کراچی ڈیفنس میں لڑکی کے اغواء میں اہم پیشرفت

حارث کو لگنے والی گولی کا خول مل گیا، پولیس نے گولی کے خول کو قبضے میں لے کرتحقیقات شروع کردیں، حارث کو واقعے کے دوران گردن میں گولی لگی تھی۔ پولیس حکام

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ اتوار دسمبر 23:20

کراچی ڈیفنس میں لڑکی کے اغواء میں اہم پیشرفت
کراچی (اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ یکم دسمبر 2019ء) پولیس کو کراچی ڈیفنس میں لڑکی کے اغواء میں اہم پیشرفت ہوئی ہے، حارث کو لگنے والی گولی کا خول مل گیا، حارث کو واقعے کے دوران گردن میں گولی لگی تھی، حارث تشویشناک حالت میں ہسپتال میں زیرعلاج ہے۔ تفصیلات کے مطابق کراچی ڈیفنس میں لڑکی دعا کے اغواء میں تفتیشی ٹیم کو اہم پیشرفت ہوئی ہے۔ پولیس حکام کو حارث کو لگنے والی گولی کا خول مل گیا۔

پولیس نے گولی کے خول کو قبضے میں لے کرتحقیقات شروع کردی ہیں۔ اسی طرح تفتیشی افسران نے چائے خانہ کے ویٹر سے بھی تفتیش کی ہے، ویٹر نے پولیس کو بتایا کہ لڑکا اور لڑکی گزشتہ چار ماہ سے یہاں آرہے تھے، حارث اور دعا کے درمیان کبھی منفی سرگرمیاں محسوس نہیں ہوئیں۔ان کے ساتھ اکثرایک خاتون بھی آتی تھیں۔

(جاری ہے)

حارث اور لڑکی دعا یہاں آتے تھے چائے پیتے ،کبھی کھانا کھا کر چلے جاتے تھے، جب بھی آتے دوتین گھنٹے بیٹھتے تھے ،ہم نے ان میں کبھی کوئی بری بات نہیں دیکھی۔

ان کا بیک گراؤنڈ اچھے خاندان سے نظر آتا تھا۔کبھی ہمارے ساتھ بھی بدتمیزی نہیں کی۔ دوسری جانب آئی جی سندھ پولیس نے کراچی ڈیفنس میں گن پوائنٹ پر اغواء کی گئی لڑکی کو فوری بازیاب کروانے کا حکم دے دیا ہے،انہوں نے واقعے کی تمام تفصیلات طلب کرتے ہوئے خصوصی تحقیقاتی ٹیم بھی تشکیل دے دی، لڑکی کوڈی ایچ اے بخاری کمرشل ایریاسے اغواء کیا گیا اور دوست حارث کو گردن میں فائر کرکے شدید زخمی کردیا گیا تھا، لڑکی کے اغواء میں چارسال پرانے ماڈل کی گرے رنگ کی کار استعمال کی گئی۔

پولیس حکام کے مطابق کراچی ڈی ایچ اے بخاری کمرشل ایریا سے گن پوائنٹ پراغواء کی جانیوالی لڑکی کا درخشان تھانے میں مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔ ایف آئی آر میں اقدام قتل اور اغواء کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔ درخواست زخمی نوجوان حارث کے والد کی مدعیت میں درج کی گئی ہے۔ پولیس اور رینجرز نے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ تفتیشی ٹیم نے جائے وقوعہ کی جیو فینسنگ کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔

کراچی ڈیفنس میں اغواء کے واقعے کی تیسری سی سی ٹی وی فوٹیج بھی سامنے آگئی ہے۔ فوٹیج میں واردات میں استعمال ہونے والی گاڑی کی شناخت بھی ممکن ہوگئی ہے،اغوا ہونے والی لڑکی دعا اور حارث کو گلی سے گزرتے دیکھا جا سکتا ہے، گلی کے کونے پر سکیورٹی گارڈ اور رکشہ ڈرائیور بھی موجود تھے۔ سیکیورٹی گارڈ فائرنگ کی آواز سن کر گلی میں جاتا ہے، اسی دوران ایک کار کو تیزی سے مڑتے بھی دیکھا جاسکتا ہے۔

اسی طرح حارث کی فیملی نے پولیس کو بتایا کہ وہ اپنے دوست سے ملنے جارہا تھا،جب اس پر فائرنگ کی گئی۔ معلوم ہوا ہے کہ واقعے میں زخمی حارث اور غواء ہونے والی لڑکی ہوٹل میں چائے پینے کے بعد اسی علاقے میں گھوم پھر رہے تھے کہ اچانک اغواء کاروں نے ان پر حملہ کردیا، اغواء کاروں کی فائرنگ سے لڑکا حارث زخمی ہوگیا اور لڑکی کو گن پوائنٹ پر اغواء کرلے گئے۔

زخمی حارث کو ابتدائی طور پرطبی امداد کیلئے نیشنل میڈیکل سنٹر لے جایا گیا، بعدازاں لڑکے کو آغا خان یونیورسٹی ہسپتال منتقل کردیا گیا۔واقعے کے بعد سینئر پولیس آفیسر جن میں ڈسٹرکٹ ساؤتھ آپریشنزآفیسرزاور ایس ایس پی انوسٹی گیشن جائے وقوعہ پر پہنچے اور شواہد اکٹھے کیے۔ پولیس نے واقعے کی تحقیقات سی سی ٹی وی فوٹیج کے ذریعے بھی کررہی ہے، ایک رکشہ ڈرائیور نے واقعے کو آنکھوں سے دیکھنے کا دعویٰ بھی کیا ہے۔ تاہم پولیس حکام واقعے کی تحقیقات کیلئے زخمی لڑکے حارث اور اغواء ہونے والی لڑکی کے والدین اوران کے دوستوں سے بھی پوچھ گچھ کررہے ہیں۔