منی لانڈرنگ کیس، شہباز شریف کو 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا

شہباز شریف کو تحریری سوال نامے فراہم کیےمگروہ جواب نہیں دے سکے، یہ کوئی سوال کا جواب دینے کو تیار ہی نہیں ہیں، اب کیا ہم تفتیش ہی نہ کریں ، نیب پراسیکیوٹر

Sajid Ali ساجد علی منگل اکتوبر 11:29

منی لانڈرنگ کیس، شہباز شریف کو 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا ..
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 20 اکتوبر2020ء) منی لانڈرنگ کیس میں سابق وزیرعلیٰ پنجاب مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف کو 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ۔ تفصیلات کے مطابق لاہور کی احتساب عدالت میں منی لانڈرنگ کیس کی سماعت ہوئی ، جہاں عدالت نے قائد حزب اختلاف شہباز شریف کو 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا، عدالت نے شہباز شریف کو کوٹ لکھپت جیل بھیجنے کا حکم دیا۔

بتایا گیا ہے کہ سماعت کے موقع پر سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے کہا کہ مجھے ان کی حراست میں 85 دن ہوچکے ہیں ، 26 اکتوبر 2018 کو آمدن سے زائد اثاثہ جات میں انکوائری شروع ہوئی، نیب نے جو سوالنامہ دیا وہ پرانا ہے، اس کا جواب دے دیا، میں نے ان سے کہا جو آپ پوچھ رہے ہیں وہ پہلے آپ مجھ سے پوچھ چکےہیں ، نیب کے تفتیشی افسر حقائق کے برعکس باتیں کررہے ہیں، عدالت نے نیب کو ایک ہفتے میں تحقیقات کا حکم دیا تھا، تفتیشی افسر کو حکم نامہ کا بتایا تھا کہ تحقیقات کرلیں، لیکن تفتیشی افسران نے ہفتے میں صرف 15 منٹ مجھ سے ملاقات کی۔

(جاری ہے)

جس کے جواب میں نیب پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ یہ کوئی سوال کا جواب دینے کو تیار ہی نہیں ہیں، اب کیا ہم تفتیش ہی نہ کریں ، شہباز شریف کو تحریری سوال نامے فراہم کیےمگروہ جواب نہیں دے سکے۔ دوسری طرف نی لانڈرنگ ریفرنس میں سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کی بیٹی رابعہ عمران کو اشتہاری قرار دینے کی کارروائی کا آغاز کردیا گیا ، احتساب عدالت کے ایڈمن جج جواد الحسن نے رابعہ عمران کو اشتہاری قرار دینے کی کاروائی کا آغاز کیا ، رابعہ عمران کے خلاف اشتہاری کارروائی کے اشتہارات آویزاں کرنے کا حکم بھی دے دیا گیا ،تفصیلات کے مطابق شہباز شریف فیملی کیخلاف منی لانڈرنگ ریفرنس میں پیش رفت سامنے آئی ہے ، جہاں احتساب عدالت لاہور نے منی لانڈرنگ ریفرنس میں عدالتی حکم کے باوجود پیش نہ ہونے پر شہباز شریف کی بیٹی کے خلاف اشتہاری قرار دینے کی کارروائی کا آغاز کیا گیا۔