالی آسامیوں پر تعیناتیوں کے لئے پلان ایک ہفتے میں وزیرِ اعظم آفس کو فراہم کیا جائے، کابینہ نے وزیرتوانائی عمر ایوب اور ان کی ٹیم کی کاوشوں کو سراہا ہے۔

(جاری ہے)

وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے وفاقی وزیر قانون و انصاف بیرسٹر فروغ نسیم کے ہمراہ وزیراعظم عمران خان کی زیر صدرت وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ اجلاس کے آغاز میں وزیرِ اعظم نے معاشی اشاریوں میں بہتری پر حکومتی معاشی ٹیم کی کاوشوں کو سراہا اور مبارکباد دی۔

وزیرِ اعظم نے کہا کہ اقتصادی اشاریوں میں بہتری سے جہاں ملک میں کاروباری برادری کا اعتماد بحال ہورہاہے وہاں بین الاقوامی طور پر سرمایہ کاروں کی حوصلہ افزائی ہوئی ہے۔وزیرِ اعظم نے کہا کہ چار سال کے بعد کرنٹ اکائونٹ کے شعبے میں مثبت نتائج سامنے آئے ہیں۔ وزیرِ اعظم عمران خان کی تجویز پر کابینہ نے 65سال سے زائد عمر رسیدہ افراد اور کم سن قیدیوں کو جو معمولی نوعیت کے جرائم میں جیلوں میں قید ہیں، عام معافی دینے کا اصولی فیصلہ کیا ہے۔

اس فیصلے سے 65سال اور اس سے زائد عمر کے افراد بشمول خواتین مستفید ہو سکیںگی۔اس فیصلے کا اطلاق ان قیدیوں پر بھی ہوگا جوعمر رسیدہ اور بیمار ہیں اور ان کا علاج جیلوں میں نہیں ہو سکتا۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ جیلوں میں اصلاحات کے حوالے سے قائم شدہ کمیٹی کی اب تک کی پیش رفت آئندہ کابینہ اجلاس میں پیش کی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ وزارتوں اور سرکاری محکموں کی جانب سے عوامی فلاح و بہبود کی غرض سے اقدامات کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے کابینہ کو بتایا گیا کہ وزارتِ بحری امور کی جانب سے کم آمدنی والے افراد کے لئے کے پی ٹی کی زمینوں پر کثیر المنزلہ عمارات کی تعمیر کی تجویز زیر غورہے۔

اس کے علاوہ فضلات سے توانائی پیدا کرنے کی طرف بھی توجہ دی جا رہی ہے۔اس کے علاوہ وزیر برائے بحری امور نے بتایا کہ وزارتِ بحری امور کی جانب سے بلوچستان، سندھ، خیبرپختونخوا اور پنجاب کے دیہی علاقوں کے طلبا کو وظائف دیئے جائیں گے تاکہ وہ اپنی تعلیم کا سفر جاری رکھ سکیں۔ وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی کی جانب سے بتایا گیا کہ سرکاری ہسپتالوں میں آنے والے مریضوں کا ڈیٹا انفارمیشن ٹیکنالوجی کو بروئے کار لا کر اکٹھا کیا جا رہا ہے تاکہ ان کو صحت کی معیاری سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔

وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی کی جانب سے مزید بتایا گیا کہ نوجوانوں کو نوکریوں کی تلاش میں سہولت فراہم کرنے کے لئے نیشنل جاب پورٹل کا قیام عمل میں لایا جا رہا ہے۔ وزیرِ اعظم نے اس خبر پر تشویش کا اظہار کیا کہ ملک میں تعلیم یافتہ افراد کے مقابلے میں ان پڑھ لوگوں کے لئے کام کے زیادہ مواقع موجود ہیں ۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ موجود ہنر مند افرادی قوت اور مارکیٹ کی ضروریات کے درمیان فرق ہے جسے ہمارے ہنر سکھانے کے ادارے پورا نہیں کر پا رہے لہذا اس امر پر خصوصی توجہ دی جائے۔

