وزیراعظم کی قومی اسمبلی میں بھاری اکثریت ثابت، اپوزیشن کے پاس حکومت کے خاتمے کے لیے 2 آپشنز رہ گئے

اپوزیشن حکومت ختم کرنے کا جمہوری آئینی قانونی حق کھو بیٹھی،اب 2023 الیکشن کا انتظار کرے یا اسمبلی سے انکے خلاف عدم اعتماد ووٹ حاصل کرے۔سینئر صحافی کامران خان کا ٹویٹ

Muqadas Farooq مقدس فاروق اعوان ہفتہ مارچ 13:34

وزیراعظم کی قومی اسمبلی میں بھاری اکثریت ثابت، اپوزیشن کے پاس حکومت ..
اسلام آباد (اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 06 مارچ2021ء) وزیراعظم عمران خان ایک بار پھر قومی اسمبلی میں اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے ۔ق وزیراعظم عمران خان نے قومی اسمبلی میں 178 اراکین اسمبلی کا اعتماد کا ووٹ حاصل کر لیا،عمران خان جس وقت وزیراعظم بنے تب انہوں نے 176 ووٹ حاصل کیے تھے۔اسی حوالے سے سیینئر صحافی کامران خان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ فیصلہ ہوگیا، بدھ سینٹ الیکشن میں عظیم ووٹ منڈی لگی، ثابت ہوگیا کیونکہ پی ٹی آئی اس کے اتحادیوں میں ایک بھی رکن جس نے بدھ  کو حفیظ شیخ مخالفت اور یوسف رضا گیلانی کی حمایت میں ووٹ دیا آج عمران خان کی مخالفت  میں ضمیر کی آواز پر کھڑا نہیں ہوا ،آج عمران خان کو اتحادیوں کے 100 فیصد ووٹ ملے۔

ایک اور ٹویٹ میں انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان پاکستان کے منتخب آئینی جمہوری سربراہ ہیں۔

(جاری ہے)

قومی اسمبلی نے ان پر بھر پور اعتماد کا ووٹ دے دیا۔ اپوزیشن عمران خان حکومت کو ختم کرنے کا جمہوری آئینی قانونی حق کھو بیٹھی ۔انہوں نے کہا کہ اب 2023 الیکشن کا انتظار کرے یا اسمبلی سے انکے خلاف عدم اعتماد ووٹ حاصل کرے۔

۔واضح رہے کہ یر اعظم عمران خان نے اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ حاصل کر لیا ہے اسپیکر قومی اسمبلی نے بتایا کہ وزیراعظم عمران خان نے ایوان سے 178 ووٹ حاصل کیے۔ور اسپیکر قومی اسمبلی نے اعلان کیا کہ اگست 2018 میں عمران خان نے ایوان سے 176 ووٹ حاصل کیے تھے جبکہ آج کے اس خصوصی اجلاس میں ایوان کے 178 ارکان کے ووٹ حاصل کرلیے وزیراعظم کے اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کے بعد ایوان نعروں سے گونج اٹھا اور اراکین اسمبلی کی جانب سے ڈیسک بجا کر وزیراعظم کو خراج تحسین پیش کیا گیا.