آرمی چیف کی جانب سے نقیب اللہ محسود کے والد کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار

اللہ تعالیٰ محمد خان کو جنت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، انصاف کی فراہمی یقینی بنانے کیلئے مرحوم سے کیا گیا وعدہ پورا کیا جائےگا: جنرل قمر باجوہ

muhammad ali محمد علی پیر دسمبر 22:42

آرمی چیف کی جانب سے نقیب اللہ محسود کے والد کے انتقال پر گہرے رنج و غم ..
راولپنڈی (اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 دسمبر 2019ء) آرمی چیف کی جانب سے نقیب اللہ محسود کے والد کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار، جنرل قمر باجوہ کا کہنا ہے کہ اللہ تعالیٰ محمد خان کو جنت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، انصاف کی فراہمی یقینی بنانے کیلئے مرحوم سے کیا گیا وعدہ پورا کیا جائےگا۔ تفصیلات کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر باجوہ کی جانب سے نقیب اللہ محسود کے والد کے انتقال کی خبر پر ردعمل دیا گیا ہے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر سے جاری بیان کے مطابق نقیب اللہ محسودکےوالدمحمدخان کےانتقال پرآرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ افسوس کا اظہار کیا ہے۔ آرمی چیف کا کہنا ہے کہ اللہ تعالیٰ محمد خان کو جنت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔

(جاری ہے)

آرمی چیف نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ انصاف کی فراہمی یقینی بنانے کیلئے مرحوم سے کیا گیا وعدہ پورا کیا جائےگا۔

واضح رہے کہ مبینہ پولیس مقابلے میں جاں بحق ہونے والے نقیب اللہ محسود کے والد پیر کے روز انتقال کر گئے۔ ذرائع کے مطابق نقیب اللہ محسود کے والد محمد خان شہید کئی ماہ سے کینسر کے مرض میں مبتلا تھے۔وہ راولپنڈی کے اسپتال میں زیر علاج تھے۔محمد خان شہید کی تدفین ان کے آبائی علاقے میں کی جائے گی۔خیال رہے کہ گذشتہ سال جنوری میں سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار نے نقیب اللہ کو تین ساتھیوں سمیت پولیس مقابلے میں ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا اور نقیب اللہ کا تعلق شدت پسند تنظیموں داعش اور لشکر جھنگوی سے ظاہر کیا تھا۔

لیکن بعد ازاں یہ انکشاف ہوا کہ یہ ان کاؤنٹر جعلی تھا۔ نقیب کے اہل خانہ نے ان الزامات کو مسترد کیا جس کے بعد ملک بھر میں نقیب اللہ کی ہلاکت کے خلاف مظاہرے ہوئے۔ اسی روز سندھ کے وزیر داخلہ نے اس مبینہ پولیس مقابلے کی تحقیقات کا حکم دیا۔ 19 جنوری کو سپریم کورٹ نے اس معاملے کا ازخود نوٹس لیا۔ 20 جنوری کو راؤ انوار کو ملازمت سے معطل کر دیا گیا جس کے بعد وہ روپوش ہو گئے۔

4 فروری کو پشتون قبائل نے راؤ انوار کی عدم گرفتاری کے خلاف اسلام آباد میں دھرنا دیا جو ایک ہفتے تک جاری رہا۔جبکہ 21 مارچ کو راؤ انوار سپریم کورٹ کے سامنے پیش ہو گئے اور انہیں گرفتار کر لیا گیا تاہم اب وہ ضمانت پر ہیں۔واضح رہے کہ نقیب اللہ محسود کے والد نے بیرونی عناصر کے ایجنڈے کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ کہ نقیب اللہ کے قتل پر کچھ لوگ سیاست کر رہے ہیں لیکن میں نے کسی کو بیٹے کے قتل پر سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی۔

انہوں نے کہا کہ نقیب کے نام پر فنڈز جمع کرنے والوں کو کسی طور اجازت نہیں دی۔ مجھے پاکستان کی عدالتوں اور انصاف پر پورا یقین ہے۔انہوں نے کہا تھا کہ ۔ جو فوج کے خلاف بات کررہے ہیں وہ دراصل پاکستان کے خلاف ہیں۔ پاک فوج کی اپنے علاقے میں موجودگی کی حمایت کرتے ہیں۔ نقیب اللہ کے والد نے کہا کہ چند لوگوں کے یہ نعرے پاکستان کے خلاف ہیں۔