پارلیمنٹ میں نازیبا زبان کے استعمال پر تحریک انصاف کے علی نواز اعوان نے وضاحت پیش کر دی

پارلیمنٹ میں نازیبا زبان کے استعمال پر میں اپنی غلطی کا اعتراف کرتا ہوں، لیکن بدتمیزی کا آغاز روحیل اصغر نے کیا، ان کی گالیوں کی وجہ سے مجھے غصہ آ گیا اور میں نے بھی گالیاں دے دیں، رکن قومی اسمبلی علی نواز اعوان

Danish Ahmad Ansari دانش احمد انصاری منگل جون 23:59

پارلیمنٹ میں نازیبا زبان کے استعمال پر تحریک انصاف کے علی نواز اعوان ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ، اخبار تازہ ترین، 15 جون 2021 ) پارلیمنٹ میں نازیبا زبان کے استعمال پر میں اپنی غلطی کا اعتراف کرتا ہوں، لیکن بدتمیزی کا آغاز روحیل اصغر نے کیا، ان کی گالیوں کی وجہ سے مجھے غصہ آ گیا اور میں نے بھی گالیاں دے دیں، پارلیمنٹ میں نازیبا زبان کے استعمال پر تحریک انصاف کے علی نواز اعوان نے وضاحت پیش کر دی- تفصیلات کے مطابق نجی ٹیلی ویژن چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے تحریک اںصاف کے رکن قومی اسمبلی علی نواز اعوان نے کہا کہ جس بات کو میں اپنے گھر میں غلط سمجھتا ہوں، اس میں پارلیمنٹ ہاؤس میں ٹھیک کیسے کہہ سکتا ہوں، میں اپنی غلطی کا اعتراف کرتا ہوں، لیکن ن لیگ کو بدتمیزی سے منع کریں، یہ ہر مرتبہ نازیبا نعرے لگاتے ہیں اور چلے جاتے ہیں، اس مرتبہ روحیل اصغر کی گالیوں پر مجھے غصہ آ گیا اور میں نے بھی گالیاں دے دیں- انہوں نے کہا کہ ہماری پارٹی کے اراکین ایک لائن میں کھڑے ہوئے تھے کہ اچانک مسلم لیگ ن کے رکن اسمبلی، جن کا نام مجھے نہیں آتا وہ میرے پاس آئے اور انہوں نے لائن سے دھکا دے کر مجھے باہر نکال دیا، جس کی وجہ سے میں پہلے ہی غصے میں تھا اور روحیل اصغر صاحب کی گالیوں کی وجہ سے مجھے مزید غصہ آ گیا- انہوں نے کہا کہ جس چیز کو میں اپنے گھر میں درست نہیں کہہ سکتا اسے میں اسمبلی کے فلور پر بھی غلط ہی کہوں گا، انہوں کا کہ پارلیمنٹ میں، میں اپنے رویے پر اپنی غلطی کا اعتراف کرتا ہوں- واضح رہے کہ قومی اسمبلی میں رواں مالی سال کے پیش کردہ بجٹ پر بحث سے متعلق اجلاس میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کی تقریر کے دوران حکومتی اراکین اور اپوزیشن کے درمیان دوسرے روز بھی بد کلامی اور کشیدگی دیکھی گئی جس کے باعث اسپیکر کو اجلاس کچھ دیر کے لیے ملتوی کرنا پڑا۔

(جاری ہے)

میڈیا رپورٹس کے مطابق اسپیکر اسد قیصر کی زیر صدارت قومی اسمبلی کا اجلاس ہوا جس میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے تقریر کا آغاز کیا تو وفاقی وزرا سمیت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ارکان نے ایوان میں شور شرابا شروع کیا اور ڈیسک پر بجٹ کتاب بجاتے رہے۔اس موقع پر اسد قیصر نے ایوان کو چلانے کی کوشش کی اور حکومت و اپوزیشن اراکین سے تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی نشستوں پر بیٹھنے اور اپوزیشن لیڈر کی تقریر سننے کا کہا۔

حکومتی اراکین کی جانب سے ایوان میں ہنگامہ آرائی کے باعث اسپیکر قومی اسمبلی نے متعدد مرتبہ اعلان کیا کہ ایوان کی کارروائی کو جاری رہنے دیا جائے تاہم ناکامی پر انہوں نے ایوان کی کارروائی کو کچھ دیر کے لیے ملتوی کردیا۔بعدازاں ایسی ویڈیوز بھی سامنے آ ئی ہیں، جن میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ن لیگی ایم این ایز کی جانب سے نازیبا نعرے لگائے جا رہے ہیں۔

جلاس کی کارروائی ملتوی ہونے کے بعد ایوان میں حکومتی اور اپوزیشن اراکین میں جھڑپ بھی ہوئی۔دوران اجلاس اپوزیشن اور حکومتی اراکین کے درمیان کشیدگی میں اس وقت اضافہ ہوا جب پی ٹی آئی کے اسلام آباد سے رکن قومی اسمبلی اور وزیراعظم کے معاون خصوصی علی نواز اعوان نے مسلم لیگ (ن) کے رکن شیخ روحیل اصغر کو بجٹ کی کتاب دے ماری اور ان کے لیے نا مناسب زبان استعمال کرتے رہے۔

اس کے بعد ایوان میں حکومتی اور اپوزیشن ارکان کے درمیان جھڑپ ہوئی اور ایک دوسرے کے خلاف نعرے بازی کرتے رہے۔بعد ازاں کچھ دیر التوا کے بعد قومی اسمبلی کا اجلاس دوبارہ شروع ہوا تو اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے ایک مرتبہ پھر تقریر کا آغاز کیا اور اس موقع پر انہیں اپوزیشن اراکین نے گھیر رکھا تھا، دوسری جانب اپوزیشن لیڈر کی تقریر کے دوران حکومتی اراکین کا شور شرابا جاری رہا۔خیال رہے کہ گزشتہ روز بھی قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف کی تقریر کے دوران ہنگامہ آرائی ہوئی جس کے باعث اسپیکر نے اجلاس 20 منٹ کے لیے ملتوی کیا تھا لیکن وہ دوبارہ شروع نہ ہوسکا۔