کاشتکاروں کو جنوبی پنجاب میں ماش کی منظور شدہ اقسام کی کاشت 15 مارچ سے قبل اور وسطی پنجاب میں 31 مارچ تک مکمل کرنے کا مشورہ

منگل فروری 13:37

فیصل آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 23 فروری2021ء) کاشتکاروں کو جنوبی پنجاب میں ماش کی منظور شدہ اقسام کی کاشت 15 مارچ سے قبل اور وسطی پنجاب میں 31 مارچ تک مکمل کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے جبکہ بارانی علاقوں میں جون کے آخرسے جولائی کے پہلے ہفتہ اور آبپاش علاقوں میں جولائی کا پورا مہینہ بھی ماش کی کاشت کیلئے موزوں قراردیا گیا ہے۔

ریسرچ انفارمیشن یونٹ ایوب زرعی تحقیقاتی ادارہ فیصل آباد کے ماہرین زراعت نے بتایا کہ ماش کی جن اقسام کی کاشت کی منظوری دی گئی ہے ان میں ماش 97، عروج 2011،این اے آر سی ماش 3، چکوال ماش اور بارانی ماش شامل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ماش 97 کی قسم 100 دنوں میں پک کر تیار ہوجاتی ہے تاہم عروج 2011 مشینی کاشت کیلئے موزوں قسم ہے۔ انہوں نے بتایا کہ این اے آر سی ماش 3 وائرسی بیماریوں کے خلاف بھرپور قوت مزاحمت و مدافعت کی حامل قسم ہے جس کی پیداواری صلاحیت 12 سے 15 من فی ایکڑ ہے لیکن اس کی بہترین پیداوار کیلئے اسے راولپنڈی، اسلام آباد کے علاقوں میں زیادہ کاشت کیا جا تا ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے بتایا کہ چکوال ماش زیادہ شاخوں و پھلیوں کی وجہ سے مشہور ہے جو بارانی علاقوں میں 15 سے 16من فی ایکڑ تک پیداوار دیتی ہے۔انہوں نے بتایا کہ بارانی ماش کی قسم بارانی علاقوں کیلئے موزوں ترین ہے جو وائرسی بیماریوں سے محفوظ ہونے کے ساتھ ساتھ 17.43 من فی ایکڑتک پیداواری صلاحیت کی حامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ کاشتکار بیج کو بوائی سے قبل پھپھوندی کش زہر بحساب 2 گرام فی کلو گرام ضرور لگائیں۔

انہوں نے کہا کہ زیادہ بارشوں والے علاقوں میں شرح بیج 8 کلو جبکہ دیگر علاقوں میں 10 کلو فی ایکڑ صرف ماش 97 کیلئے 5 سے 6 کلو فی ایکڑ اور پودوں کی تعداد 16 سے 18 ہزار فی ایکڑ رکھنا بھی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس ضمن میں مزید معلومات و رہنمائی کیلئے محکمہ زراعت کے فیلڈ سٹاف کی خدمات سے بھی استفادہ کیا جاسکتا ہے۔