علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی 51 شہروں میں لائف لانگ لرننگ انسٹی ٹیوٹس اور اے آئی او یو اوپن سکولز قائم کرنے کی تجاویز پر غور کررہی

وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ضیاء القیوم کا تربیتی ورکشاپ کے افتتاحی اجلاس سے خطاب

پیر دسمبر 16:22

علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی 51 شہروں میں لائف لانگ لرننگ انسٹی ٹیوٹس ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 دسمبر2019ء) علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ضیاء القیوم نے کہا ہے کہ یونیورسٹی لوگوں کو باعزت روزگار اور انفرادی و اجتماعی زندگیوں میں مثبت تبدیلی لانے کے حامل ہنر کی بنیاد پر تعلیم( جس سے لوگوں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافہ ہو )کے تصور اور آئوٹ آف سکول بچوں کو تعلیمی نیٹ میں شامل کرنے کی عرض سے ملک کی51 شہروں میں لائف لانگ لرننگ کے انسٹیٹیوٹس اور اے آئی او یو اوپن سکولز قائم کرنے کی تجاویز پر غور کررہی ہے کیونکہ تمام عمر کے افراد کو تعلیمی نیٹ میں شامل کرانے کے لئے اقدامات یونیورسٹی کا مینڈیٹ ہے۔

ان خیالات کا اظہار انھوں نے خاندانی اور انٹرجنریشن خواندگی اور تعلیم کے موضوع پر پانچ روزہ تربیتی ورکشاپ کی افتتاحی اجلاس سے خطاب میں کیا۔

(جاری ہے)

انھوں نے کہا کہ یہ لمحہ فکریہ ہے کہ بھرپور کوششوں کے باوجود ہم اب تک صرف 9 فیصد لوگوں کو اعلیٰ تعلیم تک پہنچاسکے ہیں، شرح خواندگی میں اضافہ اور آئوٹ آف سکول بچوں کو نیٹ میں لانا صرف حکومت کی نہیں بلکہ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے، جب تک ملک کے سارے سٹیک ہولڈرز اور جامعات مل کر اپنے اپنے حصے کا کام نہیں کریں گے ہم ایس ٹی جی کے مقرر ہ اہدف حاصل نہیں کرسکتے ۔

وائس چانسلر نے اس پانچ روزہ ورکشاپ کے نتیجے میں شرح خواندگی بڑھانے کے لیے روڈ میپ مرتب کرنے کے ساتھ ایکشن پلان تیار کرنے کی امید کا اظہار بھی کیا۔انہوں نے کہا کہ ورکشاپ کی قابل عمل تجاویز پر عمل درآمد کے لیے اوپن یونیورسٹی کا انفراسٹرکچر اور دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔یونیسکوانسٹی ٹیوٹ فار لائف لانگ لرننگ کی نمائندہ ،ْ ڈاکٹر جمیلہ رزاق نے پاکستان میں لٹریسی ریٹ بڑھانے کے لئے یونیسکو کی خدمات بارے آگاہ کیا۔

انہوں نے یونیسکو کی کوالٹی ایجوکیشن ،ْ ایڈلٹ لٹریسی ،ْ صلاحیتوں کی تعمیر ،ْ پروفیشنل ڈویلپمنٹ ،ْ آن لائن ٹریننگ ،ْ ایڈووکیسی اینڈ نیٹ ورکنگ ،ْ پبلیکیشنز اور لائبریری سہولتوں پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ڈاکٹر جمیلہ نے کہا کہ یونیسکو نے مختلف ممالک میں لائف لانگ لرننگ پروگرام ترتیب دیا ہے اور جنوبی ایشیاء میں اِس پروگرام کا آغاز پاکستان سے کررہے ہیں جس کے لئے یونیسکو نے ملک گیر نیٹ ورک کی وجہ سے اوپن یونیورسٹی کا انتخاب کیا ہے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈین فیکلٹی آف ایجوکیشن پروفیسر ڈاکٹر ناصر محمود نے کہا کہ ہر علاقے کی ضرورتوں کے حصاب سے فنگشنل لٹریسی پروگرامز ڈیزائن کرنے کی ضرورت ہے جس سے پسماندہ علاقوں کے عوام کو مرکزی دھارے میں شامل کرانے کا راستہ کھل جائے گا۔شعبہ غیر رسمی و جاریہ تعلیم کے چیئرمین ڈاکٹر محمد اجمل چوہدری نے ورکشاپ کے اغراض و مقاصد بیان کیے اور ورکشاپ میں شرکت کرنے والے کے پی کے ،ْ سندھ ،ْ کوئٹہ ،ْ بلوچستان ،ْ گلگت بلتستان ،ْ یونیسکو ،ْجائیکا اور دیگر پارٹنرز اداروں کے نمائندوں کا فرداً فرداً شکریہ ادا کیا۔