Live Updates

بلاول بھٹو زرداری عمران خان کے حواس پر طاری ہیں اور شاید اسے بلاول کی باتوں کا خوف سونے تک نہیں دیتا، سعید غنی

تحریک انصاف عوامی جماعت نہیں بلکہ وہ ایک سلیکٹیڈ جماعت اور حکومت ہے، انہیں عوام نے ووٹ نہیں دئیے ہیں ،وزیر اطلاعات سندھ

منگل نومبر 21:45

بلاول بھٹو زرداری عمران خان کے حواس پر طاری ہیں اور شاید اسے بلاول کی ..
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 19 نومبر2019ء) وزیر اطلاعات و محنت سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ بلاول بھٹو زرداری عمران خان کے حواس پر طاری ہیں اور شاید اسے بلاول کی باتوں کا خوف سونے تک نہیں دیتا۔ تحریک انصاف عوامی جماعت نہیں بلکہ وہ ایک سلیکٹیڈ جماعت اور حکومت ہے، انہیں عوام نے ووٹ نہیں دئیے ہیں۔ پی ٹی آئی بطور جماعت ایک چور اور کرپٹ جماعت ہے اور حکومت میں آنے سے قبل ہی وہ ایک کرپٹ جماعت تھی، جس کا اظہار خود ان کی بنائی گئی جسٹس (ر) وجہہ الدین کی کمیٹی نے کردیا تھا۔

چئیرمین نیب کی جانب سے ایم سی بی کے میاں منشا کا کیس کی تحقیقات کا ہائیکورٹ میں کیس دائر ہونے کے باعث نہ کرنے کی بات غلط ہے کیونکہ اس کیس کی تحقیقات کا خود سپریم کورٹ نے انہیں حکم دیا ہے لیکن نیب کے افسران اور خود چیئرمین نیب اس کیس کو نہیں کھولنا چاہتے اور یہی وجہ تھی کہ اس کو 6 سال تک اسٹیٹ بینک کے اندر دبائے رکھا گیا۔

(جاری ہے)

چیئرمین نیب اگر میری شکایات پر ڈائریکٹر نیب سکھر کے خلاف مجھے دھمکیاں دینے اور میرے افسران کو ڈرانے دھمکانے کے خلاف ایکشن نہیں لیں گے تو میں یہ بات سمجھنے پر مجبور ہوں گا کہ یہ سب کچھ ان کی ایما پر کیا جارہا ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کے روز سندھ اسمبلی کے باہر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ سعید غنی نے صحافیوں کے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے کہا کہ گذشتہ روز عمران نیازی نے وہ باتیں کی ہیں، جو اس طرح کی ذہنی سوچ کے لوگ کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان سے اسی قسم کی باتوں کی ہم توقع رکھ سکتے ہیں اور مجھے اس بات پر حیرت ہے کہ وہ بلاول بھٹو کی باتوں کو طنز بنا رہے تھے، جس آدمی کو خود یہ نہیں معلوم کہ جرمنی اور جاپان کی سرحدیں ساتھ نہیں ہیں اور حضرت عیسی علیہ سلام کا ذکر تاریخ میں کتنا ہے اور جس کو یہ بھی معلوم نہ ہو کہ چائنا نے کوئی ایسی ٹرین نہیں بنائی جس کی رفتار روشنی سے بھی زیادہ ہو۔

انہوں نے کہا کہ جس شخص کی ٹیم کو ٹماٹر 17 روپے اور مٹر 5 روپے کلو میں بکتے نظر آئیں اور 55 روپے میں ایک کلومیٹر ہیلی کاپٹر کا سفر ہوتا ہے وہ بلاول بھٹو پر طنز کرتا ہو تا پھر اس کا کوئی جواب نہیں ہے۔ سعید غنی نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ بلاول بھٹو زرداری عمران نیازی کے حواس پر مکمل طور پر طاری ہوچکا ہے اور شاید بلاول کی باتوں کا خوف اسے رات کو سونے بھی نہیں دیتا، اسی لئے اس نے دو دن کی چھٹی لے کر نیند کی گولیاں کھا کر 48 گھنٹے سونے کی کوشش کی ہوگی لیکناس کی گذشتہ روز کی تقریر سے ثابت ہوا ہے کہ اس کی نیند ابھی پوری نہیں ہوئی ہے۔

ایک اور سوال پر انہوں نے کہا کہ مجھے تو اللہ کا شکر ہے کہ آج تک کسی ادارے نے حکم تو دور کی بات مشورہ بھی نہیں دیا کہ میں پارٹی تبدیل کروں۔ انہوں نے کہا کہ ہم یہ بات پہلے ہی کہتے آرہے ہیں کہ تحریک انصاف عوامی جماعت نہیں ہے بلکہ یہ ایک سلیکٹیڈ جماعت اور حکومت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس جماعت کو عوام نے ووٹ ہی نہیں دئیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پرویز الہی نے یہ بات دوبارہ دہرائی ہے کہ ان کی جماعت کے لوگوں کو بھی توڑا جارہا ہے۔