وفاقی کابینہ نے 7اقتصادی رابطہ کمیٹی کے 08نومبر 2019 کے فیصلوں کی توثیق کی۔ اجلاس میں کابینہ کمیٹی برائے سی پیک کے یکم نومبر 2019کے اجلاس میں لیے گئے فیصلوں کی بھی توثیق کی گئی۔اس میں نویں پاک چین جوائنٹ کوآپریشن کمیٹی برائے سی پیک کے ایجنڈا، اہداف اور کمیٹی کی منظوری دی گئی۔کابینہ نے نیشنل ٹیرف پالیسی کی منظوری دیدی ہے ،کابینہ کو بتایا گیا کہ 2010-11سے ملکی برآمدات بیس سے پچیس ارب ڈالر کے درمیان رہی ہیں۔

2014سے 2017کے درمیان برآمدات میں 19فیصد کمی واقع ہوئی۔ 2018میں برآمدات میں 14فیصد بہتری آئی۔اس اتار چڑھائو کا جائزہ لیا جائے تو اس کی بڑی وجہ ٹیرف اسٹرکچر ہے جس سے برآمدات مہنگی اور برآمدات عالمی سطح پر باقی ملکوں کی مصنوعات کا مقابلہ نہیں کر سکتیں۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ ماضی میں ٹیرف پالیسی کا تعین آمدنی کی ترجیحات کی بنا پر کیا جاتا رہا جس سے وقتی طور پر حکومتی آمدنی میں تو اضافہ ہوا لیکن ملکی برآمدات اور صنعتی شعبہ متاثر ہوا۔

کابینہ کو بتایا گیا کہ مجوزہ پالیسی صنعتی شعبے کی بہتری ، برآمدات میں اضافے اور معیشت کی بہتری کی حکومتی ترجیحات کی عکاس ہے۔ اس پالیسی کے تحت ٹیرف پالیسی کا تعین کرنے کی ذمہ داری وزارتِ تجارت کو سونپی جا رہی ہے تاکہ صنعتی شعبے کی ترقی کو یقینی بنایا جا سکے۔ کابینہ کو مختلف وزارتوں کے زیر اہتمام اداروں کے سربراہان کی خالی آسامیوں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

کابینہ کو بتایا گیا کہ 27وزارتوں کے مختلف اداروں میں 134آسامیاں خالی ہیں ۔کابینہ کو بتایا گیا کہ 89آسامیوں پر ایڈیشنل چارج دیے گئے ہیں یا عارضی طور پر چارج دے کرکارسرکار انجام دیا جا رہا ہے۔ 45 آسامیاں خالی ہیں، 14 آسامیوں پر تعیناتی کا عمل تقریبا ً مکمل ہو چکا ہے جبکہ15 اداروں کو ضم یا ختم کیا جا رہا ہے۔ مختلف وزارتوں میں خالی آسامیوں کی تفصیلات پیش کرتے ہوئے بتایا گیا کہ صنعت و پیداوار میں 19، نیشنل ہیلتھ سروسز میں 16، پاور ڈویژن میں 16، پٹرولیم ڈویژن میں 10، سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں 09، فیڈرل ایجوکیشن اینڈ پروفیشنل ٹریننگ میں 07، وزارتِ خزانہ کے تحت 07 اور کامرس ڈویژن میں 07، انفارمیشن ٹیکنالوجی میں04، فوڈ سیکورٹی 04، کابینہ ڈویژن04، وزارتِ بین الصوبائی رابطہ 03، وزارتِ اطلاعات کی 03، اوورسیز پاکستانیز 02، ہائوسنگ اینڈ ورکس 02، اسٹیبلشمنٹ ڈویژن 02، بحری امور02، منصوبہ بندی ڈویژن 02، ماحولیاتی تبدیلی ڈویژن02 اور ہوا بازی ڈویژن، ٹیکسٹائل ڈویژن ، ڈیفنس ڈویژن، ریونیو ڈویژن ، امور کشمیر، مذہبی امور اور آبی وسائل ڈویژن میں ایک ایک آسامی خالی ہے ۔

