کورونا وائرس سے عالمگیریت کو شدید خطرات لاحق ہیں،میاں زاہد حسین

بدھ ستمبر 20:28

کورونا وائرس سے عالمگیریت کو شدید خطرات لاحق ہیں،میاں زاہد حسین
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 23 ستمبر2020ء) پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فورم کے صدر میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ کورونا وائرس سے عالمگیریت کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ 2008 کے عالمی معاشی بحران اور امریکہ و چین کے مابین تجارتی جنگ نے گلوبلائزیشن کے سابقہ تصورکی بنیادیں ہلا دی ہیں جبکہ کورونا وائرس رہی سہی کسر پوری کر رہا ہے۔

عالمگیریت کے متعلق رائے عامہ بدل رہی ہے، امریکہ اپنا کردار ادا کرنے کی معاشی پوزیشن میں نہیں ہے جبکہ چین اپنے مفادات کے لئے ہر حد تک جانے کو تیار ہے جس سے مستقبل میں فری ٹریڈ ایک خواب ثابت ہو سکتا ہے۔ میاں زاہد حسین نے بدھ کو بزنس کمیونٹی سے گفتگو میں کہا کہ اب بہت سے ملکوں نے لاک ڈائون ختم کر دیا ہے یا اس میں نرمی کر دی ہے جس سے تجارتی سرگرمیاں بحال ہو رہی ہیں مگر افراد، اشیاء، سرمائے اور انفارمیشن کا بہائو پہلے جیسا آزادانہ نہیں ہے جس سے عالمی تجارت تیزی سے سکڑ رہی ہے۔

(جاری ہے)

امریکہ و دیگر ممالک میں سرمایہ کاری اور روزگار کے لئے نقل مکانی کی مزید حوصلہ شکنی کے لئے اقدامات جاری ہیں اور بہت سے بڑی کمپنیوں پر اپنا تمام کاروبار امریکہ میں ہی منتقل کرنے کے لئے دباو ڈالا جا رہا ہے تاکہ مقامی افراد کو زیادہ نوکریاں مل سکیں۔ کئی یورپی ممالک بھی انہی خطوط پر سوچ رہے ہیں، جاپان کی حکومت نے اپنی کمپنیوں کو چین سے نکلنے کی ہدایت کر دی ہے جبکہ بھارت چین سے نکلنے والی ایک ہزار کمپنیوں پر نظریں جمائے بیٹھا ہے۔

جوابی کارروائی کے طور پرچین نے بھی امریکہ میں سرمایہ کاری کم کر دی ہے جس میں مزید کمی متوقع ہے۔ ان اقدامات سے پیدا ہونے والی عالمی صورتحال میں ترقی پذیر ممالک کی غربت سے نکلنے کی کوششیں متاثر ہونگی جبکہ امیر ممالک میں ضروریات زندگی سمیت تقریباً تمام اشیاء مہنگی ہو جائیں گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ دنیا کے متعدد ممالک کے مابین دوریاں بڑھ جائیں گی، نیشنل ازم پروٹیکشن ازم اور تنازعات بڑھ جائیں گے، دنیا میں عدم استحکام مزید بڑھے گا اور تمام ممالک میں مل جل کر عالمی مسائل حل کرنے کا نظام کمزور ہو جائے گا۔

مستقبل میں بہت سے ممالک صرف ان ممالک سے تجارت کریں گے اور انکے شہریوں کو نقل مکانی کی اجازت دینگے جہاں صحت کا معیار اور قوانین ان سے مماثلت رکھتے ہوں گے۔ میاں زاہد حسین نے مزید کہا کہ چین بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کے ذریعے 4 ٹریلین ڈالر خرچ کرے گا جس پر 138 ممالک دستخط کر چکے ہیں۔ پاکستان کی حکومت، پالیسی سازوں اور کاروباری برادری کوچاہئے کہ چینی سرما یہ کاری کے نتیجے میں معاشی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں تاکہ خود کو بین الا قوامی منڈیوں میں ایڈجسٹ کیا جا سکے اور عالمی منڈیوں سے بھرپور فوائد سمیٹے جا سکیں۔