معاشی دہشتگردوں کیخلاف گھیرا تنگ ہونا شروع ہوگیا

معاشی دہشتگردوں کے ساتھ کسی قسم کی کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی، اربوں روپے کی بھاری ریکوری شروع ہوگئی ہے، وزیراعظم نے شہزاد اکبراور واجد ضیاء کو منی لانڈرنگ اور سائبرکرائم میں ملوث افراد کیخلاف کاروائی کی ذمہ داری سونپ دی۔ سینئر صحافی صابرشاکر

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ منگل دسمبر 21:49

معاشی دہشتگردوں کیخلاف گھیرا تنگ ہونا شروع ہوگیا
اسلام آباد (اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔03 دسمبر 2019ء) سینئر صحافی صابرشاکر نے کہا ہے کہ معاشی دہشتگردوں کیخلاف گھیرا تنگ ہونا شروع ہوگیا ہے، معاشی دہشتگردوں کے ساتھ کسی قسم کی کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی، پہلی بار ہوا ہے کہ بیرون ملک سے ریکوری آنا شروع ہوگئیں،وزیراعظم نے شہزاداکبراور واجد ضیاء کو منی لانڈرنگ اور سائبرکرائم میں ملوث افراد کیخلاف کاروائی کی ذمہ داری سونپ دی ہے۔

انہو ں نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ لاہور میں گورننس کی بہتری کیلئے وزیراعظم عمران خان آئے تھے ، گورننس کا ایسا ماحول جس کا آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے اعلان کیا تھا۔ کہ معاشی دہشتگردوں کے ساتھ کسی قسم کی کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی۔ آج ایسے عملاً اقدامات ہوئے ہیں، جس سے لگتا ہے کہ معاشی دہشتگردوں کے خلاف گھیرا تنگ ہونا شروع ہوگیا ہے، ان سے اربوں روپے کی بھاری رقوم کی ریکوری کا عمل بھی شروع ہوگیا ہے۔

(جاری ہے)

یہ پہلی بار ہوا ہے کہ بیرون ملک سے ریکوری ہورہی ہے۔ اسی طرح خبریں تھیں کہ احتساب کا عمل رک گیا ہے، ریکوری نہیں ہورہیں، وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی شہزاد اکبر کو فارغ کیا جارہا ہے لیکن اس کے بالکل الٹ ہوگیا ہے، وزیراعظم ان کو مزید عہدہ دے دیا ہے۔ ان کو معاون خصوصی برائے داخلہ کی ذمہ داری بھی سونپ دی ہے۔ کل وزیراعظم عمران خان سے نئے ڈی جی ایف آئی اے واجد ضیاء نے ملاقات کی۔ ان کو پانامہ کیس میں ہرطرح کی مراعات دینے آفر کی گئی، لیکن انہوں نے مسترد کردی۔ وزیراعظم نے معاون خصوصی داخلہ و احتساب شہزاد اکبر اور ڈی جی ایف آئی اے واجد ضیاء کو ذمہ داری دی ہے کہ دونوں نے ملکر منی لانڈرنگ اور سائبرکرائم میں ملوث افراد کیخلاف کاروائی کرنی ہے۔