کابینہ کو تفصیلاً ان وزارتوں کی آسامیوں پر تعیناتیوںکے حوالے سے اب تک کی پیش رفت سے آگاہ کیا گیا ۔وزیرِ اعظم نے خالی آسامیوں کے حوالے سے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ہدایت کی کہ اداروں کے سربراہان کی تقرری کا عمل جلد ازجلد مکمل کیا جائے۔وزیرِ اعظم نے وزراء کو ہدایت کی کہ ان خالی آسامیوں پر تعیناتیوں کے لئے پلان ایک ہفتے میں وزیرِ اعظم آفس کو فراہم کیا جائے۔

وزیرِ اعظم نے کہا کہ قابل افراد کوسرکاری اداروں میں لانے کے لئے اچھی تنخواہ اور مراعات دی جائیں تاکہ بہترین افرادی قوت سے سرکاری اداروں کی کارکردگی اورسروس ڈیلیوری میں بہتری لائی جا سکے۔ کابینہ نے رضا عباس شاہ کو چیف ایگزیکٹو آفیسر انجینئرنگ بورڈ تعینات کرنے کی منظوری دی۔ یہ تعیناتی دو سال کے لئے کی گئی ہے۔ کابینہ نے رضوان احمد بھٹی کو چیف ایگزیکٹو آفیسر پاکستان انڈسٹریل ڈویلپمنٹ کارپوریشن تعینات کرنے کی منظوری دی ۔

یہ تعیناتی تین سال کے لئے ہے۔ کابینہ نے محمد خاور جمیل (ریٹائرڈ فیڈرل سیکرٹری) کو وفاقی انشورنس محتسب تعینات کرنے کی منظوری دی ۔ یہ تعیناتی چار سال کے لئے کی گئی ہے۔ کابینہ نے متبادل اور قابل تجدید توانائی کے حوالے سے مجوزہ پالیسی (Alternative & Renewable Energy Policy 2019) کی اصولی منظوری دی۔ واضح رہے کہ اس سے پہلے متبادل ذرائع اور قابل تجدید توانائی کے حوالے سے پالیسی 2006میں بنائی گئی تھی جس کی 2013میں تجدید کی گئی تھی۔

کابینہ کو بتایا گیا کہ قابل تجدید انرجی پالیسی 2019کے متبادل اور قابل تجدید ذرائع سے بجلی پیدا کرنے والے کارخانوں سے بجلی کی قیمت کم ہوگی، انرجی مکس میں قابل تجدید بجلی کی مقدار کو ساٹھ فیصد تک لانے ، ماحول دوست بجلی پیدا کرنے ، امپورٹڈ فیول پر انحصار کم کرنے اور کرنٹ اکائونٹ خسارے کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ مہنگی ایل این جی اور درآمد شدہ فیول سے بجلی کی پیداوار کا سارا بوجھ صارفین کو اٹھانا پڑتا تھا۔

سابق حکومتوں نے عوام پر اس بوجھ کو کم کرنے کو مسلسل نظر انداز کیا جو کہ مجرمانہ غفلت تھی ۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ سابق حکمرانوں کی غلط پالیسیوں کا خمیازہ عوام کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قابل تجدید اور متبادل ذرائع سے سستی بجلی کی پیداوار سے عوام کو ریلیف میسر آئے گا۔ کابینہ نے معاون خصوصی برائے پٹرولیم ندیم بابر کو قابل تجدید اور متبادل ذرائع سے بجلی کی پیداوار کے حوالے سے جامع پالیسی پیش کرنے پر مبارکباد دی۔

کابینہ کو بتایا گیا کہ گذشتہ بارہ ماہ میں وزارتِ توانائی نے بجلی کے محصولات کی مد 229ارب روپے اکٹھے کیے ہیں۔کابینہ نے وزیرتوانائی عمر ایوب اور انکی ٹیم کی کاوشوں کو سراہا۔وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ مجوزہ پالیسی کو مشترکہ مفادات کی کونسل میں پیش کیا جائے تاکہ اس پر حتمی منظوری کا عمل مکمل کیا جا سکے۔ کابینہ نے سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ کی مرحوم والدہ کے ایصال ثواب کے لئے دعا کی ۔

