’فیصل واؤڈا کا بیانِ حلفی بادی النظر میں جھوٹا ہے‘ عدالت نے تفصیلی فیصلہ جاری کردیا

الیکشن کمیشن معاملے کی تحقیقات کر کے مناسب حکم جاری کر سکتا ہے ، جھوٹا بیانِ حلفی جمع کرانے کے الگ نتائج ہیں ، فیصل واؤڈا ممبرِ قومی اسمبلی یا ممبر سینیٹ بننے کے اہل نہیں رہے ، جسٹس عامر فاروق نے جاری کیا جو کہ 13 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کیا

Sajid Ali ساجد علی ہفتہ مارچ 10:59

’فیصل واؤڈا کا بیانِ حلفی بادی النظر میں جھوٹا ہے‘ عدالت نے تفصیلی ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین ۔ 06 مارچ2021ء) اسلام آباد ہائی کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف رہنماء فیصل واوڈا کی نااہلی کے کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا۔ تفصیلات کے مطابق تفصیلی فیصلہ جسٹس عامر فاروق نے جاری کیا جو کہ 13 صفحات پر مشتمل ہے ، جس میں کہا گیا ہے کہ فیصل واؤڈا نے 11 جون کو دہری شہریت نہ رکھنے کا بیانِ حلفی جمع کرایا ، انہیں امریکی شہریت ترک کرنے کا سرٹیفکیٹ 25 جون کو جاری ہوا ، فیصل واؤڈا کے کاغذاتِ نامزدگی کی جانچ پڑتال کے وقت وہ امریکی شہری اور الیکشن لڑنے کیلئے نا اہل تھے ، اس طرح فیصل واؤڈا کا بیانِ حلفی بادی النظر میں جھوٹا ہے ، انہوں نے الیکشن کمیشن میں جو بیان حلفی جمع کرایا ، الیکشن کمیشن اس معاملے کی تحقیقات کر کے مناسب حکم جاری کر سکتا ہے۔

(جاری ہے)

تفصیلی فیصلے کے مطابق 29 جنوری 2020ء سے 3 مارچ 2021ء تک فیصل واؤڈا نے نااہلی کی درخواست پر کوئی جواب داخل نہیں کیا ، انہوں نے کبھی ایک اور کبھی دوسری وجہ سے معاملے کو طول دیا اور جواب داخل نہ کرا کے کیس میں تاخیر کی ، جواب داخل نہ کرانے پر الیکشن کمیشن سے کاغذاتِ نامزدگی سے متعلق ریکارڈ طلب کیا گیا ، فیصل واؤڈا کے وکیل نے 3 مارچ کی سماعت میں ان کا اسمبلی سے استعفیٰ پیش کیا اور کہا کہ درخواست غیر مؤثر ہو چکی ہے۔

تفصیلی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ درخواست گزار کے وکیل نے اصرار کیا کہ ابھی استعفیٰ صرف پیش کیا گیا ہے ، جس کی منظوری ہونا باقی ہے، جھوٹا بیانِ حلفی جمع کرانے کے الگ نتائج ہیں ، فیصل واؤڈا ممبرِ قومی اسمبلی یا ممبر سینیٹ بننے کے اہل نہیں رہے ، جب کہ فیصل واؤڈا 2018ء کے انتخابات میں پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر ایم این اے منتخب ہوئے، 7 اگست 2018ء کو ان کی کامیابی کا نوٹی فکیشن جاری ہوا۔

یہاں قابل ذکر بات یہ ہے کہ پی ٹی آئی رہنماء فیصل واؤڈا کو دہری شہریت چھپانے اور جھوٹا بیانِ حلفی جمع کرانے پر آئین کے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت نا اہل قرار دینے کی استدعا کی گئی ، جس کا اسلام آباد ہائی کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف رہنماء فیصل واوڈا کی نااہلی کے کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا۔