پاکستان میں مہنگائی کی شرح نو اعشاریہ بیس فیصد کی سطح تک جاپہنچی

ہفتہ اکتوبر 18:48

پاکستان میں مہنگائی کی شرح نو اعشاریہ بیس فیصد کی سطح تک جاپہنچی
کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 17 اکتوبر2020ء) ادارہ شماریات کے مطابق اکتوبر کے تیسرے ہفتے میں مہنگائی کی شرح میں صفر اعشاریہ پنتالیس فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ مجموعی شرح نو اعشاریہ بیس فیصد کی سطح پر پہنچ گئی۔ادارہ شماریات کی جانب سے جاری اعدادو شمار کے مطابق مہنگائی کی مجموعی شرح نو اعشاریہ بیس فیصد کی سطح پر پہنچ گئی ہے۔

سترہ ہزار ماہانہ کمانے والوں کیلئے مہنگائی کی شرح بارہ اعشاریہ چوبیس فیصد ریکارڈ کی گئی، تئیس ہزار تک ماہانہ کمانے والوں کیلئے مہنگائی کا پارہ گیارہ اعشاریہ سینتالیس فیصد کی سطح پر پہنچ گیا۔ادارہ شماریات کے مطابق ایک ہفتے کے دوران پچیس اشیا ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، نو میں معمولی کمی ہوئی، رواں ہفتے کے دوران زندہ برائلر مرغی پندرہ اعشاریہ پینتیس فیصد ،انڈے پانچ اعشاریہ چرانوے فیصد مہنگے ہوئے، مرغی کی فی کلو قیمت میں چھبیس روپے کا اضافہ ہوا، انڈے فی درجن نو روپے مہنگے ہوئے، قیمت ایک سو ارسٹھ کی سطح پر پہنچ گئی۔

(جاری ہے)

ٹماٹر فی کلو ایک سو بتیس روپے، چینی کی فی کلو قیمت ایک بار پھر 100 روپے کی سطح پر پہنچ گئی، دال ماش، دال مونگ، کوکنگ آئل، چاول بھی مہنگے ہوگئے، 20 کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت ایک ہزار اڑتالیس کی سطح پر پہنچ گئی، رواں ہفتے تازہ دودھ، دہی، خشک دودھ، صابن، ماچس، چائے کی پتی بھی مہنگی ہوئی۔

متعلقہ عنوان :