وفاقی وزیر قانون و انصاف بیرسٹر فروغ نسیم نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے 20روز قبل مجھے کریمنل جسٹس سسٹم کی تشکیل نوکا ٹاسک سونپا تھا ، فرانزک اور جدید ٹیکنالوجی کے بغیر کریمنل جسٹس سسٹم کامیاب نہیں ہوسکتا ،نیویارک اور شکاگو میں بھی کرائم ریٹ بہت تھا لیکن ٹیکنالوجی کے بعد وہاں کرائم کم ہوگیا ۔انہوں نے کہا کہ محمد نواز شریف کے حوالے سے لاہو ہائیکورٹ نے عبوری فیصلہ دیا ہے ،وفاقی کابینہ نے اتفاق رائے سے فیصلہ کیا ہے کہ اس کے خلاف اپیل دائر نہیں کی جائے گی کیونکہ عبوری فیصلے کے خلاف اپیلیں قابل سماعت ہونے کی شرح نہ ہونے کے برابر ہے، حکومت نے تو انڈیمنٹی بانڈ کی شرط رکھی تھی اس کی روایات اور مثالیں موجود ہیں، ماضی میں جہانگیر بدر دو لاکھ کے انڈیمنٹی بانڈ جمع کراکے باہر گئے تھے ، عبوری فیصلے میں سزا معطل ہوئی ہے ختم نہیں ہوئی ۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کا ایجنڈا ہے کہ پاکستان کو کرپشن فری بنایا جائے اس میں کسی کو ذات یا اپوزیشن کو ہدف بنانا مقصد نہیں ہے ، ایک کرپشن فری معاشرہ ہی زیادہ دیر تک آگے بڑھنے کی سکت رکھتا ہے۔انہوں نے کہا کہ کریمنل جسٹس سسٹم کو مزید موثر بنانے کی ضرورت ہے، عمر رسیدہ ، معمولی جرائم میں ملوث قیدیوں کی فہرستوں کی تیاری کا عمل جاری ہے، کابینہ معمولی جرائم میں ملوث قیدیوں کے معاملے کا جائزہ لے گی۔

انہوں نے کہا کہ انڈیمنٹی بانڈ کے حوالے سے ن لیگ کو سیاست نہیں کرنی چاہیے تھی۔انہوں نے کہا کہ احتساب کا عمل سب کے لیے یکساں ہے، اپوزیشن کے خلاف وزیراعظم یا میرا کوئی ایجنڈا نہیں۔انہوں نے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ نے نواز شریف کیلئے حکومت کی 4ہفتے کی اجازت تسلیم کی، اگر نواز شریف واپس نہ آئے تو شہباز شریف پر توہین عدالت عائد ہو گی، حکومت کے پاس توہین عدالت کا کوئی اختیار نہیں، یہ عدالت کا اختیار ہے ، حکومت کا نواز شریف کیلئے کیا گیا فیصلہ کا بیشتر حصہ ہائیکورٹ میں تسلیم کیا گیا ، نواز شریف کو قانون کے مطابق صرف ایک بار بیرون ملک جانے کی اجازت دی گئی۔

انہوں نے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ میں میرٹ کی بنیاد پر کیس کے فیصلے کے خلاف اپیل کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اعلیٰ عدلیہ کے فیصلے موجود ہیں کہ عبوری حکم پر نظر ثانی درخواستوں کی سماعت نہیں ہوسکتی اس لئے عبوری فیصلے کے خلاف اپیل دائر نہیں کررہے ۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹرز کی رائے کی روشنی میں کسی کو علاج کیلئے بیرون ملک بھیجا جاسکتا ہے، نواز شریف کے معاملے کے حوالے سے برطانوی حکومت کو تفصیل سے آگاہ کیا جائے گا ،برطانیہ میں پاکستانی سفارتخانے کو بھی نوازشریف پر مقدمات سے آگاہ کیا جائیگا،نواز شریف کی جلد صحت یابی کے لیے دعا گو ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم کی معاون خصوصی ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ آصف علی زرداری کو ریلیف صرف رشید فالودے والا دے سکتا ہے، قانونی ریلیف عدالت سے ہی مل سکتا ہے ۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان وزیراعظم کا استعفی لینے آئے تھے لیکن اپنی عزت بچا کر واپس چلے گئے ہیں، وہ نیک تمنائیں اور دعائیں لیکر واپس گئے ہیں ۔
ڈیجیٹل پاکستان کی بنیاد سے متعلق تازہ ترین معلومات