جس نے بھی آئی جی سندھ کے اغوا ہونے کی بات کی ہے اس کو اب یہ ثابت بھی کرنا ہوگا ،حلیم عادل شیخ

صفدر کے خلاف ایف آئی آر سندھ حکومت کو اعتماد میں لے کر درج کی گئی تاہم پی ڈی ایم کے دباؤ پر سندھ حکومت پیچھے ہٹ گئی،میڈیا سے گفتگو

بدھ اکتوبر 17:02

جس نے بھی آئی جی سندھ کے اغوا ہونے کی بات کی ہے اس کو اب یہ ثابت بھی ..
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 21 اکتوبر2020ء) پاکستان تحریک انصاف کے سندھ اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر حلیم عادل شیخ نے کہا ہے کہ جس نے بھی آئی جی سندھ کے اغوا ہونے کی بات کی ہے اس کو اب یہ ثابت بھی کرنا ہوگا ۔کیپٹن (ر)صفدر کے خلاف ایف آئی آر سندھ حکومت کو اعتماد میں لے کر درج کی گئی تاہم پی ڈی ایم کے دباؤ پر سندھ حکومت پیچھے ہٹ گئی ۔

اردو ہماری مادری زبان ہے۔اس کے خلاف بات کرنے والا محمود خان اچکزئی غدار وطن ہے ۔ان خیالات کا اظہارر انہوںنے بدھ کو سندھ اسمبلی میڈیا کارنر میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے ۔اس موقع پر ملک شہزاد اعوان ،سعید آفریدی اور دیگر بھی موجود تھے ۔حلیم عادل شیخ نے کہا کہ سندھ اسمبلی کی کنسٹرکشن میں اربوں روپے کی کرپشن ہوئی ہے ۔

(جاری ہے)

یہ بدعنوانی نثار کھوڑو کے دور میں ہوئی ۔

نئی عمارت کی حالت بارش کے بعد بھی بہتر نہیں ہوسکی ہے اس لیے اجلاس پرانے اسمبلی ہال میں ہورہا ہے ۔ان کی کرپشن کی وجہ سے آج بھی آدھا سندھ ڈوبا ہے۔ان کو خیال نہیں آیا کہ ان غریبوں کے لیے اجلاس بلالیتے ۔وڈیروں نے اپنی زمینیں بچانے کیلیے غریبوں کی زمینیں ڈبو دی ہیں ۔ان کوسندھ کے بچوں کی فکر نہیں ہے ۔انہوںنے کہا کہ کراچی میں پاپا ڈیڈی بچاؤ موومنٹ کا جلسہ ہوا ہے ۔

مختلف شہروں سے آنے والے لوگوں نے یہاں کی بات نہیں کی۔حلیم عادل شیخ نے کہا کہ کیپٹن (ر)صفدر مزارقائد کو بھی نہیں چھوڑا ہے ۔وہ کہتے ہیں کہ ہر سال کراچی آکر نعرے لگائیںگے اگر انہوںنے ایسا کیا تو جوتے کھائیںگے ۔ انہوں نے ایف آئی آر نہیں کاٹی ۔انہوںنے کہا کہ پولیس آرڈر 2019 جب آیا تھا تو ہم نے مخالفت کی تھی ۔آئی جی کوئی اور ہے اختیار کسی اور کے پاس ہے ۔آئی جی سندھ شریف آدمی ہیں ۔کیپٹن صفدر کے خلاف سندھ حکومت کے اعتماد کے بعد ہی ایف آئی آر کاٹی گئی لیکن جب پی ڈی ایم کا پریشر پڑا تو سندھ حکومت پیچھے ہٹ گئی۔ہم کہتے ہیں کہ پولیس کو عزت دو۔جس جس نے بھی کہا ہے کہ آئی جی کا اغوا ہوا ہے اسے اپنی بات ثابت کرنا ہوگی ۔