آل سکھر اسمال ٹریڈرز اینڈ کاٹیج انڈسٹریز نے تمام بلدیاتی ٹیکسوں کو مسترد کردیا

جمعرات اگست 21:44

سکھر(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 20 اگست2020ء) آل سکھر اسمال ٹریڈرز اینڈ کاٹیج انڈسٹریز میں شامل 55 سے زائد تاجر تنظیموں نے سکھر میونسپل کارپوریشن کی جانب سے عائد کردہ نئے تمام ٹیکس مسترد کرکے نئی بلدیاتی قیادت سے مذاکرات کرنے کا اعلان کردیا اس سلسلے میں آل سکھر اسمال ٹریڈرز اینڈ کاٹیج انڈسٹریز کے بانی و قائد حاجی محمد ہارون میمن کی سربراہی میں تاجروں نے پرانا گھنٹہ گھر ہال میں منعقدہ میئر ارسلان اسلام شیخ کے ساتھ ہونے والے اجلاس میں نئے ٹیکسز پر شدید تحفظات کا اظہار کیا اور ٹھوس اعتراضات اٹھائے میئر سکھر ارسلان اسلام شیخ کا کہنا تھا کہ بلدیہ اعلیٰ سکھر کو بہتر انداز سے چلانے کیلئے نئے ٹیکس کا نفاذ ضروری ہے تاجر سکھر میونسپل کارپوریشن کے ساتھ تعاون کریں ۔

(جاری ہے)

اس موقع پر حاجی محمد ہارون میمن نے کہا کہ بلدیہ اعلیٰ سکھر کے پاس آمدنی کے بہت ذرائع ہیں دکانوں ، فلیٹس اور بورڈز کے علاوہ پانی کے بلز اور دیگر مد میں بلدیہ اعلیٰ سکھر کی آمدنی کا سلسلہ جاری ہے اس کے باوجود تاجروں پر نئے ٹیکس لگاا سراسر ظلم اور نا انصافی ہے ہم یہ نئے ٹیکس یکسر مسترد کرتے ہیں کوئی تاجر نیا ٹیکس ادا نہیں کریگا سکھر میونسپل کارپوریشن نے تاجروں کی مشاورت کے بغیر از کود جبری طور پر نئے ٹیکسز لگانے کا فیصلہ کیا جو تاجروں کو کسی صورت قبول نہیں انہوں نے کہا کہ نئے ٹیکس کے معاملے پر تاجر نئی بلدیاتی قیادت سے مذاکرات کریں گے موجودہ بلدیاتی نظام کی مدت 20 اگست 2020 کو ختم ہوچکی ہے اب نئے آنے والے بلدیاتی نمائندوں سے بات کریں گے جب تک کوئی نیا ٹیکس ادا کریں گے ۔