فرانس میں مسلمانوں کو اذیت نہیں دی جاتی

مساجد تعمیر کرنے اور دین پر عمل کرنے کیلئے یہاں مسلمانوں کو آزادی حاصل ہے، فرنچ مسلم کونسل کا دنیا بھر کے مسلمانوں کی تنقید کا نشانہ بننے والی فرانسیسی حکومت کے حق میں بیان

muhammad ali محمد علی منگل اکتوبر 00:14

فرانس میں مسلمانوں کو اذیت نہیں دی جاتی
پیرس (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 26 اکتوبر2020ء) فرنچ مسلم کونسل کے مطابق فرانس میں مسلمانوں کو اذیت نہیں دی جاتی۔ تفصیلات کے مطابق ایک ایسا وقت جب گستاخانہ خاکوں کی حمایت کرنے پر فرانسیسی حکومت دنیا بھر کے مسلمانوں کی تنقید کی زد میں ہے، تو ایسے میں اپنی حکومت کے غلط فیصلے پر تنقید کرنے کی بجائے فرانس کی مسلم کونسل نے اپنی حکومت کے حق میں بیان دیا ہے۔

فرانس کی مسلم کونسل کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ فرانس میں مسلمانوں کو اذیت نہیں دی جاتی، یہاں مسلمانوں کو مذہبی آزادیاں حاصل ہیں۔ مسلمانوں کو مساجد تعمیر کرنے اور اپنے مذہبی عقائد پر عمل کرنے کیلئے آزادی حاصل ہے۔ اس سے قبل فرانسیسی صدر نے بھی مسلمانوں کی شدید تنقید کے بعد بیان جاری کیا تھا۔

(جاری ہے)

فرانس کے صدر ایمانویل میکرون نے عربی میں ایک پیغام جاری کیا۔

ٹوئٹر پر ایک پیغام میں میکرون نے لکھا کہ ہم کبھی نفرت آمیز تقریر کو قبول نہیں کریں گے، اور امن کے لیے ہم ہر قسم کے خیالات کا احترام کرتے ہیں، اس حوالے سے مناسب بحث و مباحثے کا ہمیشہ دفاع کیا جائے گا۔فرانس کے صدر ایمانویل میکرون نے کہا کہ ہم کبھی ہار نہیں مانیں گے اور امن کے حصول کیلئے تمام مکاتب کے درمیان پائے جانے والے مختلف خیالات کا احترام کیا جاتا رہے گا۔

میکرون نے کہا کہ ہم ہمیشہ انسانی تقدس اور عالمی اطوار کے احترام کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔ واضح رہے کہ کچھ روز قبل آزادی اظہاررائے کے سبق کے دوران گستاخانہ خاکے دکھانے والے استاد سیمیول پیٹی کا سرقلم کیے جانے کے کے واقعے کے بعد فرانسیسی صدر میکرون نے زور اعلان کیا تھا فرانس خاکوں سے پیچھے نہیں ہٹے گا، سیمیول پیٹی کو اس لیے قتل کیا گیا کیونکہ اسلام پسند ہمارا مستقبل چاہتے ہیں۔ فرانسیسی صدر کے اس بیان کے بعد دنیا بھر کے مسلمانوں نے فرانس کیخلاف آواز بلند کی ہے۔ کئی اسلامی ممالک نے فرانس کی مصنوعات کے بائیکاٹ کا اعلان بھی کر دیا ہے۔