غربت کے خاتمے ، پائیدار ترقی کیلئے پاکستان کو چین کی دیہی اصلاحات کی پیروی کرنا ہو گی‘ پرویز حنیف

لائیو سٹاک ،ہاتھ سے بنے قالینوں اور گھریلو دستکاری کی صنعتوں کی سرپرستی سے دیہاتوں میں انقلاب برپا کیا جا سکتا ہے‘ چیئر پرسن سی ٹی آئی

ہفتہ ستمبر 11:51

اسلام آباد /لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 05 ستمبر2020ء) کارپٹ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ کے چیئر پرسن پرویز حنیف نے کہا ہے کہ غربت کے خاتمے اور پائیدار ترقی کیلئے پاکستان کو بھی چین کی دیہی اصلاحات کی پیروی کرنا ہو گی ،اقوام متحدہ کے 2030 تک پائیدار ترقیاتی ایجنڈے کے 17اہم ترین اہداف میں غربت کے خاتمے کا ہدف اولین حیثیت کا حامل ہے لیکن پاکستان کی اس جانب پیشرفت انتہائی سست روی کا شکار ہے ۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے دیہاتوں میں روزگار کی فراہمی اور شہروں پر بڑھتے ہوئے بوجھ کے حوالے سے منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا ۔ پرویز حنیف نے کہا کہ دیہی اصلاحات کے سنہرے دور کا آغاز کر کے چین نے غربت کے خاتمے کے میدان میں تاریخی کامیابیاں حاصل کی ہیں اور یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے ۔

(جاری ہے)

مختلف علاقوں کے معروضی حالات کے مطابق مختلف پالیسیاں اختیار کی گئیں جو غربت کے خاتمے کے لئے دیرپا ثابت ہو رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں چین کی طرح غریب افراد کی تعداد میں کمی کی بجائے غربت میں کمی کے لئے اقدامات اٹھانا ہوں گے ، غربت کے خلاف نبرد آزما دنیا کے اکثر ممالک میں خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے والے افراد کے لئے امدادی پیکج متعارف کروائے گئے ہیں جس سے عارضی ریلیف ملتا ہے لیکن یہ دیرپا نہیں ہوتا۔

چین کی جانب سے غربت کے خاتمے کی راہ میں حاصل کی گئی کامیابیاں نہ صرف تعداد میں زیادہ ہیں بلکہ پائیدار بھی ہیں، اس کی وجہ چین کی جانب سے غربت کے خاتمے کیلئے اختیار کیا جانے والا منفرد طریقہ کار ہے۔ پرویز حنیف نے کہا کہ ہاتھ سے بنے ہوئے قالینوں کی صنعت،لائیو سٹاک ، دستکاری ایسے شعبے ہیں جن کی حکومت سرپرستی کرے تونہ صرف دیہاتوں میں انقلاب برپا کیا جاسکتا ہے بلکہ شہروں پر بڑھتے ہوئے بوجھ کو روکنے میں بھی مددملے گی۔