سٹوڈنٹس کے مطالبے پر آکسفورڈ یونیورسٹی نے برطانوی ملکہ الزبتھ کی تصویر ہٹادی

طلبا کالج کے نمائندے نہیں ہیں، لیکن انہیں آزادی رائے اور سیاسی مباحثے کا حق حاصل ہی:صدر ڈینا روز

جمعہ جون 00:09

آکسفورڈ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 10 جون2021ء) سٹوڈنٹس کے مطالبے پر آکسفورڈ یونیورسٹی نے برطانوی ملکہ الزبتھ کی تصویر ہٹادی۔میگڈیلین کالج کے کامن روم میں نصب پورٹریٹ ہٹانے کی قرارداد امریکی طالب علم نے پیش کی تھی جس کے حق میں 10 طلبہ نے ووٹ دیے جب کہ 2 طلبہ نے قرارداد کی مخالفت کی اور 5 غیر حاضر رہے۔میگڈیلین کالج کی صدر کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ کالج کا نہیں بلکہ طلبا کا ہے۔

جنہوں نے تصویر کو برطانوی بادشاہت اور نوآبادیاتی تاریخ کی نمائندگی قرار دیا ہے۔

(جاری ہے)

صدر ڈینا روز کا مزید کہنا تھا کہ طلبا کالج کے نمائندے نہیں ہیں، لیکن انہیں آزادی رائے اور سیاسی مباحثے کا حق حاصل ہے۔ انہوں نے ہی 2013 میں اس تصویر کو لگانے کا فیصلہ کیا اور اب ہٹانے کا فیصلہ بھی ان کا ہے۔آخر میں ڈینا روز کا کہنا تھا طالب علم بننا مطالعہ سے کہیں زیادہ ہے، یہ نظریات کی کھوج اور بحث پر مبنی ہے۔دوسری جانب ملکہ الزبتھ کی تصویرہٹانے کے فیصلے پر برطانیہ کے وزیرتعلیم نے شدیدردعمل کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملکہ نہ صرف ریاست کی سربراہ ہیں بلکہ ملکہ نے برداشت،جامعیت اوراحترام سے متعلق برطانوی اقداردنیا بھر میں عام کی ہیں۔