پاکستان کونسل فار سوشل ویلفیئر اینڈ ہیو من رائٹس اور تحریک تکمیل پاکستان اور مقامی سو ل سوسائٹی کے زیر اہتمام منعقدہ بین الامذاھب " ہم سب کا پاکستان کانفرنس"

قیام پاکستان کو مقصد لوگوں کو مساوات کی بنیاد پر حقوق اور بنیادی سہولتیں فراہم کرنا تھا مگر ہم افسوس کہ ہم 73 سال گذرنے کے باوجود ہم قیام پاکستان کے مقاصد حاصل نہیں کر سکیں اور عوام کا ایک بڑا حصہ آج بھی غربت کی لکیر سے نیچے کی سطح پر زندگی گذارنے پر مجبور ہے قائداعظم کے ویژن کے مطابق پاکستان میں اقلیت اور اکثریت کا کو ئی تصور نہیں بلا لحاظ مذھب ہم سب پاکستانی ہیں اور پاکستان کے قیام کا بنیادی مقصد استحصال اور تفریق سے پاک ریاست کو یقینی بنانا تھا، مقررین

جمعرات اگست 22:28

سیالکوٹ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 13 اگست2020ء) قیام پاکستان کو مقصد لوگوں کو مساوات کی بنیاد پر حقوق اور بنیادی سہولتیں فراہم کرنا تھا مگر ہم افسوس کہ ہم 73 سال گذرنے کے باوجود ہم قیام پاکستان کے مقاصد حاصل نہیں کر سکیں اور عوام کا ایک بڑا حصہ آج بھی غربت کی لکیر سے نیچے کی سطح پر زندگی گذارنے پر مجبور ہے قائداعظم کے ویژن کے مطابق پاکستان میں اقلیت اور اکثریت کا کو ئی تصور نہیں بلا لحاظ مذھب ہم سب پاکستانی ہیں اور پاکستان کے قیام کا بنیادی مقصد استحصال اور تفریق سے پاک ریاست کو یقینی بنانا تھا قیام پاکستان سے لیکر آج تک پاکستان میں بسنے والی تمام مذاھب کے پیروکاروںنے استحکام پاکستان کے لیے لازوال قربانیاں دی ہیں لیکن اُس کے باوجوداقلیتوں سمیت معاشرے کے کمزور طبقات کو استحصال کا سامنا ہے اِ ن خیالات کا اظہار73 ویں یوم آزادی کے سلسلہ میں پاکستان کونسل فار سو شل ویلفیئر اینڈ ہیو من رائٹس اور تحریک تکمیل پاکستان اور مقامی سو ل سوسائٹی کے زیر اہتمام منعقدہ بین الامذاھب " ہم سب کا پاکستان کانفرنس"سے خطاب کرتے ہو ئے پاکستان کونسل فار سو شل ویلفیئر اینڈ ہیو من رائٹس کے چیئر مین محمد اعجاز نوری نے خطاب کرتے ہو ئے کیا جبکہ بشپ آف سیالکوٹ ایلون جان سموئیل اورممتاز سکھ رہنما گوروداروہ بابے دی بیری کے گرنتھی سردار جسکرن سنگھ سدھو کانفرنس کے مہمان خصوصی تھے کانفرنس سے پادری شفان ، پادری شمعون، ارشد محمود، نصیر احمد اور دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا اس موقعہ پر یوم پاکستان کے حوالے سے خصوصی کیک بھی کاٹا گیاکانفرنس سے خطاب کرتے ہو ئے محمد اعجاز نوری اور دیگر مقررین نے مزید کہا کہ پاکستان آئینی طور پر ایک اسلامی ریاست ہے اور اسلامی ریاست میں غیر مسلموں سمیت تمام شہریوں کو برابر کے حقوق اور استحصال سے پاک زندگی کی ضمانت دی گئی ہے اُنہوں نے کہا کہ اگر پاکستان کو ایک مستحکم اور باوقار ریاست بنانا ہے تو کمزور طبقات کو اُن کے بنیادی جمہوری ، آئینی اور انسانی حقوق دینا ہوں گے کیونکہ کفر کا نظام تو چل سکتا ہے لیکن جبر کا نظام نہیں چل سکتااُنہوں نے مذید کہا کہ استحکام پاکستان اور دفاع پاکستان کے لیے قومی اتحاد اداروں کی مضبوطی وقت کی اہم ضرورت ہے مقررین نے مذید کہا کہ اسلام مذہبی رواداری امن و انصاف مساوات اور احترام آدمیت کا داعی مذہب ہے اور تمام دوسر ے مذاھب کے احترام کا درس دیتا ہے مذہبی رواداری ، ایک دوسرے کے احترام اور مذہبی برداشت سے ہی ہم دہشت گردی اور انتہا پسندی سے نجات حاصل کر سکتے ہیں مقررین نے مذید کہا کہ آئین پاکستان میں بھی تما م اقلیتوں کو اکثریت کے برابر حقوق دیئے گئے اُنہوں نے کہا کہ ملک میں قیام امن، ہمہ گیر سماجی ترقی اور بین الاقوامی بحرانوںکے حل کے لیے بین الا مذائب ہم آہئنگی وقت کی ضرورت ہے اور مذہبی کشمکش کو ختم کئے بغیر کسی بھی قسم کی ترقی ممکن نہیں لہذا ضرورت اس امرکی ہے کہ مذہب کی بنیاد پر تصادم کوانسانی سوچ پر حاوی نہ ہونے دیا جائے اُنہوں نے کہا کہ پاکستان میں حقیقی تبدیلی کے لیے قائداعظم کے وژن کو فروغ دینا ہوگا تا کہ پاکستان کو حقیقی معنوں میں ایک خود مختار اورباوقارریاست بنایا جا سکے