ہم نے پہلے ہی کہا تھا کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون کے لوگوں کو توڑا گیا، اب ان کے اپنے اتحادی مسلم لیگ (ق) اس بات کا اظہار کررہے ہیں اور ایم کیو ایم گو کہ اس کا اظہار ابھی نہیں کررہی ہے لیکن ان کے لوگوں کو بھی توڑا جارہا ہے۔ سعید غنی نے کہا کہ پی ٹی آئی کی کرپشن والی منترہ اب کام نہیں آرہی ہے کیونکہ تحریک انصاف بطور جماعت ایک چور اور کرپٹ جماعت ہے۔

تحریک انصاف تو پیپلز پارٹی اور نون لیگ پر یہ الزام لگاتی رہی کہ ان کے وزراء حکومت میں آکر کرپشن کرتے ہیں لیکن یہ واحد جماعت ہے جو حکومت میں آنے سے قبل ہی ایک کرپٹ جماعت تھی اور یہ بات میں نہیں بلکہ ان کی اپنی جماعت کی جسٹس (ر) وجہہ الدین کی سربراہی میں بنائی گئی کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج بھی 5 سال سے الیکشن کمیشن میں فارن فنڈنگ کا پی ٹی آئی کا کیس موجود ہے اور یہ اس لئے اس سے بھاگ رہے ہیں کہ اگر عوام کو معلوم چل جائے کہ انہوں نے الیکشن لڑنے اور کرپشن کے لئے کن کن ممالک سے فنڈز لئے ہیں اور جن ممالک سے انہوں نے فنڈز لئے ہیں وہ پاکستان دشمن ممالک ہیں تو لوگ انہیں جوتے ماریں گے۔

چیئرمین نیب کے حوالے سے سوال کے جواب میں سعید غنی نے کہا کہ چئیرمین نیب کی جانب سے ایم سی بی کے میاں منشا کا کیس کی تحقیقات کا ہائیکورٹ میں کیس دائر ہونے کے باعث نہ کرنے کی بات غلط ہے کیونکہ اس کیس کی تحقیقات کا خود سپریم کورٹ نے انہیں حکم دیا ہے لیکن نیب کے افسران اور خود چیئرمین نیب اس کیس کو نہیں کھولنا چاہتے اور یہی وجہ تھی کہ اس کو 6 سال تک اسٹیٹ بینک کے اندر دبائے رکھا گیا۔

چیئرمین نیب اگر میری شکایات پر ڈائریکٹر نیب سکھر کے خلاف مجھے دھمکیاں دینے اور میرے افسران کو ڈرانے دھمکانے کے خلاف ایکشن نہیں لیں گے تو میں یہ بات سمجھنے پر مجبور ہوں گا کہ یہ سب کچھ ان کی ایماء پر کیا جارہا ہے۔ مولانا فضل الرحمان کے آزادی مارچ کے سوال کے جواب میں سعید غنی نے کہا کہ ان کا پلان اے اچھا پلان تھا اور اس سے عام آدمی کو کوئی پریشانی اور تکالیف نہیں ہوئی تھی تاہم ان کے پلان پی اور سی کے حوالے سے پیپلز پارٹی سے ان کی کوئی مشاورت نہیں ہوئی ہے اور نہ ہی انہوں نے اس سے آگاہ کیا ہے لیکن میں سمجھتا ہوں کہ ان کے پلان بی سے عوام کو پریشانی اور تکالیف ہورہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جے یو آئی کو اپنے پلان بی کو دوبارہ دیکھنا چاہیے کیونکہ اس سے عوام براہ راست متاثر ہورہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کی یہ سوچ ہوتی ہے کہ عوام پر دباو پڑتا ہے تو حکومتوں پر اس کا دباو پڑتا ہے لیکن یہ حکومت اتنی بے حس حکومت ہے کہ اسے عوام سے کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ ہی انہیں عوامی تکالیف پر کسی قسم کا کوئی نوٹس لینے کی سوچ ہے۔

بلاول بھٹو زرداری کی سندھ اسمبلی میں آمد اور ان کی سندھ حکومت کی کارکردگی سے نالاں ہونے کے سوال کے جواب میں وزیر اطلاعات سندھ سعید غنی نے کہا کہ مجھے تو انہوں نے نہیں کہا کہ وہ حکومت سے نالاں ہیں، انہوں نے کہا کہ جب سے حکومت بنی ہے بلاول بھٹو بطور چیئرمین اور پارٹی سربراہ صوبائی وزرا، ارکان سندھ اسمبلی اور پارٹی کے رہنماو ں سے ملتے ہیں۔

صوبائی وزرا اور ایم پی اے سے کارکردگی معلوم کرتے ہیں اور ان سے سوالات بھی کرتے ہیں اور یہ ایک اچھی روایت ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج بھی وہ اسمبلی آئیں ہیں تو ضرور اسمبلی کی کارکردگی کا جائزہ لیں گے۔ کابینہ میں ردوبدل کے سوال پر انہوں نے کہا کہ مجھے کسی وزراکی تبدیلی کے حوالے سے کوئی علم نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ قیادت کو اس بات کا مکمل اختیار ہے کہ وہ جب چاہیں اور جس کو چاہیں کسی بھی وزارت سے ہٹا اور وزرات کا قلمدان دیں۔
ڈیجیٹل پاکستان کی بنیاد سے متعلق تازہ ترین معلومات