قومی خزانے میں تقریباً 2 ارب ڈالرز کا اضافہ

2018 میں اسٹیٹ بینک کے ذخائر 7 ارب ڈالرز کی سطح پر تھے جو اب 9 ارب 11 کروڑ ڈالرز کی سطح پر پہنچ گئے

ہفتہ دسمبر 20:30

قومی خزانے میں تقریباً 2 ارب ڈالرز کا اضافہ
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 07 دسمبر2019ء) قومی خزانے میں تقریباً 2 ارب ڈالرز کا اضافہ، 2018 میں اسٹیٹ بینک کے ذخائر 7 ارب ڈالرز کی سطح پر تھے جو اب 9 ارب 11 کروڑ ڈالرز کی سطح پر پہنچ گئے۔ تفصیلات کے مطابق تجارتی خسارہ میں کمی، ادائیگیوں کے توازن ، غیر ملکی قرضوں میں کمی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ سے سٹیٹ بینک آف پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ قومی معیشت کے استحکام کا عکاس ہے جو گزشتہ آٹھ ماہ کی بلند ترین سطح 9.112 ارب ڈالر پر پہنچ گئے ہیں۔

8 ماہ قبل اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر 7 ارب ڈالرز کی سطح تک گر گئے تھے۔ تجزیہ کار یعقوب ابوبکر نے اس حوالے سے کہا ہے کہ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران ملک کے تجارتی خسارہ میں کمی اور ادائیگیوں کے توازن کے ساتھ ساتھ واجب الادا قرضوں کے حجم میں کمی اور غیر ملکی سرمایہ کاری بڑھنے سے زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ خوش آئند ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ یہ بات قابل ذکر ہے کہ رواں ہفتہ کے دوران پاکستان نے سکوک بانڈز کی میچورٹی پر بغیر کسی غیر ملکی امداد کے ایک ارب ڈالر کی ادائیگیاں کی ہیں جس سے بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے معاشی استحکام کا بہتر پیغام گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مستقبل قریب میں قومی معیشت میں مزید بہتری کے واضح امکانات موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ سے بین الاقوامی برادری میں پاکستان کی تیزی سے مستحکم ہوتی ہوئی معیشت کے حوالے سے بہتر تشخص ابھرا ہے جس سے پاکستانی روپے میں مزید استحکام آئے گا اور پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ جولائی تا نومبر 2019ء کے دوران جاری کھاتوں کا خسارہ صرف 1.5 ارب ڈالر رہا ہے اور جون 2019 ء کے بعد پاکستانی روپے کی قدر میں 5.6 فیصد کی بہتری معاشی استحکام کی عکاسی کرتی ہے۔ ادھر ٹاپ لائن سیکورٹیز کے سی ای او محمد سہیل نے کہا کہ زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ پاکستانی روپے اور ملک میں سرمایہ کاری کے کلچر کے حوالے سے خوش آئندہے۔ انہوں نے کہا کہ شارٹ ٹرم ٹریژری بلز اور پاکستان انویسٹمنٹ بانڈز میں سرمایہ کاری رواں مالی سال کے دوران ایک ارب ڈالر سے بڑھی ہے جو شرح سود میں کمی اور پاکستانی روپے کی قدر میں استحکام کی بنیاد ثابت ہوگی۔