ماضی میں مختلف حکومتوں کی جانب سے ملک کے چاروں صوبوں میں 40 غیر ضروری ضلعے بنائے گئے ہیں۔ ایک نیا ضلع بنانے پر اربوں روپے خرچ ہوتے ہیں جبکہ اس کا سالانہ خرچ دو سے تین رب روپے ہوتا ہے جو عوام پر بوجھ ہے، شاہد رشید بٹ

ہفتہ ستمبر 16:29

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 05 ستمبر2020ء) تاجر رہنما اوراسلام آباد چیمبر کے سابق صدر شاہد رشید بٹ نے کہا ہے کہ ملک بھر میں نئے ضلعے بنانے کا سلسلہ بند کیا جائے۔ نئے اضلاع بنانے سے عوام یا معیشت کو کوئی فائدہ نہیں ہوتا تاہم سیاستدانوں کی انا کی تسکین ہوتی ہے۔ شاہد رشید بٹ نے ہفتہ کو یہاں جاری اپنے ایک بیان میں کہا کہ ماضی میں مختلف حکومتوں کی جانب سے ملک کے چاروں صوبوں میں 40 غیر ضروری ضلعے بنائے گئے ہیں۔

(جاری ہے)

ایک نیا ضلع بنانے پر اربوں روپے خرچ ہوتے ہیں جبکہ اس کا سالانہ خرچ دو سے تین رب روپے ہوتا ہے جو عوام پر بوجھ ہے۔ صحت، تعلیم، پینے کے صاف پانی اور نکاسی آب جیسے اہم شعبوں پر توکہ کی ضرورت ہے۔ اگر نئے ضلعے بنانے سے عوام کو کوئی فائدہ ہوتا یا انھیں کسی قسم کا ریلیف ملتا تو اس ملک کی یہ حالت نہ ہوتی۔ انہوں نے کہا کہ اگر غیر ضروری اضلاع کو ختم کر دیا جائے تو سالانہ کم از کم 100 ارب روپے کی بچت ممکن ہے۔ انھوں نے کہا کہ گردشی قرضہ میں اضافہ کے ذمہ دار اوں کے خلاف کاروائی کی جائے۔

متعلقہ عنوان :