Live Updates

وزیراعلی دن 11 بجے آتے ہیں، صرف 1،2 ملاقاتیں کرتے ہیں، چند ہی گھنٹے دفتر میں بیٹھتے ہیں

پھر کچھ وقت دفتر میں گزارنے کے بعد تیراکی کیلئے گورنر ہاوس چلے جاتے ہیں، بیوروکریسی خوش ہے کہ ان پر سختی کرنا والا انہیں پوچھنا والا کوئی نہیں: سینئر صحافی نے وزیراعظم کے وسیم اکرم پلس کی کارکردگی کا بھانڈا پھوڑ دیا

muhammad ali محمد علی ہفتہ نومبر 00:13

وزیراعلی دن 11 بجے آتے ہیں، صرف 1،2 ملاقاتیں کرتے ہیں، چند ہی گھنٹے دفتر ..
لاہور (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 22 نومبر 2019ء) سینئر صحافی نے وزیراعظم کے وسیم اکرم پلس کی کارکردگی کا بھانڈا پھوڑ دیا ، کہتے ہیں کہ وزیراعلی دن 11 بجے آتے ہیں، صرف 1،2 ملاقاتیں کرتے ہیں، چند ہی گھنٹے دفتر میں بیٹھتے ہیں، پھر کچھ وقت دفتر میں گزارنے کے بعد تیراکی کیلئے گورنر ہاوس چلے جاتے ہیں، بیوروکریسی خوش ہے کہ ان پر سختی کرنا والا انہیں پوچھنا والا کوئی نہیں۔

تفصیلات کے مطابق سینئر صحافی و اینکر محمد مالک نے نجی ٹی وی چینل کے پروگرام سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار کی کارکردگی کا بھانڈا پھوڑ دیا۔ محمد مالک کا کہنا ہے کہ عثمان بزدار کوئی کام نہیں کر رہے ہیں۔ وہ صبح 11 بجے اپنے دفتر آتے ہیں اور چند ہی گھنٹے گزار کر گورنر ہاوس تیراکی کیلئے چلے جاتے ہیں۔

(جاری ہے)

وزیراعلی اپنے دفتر میں چند ہی ملاقاتیں کرتے ہیں۔

محمد مالک کا کہنا ہے کہ پنجاب کی بیوروکریسی عثمان بزدار سے بہت خوش ہے۔ پنجاب کی بیوروکریسی کا کہنا ہے کہ وہ خوش ہیں کہ ان پر سختی کرنے والا ڈانٹ ڈپٹ کرنے والا کوئی نہیں ہے۔ ان کا جیسے جو دل چاہتا ہے وہی کرتے ہیں۔ دوسری جانب سینئر صحافی رانا عظیم کا کہنا ہے کہ حکومت فیصلہ کرچکی ہے کہ اب کچھ سخت اسٹیپ لینے ہیں۔جس میں سب سے پہلے پنجاب میں تبدیلی آئے گی۔

پنجاب میں ایک سینئر وزیر کی تعیناتی کی جائےگی۔ہوسکتا ہے ان کا تعلق پنجاب یا لاہور سے ہو۔اس حوالے سے میاں اسلم اقبال اور خسرو بختیار کے بھائی کا نام بھی سامنے آ رہا ہے۔ان دونوں میں سے کسی ایک کو وزیراعلی بنایا جائے گا۔رانا عظیم نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان پہلی بار وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار سے مطمئن نظر نہیں آ رہے اور انہوں نے اپنے قریبی حلقوں میں کہنا شروع کر دیا ہے کہ مجھےوہ رسپانس نہیں ملا جو مجھے چاہیے تھا۔

اب جو بھی وزیر اعلیٰ بنایا جائے گا اسے مکمل اختیارات دئیے جائیں گے۔واضح رہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار اکثر تنقید کی زد میں رہتے ہیں۔زیر اعلیٰ بننے کے بعد عثمان بزدار نے کئی بار ایسے کام کیے جو میڈیا پر خبروں کی زینت بن جاتے ہیں۔ جہاں ایک طرف عثمان بزدار پروٹوکول کے اصولوں سے لاعلم ہیں وہیں ان پر یہ بھی الزام عائد کیا جاتا ہے کہ وہ فائلیں تک نہیں پڑھ سکتے۔

وزیراعظم عمران خان کو عثمان بزدار کو پنجاب کا وزیر اعلیٰ بنانے پر بھی تنقید کا سامنا رہتا ہے۔ اسی حوالے سے معروف صحافی ارشاد بھٹی کا کہنا ہے کہ پنجاب آدھا پاکستان ہے،جہاں آپ نے اگلی جنگ لڑنی ہے،جہاں تبدیلی لانی ہے ،جہاں مسلم لیگ کا گڑھ ہے جہاں آپکا شریفوں سے مقابلہ ہے،ایسے صوبے میں عثمان بزدار جیسے بنے کو وزیر اعلیٰ کیسے لگایا جا سکتا ہے۔

نہ سڑکیں ہیں نہ ہی کوئی اور سہولتیں،عوام تو لٹ چکی ہے۔جب کہ اسی پر گفتگو کرتے ہوئے معروف تجزیہ نگار عمران خان کا کہنا ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے جو پنجاب کی حالت کی ہے اگار آج پنجاب میں الیکشن کروائے جائیں تو تحریک انصاف 20 فیصد سیٹیں بھی نہیں جیت سکے گی.عمران خان نے مزید کہا کہ میں چیلنج کرتا ہوں کہ پنجاب میں الیکشن کروایا گیا تو پی ٹی آئی بیس سیٹیں بھی نہیں جیت سکے گی۔
ڈیجیٹل پاکستان کی بنیاد سے متعلق تازہ ترین معلومات