جہانگیر ترین کے پاس سیاسی آپشنز محدود ہو گئے

شاندار سیاسی صلاحیتوں کے مالک جہانگیر ترین اب اپنے بیٹے علی کی شکل میں اپنا سیاسی مستقبل دیکھتے ہیں

Muqadas Farooq مقدس فاروق اعوان جمعرات اپریل 11:23

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار، 8اپریل 2021) جنگ اخبار میں شائع رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر ترین کا موجودہ حکومت کی تشکیل میں کلیدی کردار رہا ہے جب ان کے حکمران جماعت سے اختلافات ٹوٹنے کی حد تک پہنچ گئے ہیں تو ان کے پاس سیاسی آپشنز نہایت محدود ہو گئے ہیں لیکن جہانگیر ترین کی سیاسی صلاحیتوں کے لوگ متعرف ہیں۔

ایف آئی اے کی جانب سے سخت اقدامات کے بعد اب حکومت اس مرحلے پر پہنچ گئی ہے ان کے لیے واپس لوٹنا ممکن دکھائی دینے لگا ہے۔جہانگیر ترین اور ان کے بیٹے علی ترین کے خلاف ایف آئی اے کیسز کو انجام دہی پہنچانے کے لیے کوشاں ہیں۔اگر حکومت ان کے خلاف مقدمات سے دستبردار ہوتی ہے تو اس کی ساکھ کو شدید دھچکا پہنچنے کا احتمال ہے۔

(جاری ہے)

جہانگیر ترین نے بدھ کو پیشی کے موقع پر حکمران جماعت کے درجن بھر قومی و صوبائی اسمبلی کے درجن بھر کو ساتھ لے جاکر اپنی قوت کا مظاہرہ کیا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ جنوبی پنجاب سے یہ وہی الیکٹیبلز ہے جو جہانگیر ترین کی ایما پر تحریک انصاف میں شامل ہوئے تھے۔سپریم کورٹ کی جانب سے تاحیات نااہل قرار دیے جانے کے بعد جہانگیرترین اپنے بیٹے علی کی شکل میں اپنا سیاسی مستقبل دیکھتے ہیں۔دوسری جانب عارف حمید بھٹی نے کہا کہ ایک اہم وفاقی وزیر سمیت، پی ٹی آئی کے دو ایم پی ایز نے جہانگیر ترین کی پیشی کے موقع پر ساتھ جانے کا اصرار کیا۔

انہوں نے کہا کہ جہانگیر ترین نے پی ٹی آئی کے تینوں اراکین کو ساتھ لے جانے سے انکار کر دیا۔ پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے عارف حمید بھٹی نے کہا کہ جہانگیر ترین کے ساتھ جانے کے خواہشمند وفاقی وزیر اور ایم پی ایز عمران خان کے بھی کافی قریب ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مذکورہ وفاقی وزیر نے وزیراعظم عمران خان سے بھی ملاقات کا وقت لے رکھا تھا اور انہوں نے وزیراعظم سے ملاقات کر نی تھی۔