بے نظیر سٹاک ایمپلائز سکیم کے تحت ملازمین کو شیئرز دینے کا کیس ، ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف نجکاری کمیشن کی اپیلیں منظور

ملازمین کے ٹرسٹ کے شیئرز پر کیا حقوق ہیں زبانی نہیں قانون کے مطابق عدالت کو بتائیں، چیف جسٹس گلزار احمد کے ریمارکس

جمعرات اکتوبر 14:14

بے نظیر سٹاک ایمپلائز سکیم کے تحت ملازمین کو شیئرز دینے کا کیس ، ہائی ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 22 اکتوبر2020ء) سپریم کورٹ نے بے نظیر سٹاک ایمپلائز سکیم کے تحت ملازمین کو شیئرز دینے سے متعلق کیس میںہائی کورٹ فیصلے کیخلاف نجکاری کمیشن کی اپیلیں منظور کرتے ہوئے فیصلے کیخلاف ملازمین کی اپیلیں خارج کر دیں ۔ جمعرات کو چیف جسٹس کی سربراہی میں بینچ نے کیس کی سماعت کی ۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہاکہ سال 2009 میں حکومت سرکاری کمپنیز کے 12 فیصد شیئرز ملازمین کو دینے کا فیصلہ کیا۔

سہیل محمود نے کہاکہ سال 2013 میں حکومت بدلی تو ملازمین کو منافع کی ادائیگی روک دی گئی۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہاکہ موجودہ حکومت نے سکیم کو ختم کرنے کا حکم جاری کیا۔ سہیل محمود نے کہاکہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے 2013 سے 2019 تک کی ادائیگی کرنے کا حکم دیا۔

(جاری ہے)

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہاکہ سندھ ہائی کورٹ نے تو پوری سکیم ہی خلاف قانون قرار دیدی تھی۔

چیف جسٹس نے کہاکہ پاکستان کی حکومت کے مالی حالات اسی وجہ سے خراب ہیں، حکمرانوں نے سرکاری پیسے کو ذاتی سمجھ کر بانٹا، یہ پیسے الیکشن اسٹنٹ کی غرض سے بانٹے گئے ہیں، حکومتی پیسہ سارا سرکار کا ہوتا ہے حکمرانوں کا ذاتی نہیں۔چیف جسٹس نے کہاکہ یہ بھی ہوا کہ 15 سال کی تنخواہیں اور مرعات بھیدی گئی، حکومت کا پیسہ پھینکنے کے لیے نہیں ہوتا۔

انہوںنے کہاکہ ملازمین کے ٹرسٹ کے شیئرز پر کیا حقوق ہیں زبانی نہیں قانون کے مطابق عدالت کو بتائیں۔ وکیل ملازمین نے کہاکہ ٹرسٹ اس وقت تک قائم ہے اور تاحال ختم نہیں ہوا، نجکاری کمیشن کا اس ٹرسٹ کے پیسے پر کوئی حق نہیں۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہاکہ کیا نجکاری کمیشن حکومت کا حصہ نہیں ہی ٹرسٹ حکومت کے پیسے سے بنا ہے۔ چیف جسٹس نے کہاکہ صرف مخصوص اداروں کے ملازمین کو سہولت نہیں دی جا سکتی۔عدالت نے 2013 سے 2019 تک کے فنڈز جاری کرنے کا اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیدیا ۔سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ فیصلے کیخلاف نجکاری کمیشن کی اپیلیں منظور کر لیں۔سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کیخلاف ملازمین کی اپیلیں خارج کر دی گئیں۔