شفقت محمود کا ملک بھر میں تمام تعلیمی ادارے 15 ستمبر سے کھولنے کااعلان

جولائی کے دوسرے ہفتے سے ایس او پیز کے تحت فنی تعلیم اور مدارس کو امتحانات لینے کی اجازت ہو گی، مدارس کوبھی امتحانات لینے کی اجازت ہوگی،عید کے بعد یونیورسٹیاں 30 فیصد طلباء کو ہاسٹلز میں رکھ سکیں گی ،ادارے اپنے اساتذہ کو بلا سکتے ہیں، ایس او پیز کے حوالے سے ٹائم ٹیبل طے کریں،اساتذہ اور انتظامی دفاتر کھولنے کی اجازت ہو گی تاہم اگر معاملات ٹھیک نہ ہوئے تو پندرہ ستمبر کو بھی نہیں کھلیں گے، وزیر تعلیم کی پریس کانفرنس

جمعرات 9 جولائی 2020 16:25

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 09 جولائی2020ء) وفاقی وزیر تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت شفقت محمود نے ملک بھر میں تمام تعلیمی ادارے 15 ستمبر سے کھولنے کااعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ جولائی کے دوسرے ہفتے سے ایس او پیز کے تحت فنی تعلیم اور مدارس کو امتحانات لینے کی اجازت ہو گی، مدارس کوبھی امتحانات لینے کی اجازت ہوگی،عید کے بعد یونیورسٹیاں 30 فیصد طلباء کو ہاسٹلز میں رکھ سکیں گی ،ادارے اپنے اساتذہ کو بلا سکتے ہیں، ایس او پیز کے حوالے سے ٹائم ٹیبل طے کریں،اساتذہ اور انتظامی دفاتر کھولنے کی اجازت ہو گی تاہم اگر معاملات ٹھیک نہ ہوئے تو پندرہ ستمبر کو بھی نہیں کھلیں گے ۔

جمعرات کو یہاں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوںنے بتایاکہ گزشتہ روز بین الصوبائی وزراء تعلیم کانفرنس ہوئی جس میں تعلیمی ادارے کھولنے امتحانات کے ایشوز پر بحث ہوئی،اتفاق رائے سے طے سفارشات این سی او سی کے سامنے رکھے۔

(جاری ہے)

انہوںنے کہاکہ تعلیمی ادارے پندرہ ستمبر سے کھل جائیں گے،یونیورسٹیز سمیت تعام.سکولز اور کالجز شامل ہیں،اگست کے پہلے اور تیسرے ہفتے میں صحت کے انڈیکیٹرز پر نظرثانی کریں گے۔

انہوںنے کہاکہ دو سے تین بار مزید مشاورت کریں گے،اگر معاملات ٹھیک نہ ہوئے تو پندرہ ستمبر کو بھی نہیں کھلیں گے،ادارے کھلے تو مختلف ایس او پیز بنائیں گے،کلاسز کو تقسیم، ایک کلاس روزانہ بلانے سمیت متعدد تجاویز ہیں،بڑی کلاسز کو پہلے بلایا جائے چھوٹی کلاسز بعد میں بلانے کی تجاویز ہیں۔ وفاقی وزیر نے کہاکہ صوبوں سے ایس او پیز طلب کیے ہیں جس پر وفاقی سطح پر طے کریں گے،ادارے اپنے اساتذہ کو بلا سکتے ہیں، ایس او پیز کے حوالے سے ٹائم ٹیبل طے کریں،اساتذہ اور انتظامی دفاتر کھولنے کی اجازت ہو گی،یونیورسٹیز سکالرز جو ریسرچ لیبارٹریز استعمال کرنا چاہیں ان کو بلا سکتے ہیں۔

انہوںنے کہاکہ انٹرنیٹ سہولت نہ ہونے والے علاقوں میں طلباء کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوںنے کہاکہ عید کے بعد یونیورسٹیز اپنے طلباء کو ہاسٹلز میں بلا سکتی ہیں، ایسے طلباء جن کو انٹرنیٹ کی سہولت میسر نہیں۔ انہوںنے کہاکہ جو ریسرچ لیبارٹریز تک رسائی چاہتے ہیں ان بچوں کو یونیورسٹی اپنے ایس او پیز کے تحت یونیورسٹی 15 ستمبر سے پہلے بلا سکتی ہے ۔

انہوںنے کہاکہ یونیورسٹی میں آن لائن تعلیمی سسٹم شروع ہوا تھا اس سے بہت سے دور دراز کے بچوں کو بہت مشکلات پیش آئی ،یونیورسٹی کو اجازت دی ہے کہ دور دراز کے علاقوں کے طالبہ کو اپنے ہاسٹلز میں بلا سکتے ہیں ،مکمل ایس او پیز کے تحت ہاسٹلز میں ان بچوں کو رکھا جاے گا ،عید کے بعد یونیورسٹی کو یہ اختیار دیا جائیگا 30 فیصد بچوں کو ہاسٹلز میں رکھ سکتے ہیں ،ان تمام بچوں استادزہ کا میڈیکل ٹسٹ کے بعد ان کو اجازت دی جاے گی کہ وہ اداروں میں داخل ہوں۔

وفاقی وزیر نے کہاکہ جولائی کے دوسرے ہفتے سے فنی تعلیم کے امتحانات لینے کی اجازت ہو گی۔ انہوںنے کہاکہ مدارس کو بھی امتحانات کی اجازت ہو گی،ایڈمیشن ٹیسٹ کا انعقاد بھی تین حصوں میں کریں،چھ فٹ کا فاصلہ رکھا جائے گا، اگر ایس او پیز پر عملدرآمد نہ ہوا تو امتحانات روک دیے جائیں گے انہوں نے کہا کہ وہ نجی تعلیمی اداروں کی مالی مشکلات سے آگاہ ہیں ان کے لیے مختلف تجاویز زیر غور ہیں جن پر فیصلہ جلد ہو جائے گا۔

متعلقہ عنوان :