کپاس کی چھڑیاں31جنوری تک کاٹ کر استعمال کر لی جائیں، ترجمان محکمہ زراعت پنجاب

منگل جنوری 20:22

ملتان ۔14جنوری(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 14 جنوری2020ء) کپاس کی فصل پر گلابی سنڈی کے حملہ کے پیش نظر موسم سرما کے دوران موثر حکمت عملی اپنا کرکپاس کی فصل کونقصان سے بچایا جا سکتا ہے۔ محکمہ زراعت کے ترجمان کے مطابق گلابی سنڈی موسم سرما ،جڑے ہوئے بیجوں، چھڑیوں پر بچے کھچے ٹینڈوں اور جننگ فیکٹریوں کے کچرے میں خوابیدہ حالت میں گزارتی ہے۔

سرمائی نیند سوئی ہوئی سنڈیوں کے پروانے بننے کا انحصار زیادہ تر درجہ حرارت پر ہے۔ مناسب درجہ حرارت میسر آنے پروہ پروانے بننا شروع ہو جاتے ہیں جو فصل کو نقصان پہنچاتے ہیں۔کاشتکار موسم سرما کے دوران موثرحکمت عملی اپنا کرآئندہ آنے والی کپاس کی فصل کو گلابی سنڈی کے نقصان سے محفوظ رکھ سکتے ہیں۔کپاس کی چنائی مکمل ہونے پر اًن کھلے اورمتاثرہ ٹینڈے اچھی طرح توڑ لیے جائیں بعد ازاں ٹینڈوں کو دھوپ میں پھیلاکر پوری طرح کھلنے کے بعد پھٹی کو الگ کر لیا جائے اور بچے ہوئے مواد کوتلف کر دیں۔

(جاری ہے)

آخری چنائی کے بعد کھیتوں میں بھیڑبکریاں چرائیں تاکہ کچے ٹینڈے جانوروں کی خوراک بن سکیں اور گلابی سنڈی کے لاروے کا خاتمہ ہو سکے۔جن کھیتوں میں کپاس کی فصل پر گلابی سنڈی کا حملہ ہوا ہو وہاں گرے ہوئے ٹینڈے تلف کرنے کے بعد کھیتوں کو روٹاویٹ کر دیاجائے تا کہ بچے ہوئے مواد میں سے موجود سنڈیا ں تلف ہو جائیں۔کپاس کی چھڑیاں31جنوری تک کاٹ کر استعمال کر لی جائیں اورڈھیرلگاتے وقت چھوٹے گٹھوں کی حالت میں اس طرح رکھیں کہ چھڑیوں کے مڈھ نچلی طرف ہوں تاکہ دھوپ کی وجہ سے ان چھڑیوں میں موجود سنڈیاں اور لارواتلف ہو جائیں۔

متعلقہ عنوان :