کرکٹ کرپشن پر 10 برس قید اور 10 لاکھ روپے جرمانہ ہوگا، قانونی مسودہ تیار

ملوث افراد پر فوجداری مقدمات قائم ہوں گے

Zeeshan Mehtab ذیشان مہتاب جمعہ 10 جولائی 2020 11:43

کرکٹ کرپشن پر 10 برس قید اور 10 لاکھ روپے جرمانہ ہوگا، قانونی مسودہ تیار
لاہور (اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔10جولائی 2020ء ) کرکٹ کرپشن پر 10 برس قید اور 10 لاکھ روپے جرمانے کی تجویز، ملوث افراد پر فوجداری مقدمات قائم ہوں گے، پاکستان کرکٹ بورڈ نے کرپشن کے خاتمے کے لیے حکومت کو قانون کا مسودہ منظوری کے لیے بھیج دیا۔ پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے کرپشن کے خاتمے کے لیےحکومت پاکستان کو جس قانون کا مسودہ منظوری کے لیے بھیجا ہے اس میں تجویز دی گئی ہے کہ کسی شخص پر کرکٹ کرپشن کا الزام ثابت ہوجائے تو اس پر 10 لاکھ روپے تک جرمانہ اور 10 سال تک قید کی سزا دی جاسکتی ہے۔

پی سی بی کی یہ خفیہ دستاویز وزیر اعظم عمران خان کو چیئرمین پی سی بی احسان مانی نے دی تھی جسے اب کھیلوں کی وزارت کو بھیجا گیا ہے۔ اس قانون کو پارلیمنٹ سے منظور کرانے کے بعد کھلاڑیوں کے ساتھ ساتھ سٹے بازوں پر بھی فوجداری مقدمات قائم جائیں گے۔

(جاری ہے)

77 صفحات پر مشتمل اس دستاویز میں ماضی میں پاکستان اور پاکستانی کرکٹرز کے خلاف بیرون ملک میچ فکسنگ اور سپاٹ فکسنگ کی جو تحقیقات ہوئی ہیں اس کے فیصلوں کا بھی حوالہ دیا گیا ہے۔

کھلاڑیوں کے علاوہ امپائرز، میچ ریفریز اور گرائونڈ سٹاف کے جو لوگ کرپشن میں ملوث ہوں گے انہیں بھی سخت سزائیں دی جائیں گی جبکہ جوا اور سٹے بازی بھی غیر قانونی ہوگی۔ خیال رہے کہ حال ہی میں سپاٹ فکسنگ کیس میں سزا مکمل کرکے شرجیل خان قومی ٹیم میں واپس آئے ہیں تاہم محمد حفیظ سمیت متعدد کھلاڑی شرجیل کو کھلانے کی مخالفت میں پیش پیش ہیں۔

اس حوالے سے پاکستان کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ و چیف سلیکٹر مصباح نے کہا کہ اگر پی سی بی اس بارے میں حفیظ کی بات مان کر قانون سازی کر لے تو ٹھیک ہے لیکن اس وقت جو بورڈ کی پالیسی ہے اس کا احترام کرنا چاہیے، ہمارے کھلاڑی تعلیم کی کمی کی وجہ سے سنجیدہ انداز میں پیشکش پر غور نہیں کرتے ابتداء میں میرا یہ بھی یہی نظریہ تھا کہ جو غلط کام کرے اس پر ہمیشہ کے لیے پابندی لگادی جائے لیکن اس کے لیے واضح قانون بنائیں، ہم صرف رائے دے سکتے ہیں۔