زرعی شعبہ بحالی کے لئے اولین ترجیح پانی کے بحران کے خاتمہ کو دی جائے:میاں زاہد حسین

ملک میں پانی کی کمی کو مذید نظر انداز کرنا خودکشی کے مترادف ہو گا، پانی کی غلط تقسیم ،اس کا ضیاں اورچوری روکی جائے

جمعہ مئی 18:15

زرعی شعبہ بحالی کے لئے اولین ترجیح پانی کے بحران کے خاتمہ کو دی جائے:میاں ..
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 7 مئی2021ء) ایف پی سی سی آئی کے نیشنل بزنس گروپ کے چیئرمین، پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فور م وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر اور سابق صوبائی وزیر میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے زرعی شعبہ کی بحالی کا فیصلہ کیا ہے جس میں پانی کے بحران کے خاتمہ کو اولین ترجیح دینے کی ضرورت ہے۔ ملک میں پانی کی کمی کو مذید نظر انداز کرنا خودکشی کے مترادف ہو گا۔

میاں زاہد حسین نے کاروباری برادری سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں پانی کی کمی کا بحران بڑھتا جا رہا ہے اور اگر اسے توجہ نہ دی گئی تو اس سے کوئی محفوظ نہیں رہے گا اور ملک ریگستان بن کر سارے نظام کو درہم برہم کر دے گا۔ انھوں نے کہا کہ اقوام متحدہ اور آئی ایم ایف سمیت متعدد عالمی اور مقامی ادارے پانی کی بڑھتی ہوئی قلت پر تشویش ظاہر کر چکے ہیں مگر اس مسئلے پر توجہ نہیں دی جا رہی ہے جو تشویشناک ہے ۔

(جاری ہے)

عالمی اداروں کے مطابق کسی بھی ملک کا پانی پر وہ دارومدار نہیں ہے جتنا پاکستان کا ہے اور زراعت میں جتنا پانی پاکستان میں ضائع ہوتا ہے اتنا کسی بھی ملک میں نہیں ہوتا۔ہمارازیادہ تر پانی زرعی شعبہ استعمال کرتا ہے جس کا بڑا حصہ ضائع ہو جاتا ہے۔ادھر موسمیاتی تبدیلی سے صورتحال بگڑ رہی ہے جبکہ سیلاب کے پانی کو زخیرہ کرنے کا کوئی انتظام نہیں ہے۔

پڑوسی ملک کی جانب سے ڈیموں کی تعمیر کا نہ ختم ہونے والے سلسلہ پاکستان میں پانی کے بحران کو ہوا دے رہا ہے جبکہ پانی کی کمی کا مسئلہ زیر زمین پانی کے استعمال سے حل کیا جا رہا ہے جسکی سطح مسلسل گر رہی ہے۔پاکستان میں پانی کی غلط تقسیم، اسکا ضیاں اورچوری بھی بہت زیادہ ہے جس سے بحران بڑھ رہا ہے۔ میاں زاہد حسین نے مذیدکہاکہ پانی کی کمی سے بدین اور ٹھٹہ کے اضلاع میں ہزاروں ایکڑ زرعی زمین سمندر برد ہو رہی ہیں جس سے مچحیروں اور لاکھوں کاشتکاروں کا روزگار متاثر ہو رہا ہے۔ماہرین کے مطابق اگر سندھ میں پانی کی صورتحال بہتر نہ ہوئی تو چند سالوں میں لاکھوں ایکڑ زمین سمندر برد ہو جائے گی۔