سعودی عرب کے مشہور تفریحی مقام پر جانے والے سیاحوں کو بُری خبر سُنا دی گئی

جدہ کورنیش کے ساحل پر باتھ رُومز استعمال کرنے پر 7 ریال کی بھاری رقم ادا کرنا ہو گی

Muhammad Irfan محمد عرفان جمعہ جنوری 12:41

سعودی عرب کے مشہور تفریحی مقام پر جانے والے سیاحوں کو بُری خبر سُنا ..
جدہ (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 24 جنوری 2020ء) جدہ کورنیش کا شمار نہ صرف سعودی عرب بلکہ دُنیا بھر کے مشہور ساحلی مقامات میں ہوتا ہے۔ یہاں پر تفریح کی غرض سے ہزاروں افراد آتے ہیں، جن میں سعودیوں کے علاوہ تارکین وطن اور سیاحت پر آئے لوگ بھی شامل ہیں۔ یہاں کے سمندر کا نیلا اور شفاف پانی دیکھنے والوں کو اپنی جانب کھینچ لیتا ہے، جبکہ خوبصورت طرز تعمیر والے ہوٹلز، ریسٹورنٹ اور تفریحی پوائنٹس بھی اپنی مثال آپ ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ یہاں پر آنے والے لوگ ایک بار آنے کے بعد بار بار آتے ہیں۔ تاہم اب جدہ کورنیش پر آنے والوں کو اپنی جیب میں زیادہ ریال رکھ کر آنے ہوں گے۔ روزنامہ المدینہ کے مطابق جدہ میونسپلٹی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کہ آئندہ سے جدہ کورنیش پر بنے باتھ رومز استعمال کرنے پر 7 ریال ادا کرنا ہوں گے۔

(جاری ہے)

میونسپلٹی کے مطابق 7 ریال کی فیس اسمارٹ باتھ رُومز کے لیے ہو گی، جبکہ پُرانے طرز کے باتھ رُومز کے استعمال پر 3 ریال فی کس کے حساب سے وصول کیے جائیں گے۔

بلدیہ کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ جدہ کورنیش پر تفریح کی غرض سے روزانہ افراد آتے ہیں، جن کی سہولت کی خاطر 10 پُرانی طرز کے اور 8 اسمارٹ باتھ رُومز موجود ہیں۔ پہلے یہ باتھ رُومز بلدیہ کے زیر انتظام تھے، تاہم کچھ مسائل کی وجہ سے اسے نجی شعبے کے حوالے کیا جا رہا ہے، تاکہ سیاحوں کو پریشانی کی سامنا نہ کرنا پڑے۔ اس مقصد کے لیے جلد ٹینڈرز بھی طلب کیے جائیں گے۔

بلدیہ کے ذرائع کے مطابق نئی طرز کے سمارٹ بیت الخلاء میں پری پیڈ کارڈ کے ذریعے بھی داخل ہوا جا سکتا ہے۔ باتھ رُوم میں داخل ہونے اور یہاں سے باہر نکلنے کے لیے الگ الگ دروازے بنائے گئے ہیں۔ یہاں پر گرم اور ٹھنڈے پانی کی سہولت کے علاوہ گیلے ہاتھوں کو خشک کرنے کے لیے ایئربلوورز کی سہولت بھی موجود ہے۔ بلدیہ کے اس فیصلے پر مقامی افراد کے ساتھ ساتھ تارکین نے بھی ناراضی کا اظہار کیا ہے۔

جدہ کورنیش پر اپنی فیملی کے ساتھ آئے ایک پاکستانی محمد اسلم کا کہنا تھا کہ مقامی افراد کے لیے تو 7 ریال کی ادائیگی کوئی بڑی بات نہیں، تاہم تارکین وطن کی تنخواہیں زیادہ نہیں ہوتیں، اور اگر وہ اپنی فیملی کے ساتھ یہاں آتے ہیں تو باتھ رُوم کے استعمال کی صورت میں اُن کی جیب سے اچھی خاصی رقم نکل جائے گی۔ انتظامیہ کو اسمارٹ باتھ رُومز کی مجوزہ فیس پر نظر ثانی کرنی چاہیے تاکہ لوگوں کو یہاں پر تفریح کرنا مہنگا شغل محسوس نہ ہو۔