کچرا چننے والا کروڑ پتی بن گیا

وھیل مچھلی کی قے نے اسکی سوئی قسمت جگا دی

Sajjad Qadir سجاد قادر جمعرات نومبر 05:27

کچرا چننے والا کروڑ پتی بن گیا
تھائی لینڈ ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 21 نومبر2019ء)   کچرا چننا آج کے دور میں ایک بڑا پیشہ بن چکا ہے۔عام طور پر بھی کچرا چننے والوں میں سے چند لوگ لاکھوں پتی تو بن ہی جاتے ہیں مگر کچھ خوش قسمت ایسے بھی ہوتے ہیں جنہیں کچرا چنتے چنتے کوئی ایسی قیمتی چیز مل جاتی ہے کہ ان کے وارے نیارے ہو جاتے ہیں۔کچھ ایسا ہی تھائی لینڈ کے ایک کچرا چننے والے کے ساتھ معاملہ پیش آیا ہے۔

تھائی لینڈ کے ایک غریب کچرا چننے والے کو اچانک ایک عجیب شے ملی ہے جسے ’وھیل کی قے‘ کہا جاتا ہے اور اس کا تکنیکی نام ’ایمبرگیس‘ ہے۔ اسپرم وھیل کے پیٹ میں مختلف اشیا کا آمیزہ ایک گولے کی صورت میں باہر آجاتا ہے جسے ’وھیل کی قے‘ کہتے ہیں اور اس کی قیمت ایک لاکھ ڈالر بتائی گئی ہے۔سومسک بونرتھ تھائی لینڈ کے ٹیوراٹائو اس سے بو آرہی تھی لیکن اسے کئی مراحل سے گزارے جانے کے بعد اس سے خوشبو اور دیگر اشیا بنائی جاتی ہیں۔

(جاری ہے)

خشک ہوتے ہی اس کی بو ختم ہوجاتی ہے اور خوشبو پیدا ہوجاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دیرپا خوشبو دینے والے پرفیوم میں انہیں بڑے پیمانے پر استعمال کیا جاتا ہے۔آبی حیات کے ماہرین اس قے کو تیرتا ہوا سونا بھی کہتے ہیں جو اپنے وزن کے لحاظ سے لاکھوں ڈالر میں فروخت ہوسکتا ہے۔ جب سومسک کے ہاتھ یہ لگا تو اسے یقین نہ تھا کہ یہ کوئی قیمتی شے ہے اب وہ اس خزانے کو پاکر بہت خوش ہے اور فروخت کرنے کی فکر میں ہے۔

اس نے بتایا کہ وہ ماہی گیر رہ چکا ہے اور اس کی کشتی ایک طوفان میں تباہ ہوگئی تھی جس کے بعد وہ کوڑا چننے پر مجبور تھا۔ اب وہ ’وھیل کی قے‘ فروخت کرکے دوبارہ کشتی خریدے گا تاکہ ماہی گیری کا عمل دوبارہ انجام دے سکے اور یوں خچر چننے کی نوبت ٹ جائے گی اور وہ پھر سے باعزت روزگار کمائے گا۔