نواز شریف کا علاج ہسپتال میں نہیں گھر پر ہوگا: اسحاق ڈار

رائیونڈ گھر کی طرح ایون فیلڈ اپارٹمنٹ میں بھی آئی سی یو سمیت تمام انتظامات کیے گئے ہیں: سابق وزیرِ خازنہ

Usman Khadim Kamboh عثمان خادم کمبوہ منگل نومبر 23:52

نواز شریف کا علاج ہسپتال میں نہیں گھر پر ہوگا: اسحاق ڈار
لندن (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 19 نومبر2019ء) : سابق وزیرِ خازنہ اسحاق ڈار نے بتایا ہے کہ سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کا علاج ہسپتال میں نہیں گھر پر کیا جائے گا۔ اسحاق ڈار نے کہا ہے رائیونڈ گھر کی طرح ایون فیلڈ اپارٹمنٹ میں بھی آئی سی یو سمیت تمام انتظامات کیے گئے ہیں، فلیٹ میں علاج کیلئے ضروری تمام آلات پہچا دیے گئے ہیں اور نواز شریف کا وہین علاج کیا جائے گا لیکن اگر ضرورت ہوئی تو کسی بھی جگہ جایا جاسکتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ نواز شریف کی اوپن ہارٹ سرجری بھی لندن میں ہوئی تھی اور انکے میڈیکل کنسلٹنٹس کرسٹوفر بیکر اور دیگر ڈاکٹرز بھی لندن میں موجود ہیں۔ اسحاق ڈار کے مطابق نواز شریف کے علاج کا پہلا مرحلہ لندن میں ہی ہوگا اس کے بعد ضرورت پڑنے پر کسی بھی جگی جایا جاسکتا ہے۔

(جاری ہے)

واضح رہے کہ سابق وزیراعظم نوازشریف آج صبح لندن روزنہ ہوئے تھے، نواز شریف آج صبح سابق وزیراعظم قافلے کی صورت میں جاتی امراء سے ائیر پورٹ پہنچے، جس میں کیپٹن ریٹائرڈ صفدر، خاندان کے دیگر افراد بھی شامل تھے۔

قافلے میں مسلم لیگ ن کے رہنماؤں اور کارکنوں نے بھی بڑی تعداد میں شرکت کی۔مریم نواز نے اپنی دادی کے ہمراہ نوازشریف کو گھر سے رخصت کیا تھا۔ ضروری ٹیسٹ کے بعد ڈاکٹرز نے پائلٹ کو اڑان کی اجازت دی اور اب وہ لندن پہنچ گئے ہیں۔ڈاکٹر عدنان نے ائیر ایمبولینس ہیتھروائیرپورٹ پر لینڈ کرنے کی تصدیق کی جوکہ پاکستانی وقت کے مطابق 10بج کر 28منٹ پر ائیرپورٹ پر لینڈ کی۔

اب نواز شریف اپنی رہائشگاہ پہنچ گئے ہین وہ کل کلینک جائیں گے جہاں انکا علاج شروع کیا جائے گا۔ اس حوالے سے حسین نواز نے کہا ہے کہ کوشش کریں گے نواز شریف کے علاج سے متعلق معلومات کو خفیہ رکھا جائے۔ انہوں نے کہا ہے کہ اس وقت ہمارے لیے صرف میاں صاحب کا علاج اہم ہے، قوم میاں صاحب کی صحتیابی کیلئے دعا کرے ۔ حسین نواز نے کہا کہ پاکستانی حکومت میں انسانی ہمدردی نام کی کوئی چیز نہیں ہے، میری والدہ کو بھی سیاسی بنانے کی کوشش کی گئی۔ نواز شریف کی تمام بیماریوں کا علاج ایک چھت تلے ہونا چاہیے، نواز شریف کو علاج کیلئے امریکا بھیجنے کا فیصلہ ڈاکٹرز کریں گے۔