Live Updates

بجٹ اعدادو شمار کا گورکھ دھندا ،پاکستانی قوم روٹی کو ترس رہی ہے ‘قائد حزب اختلاف حمزہ شہباز نے بجٹ پر بحث کا آغاز کر دیا

ایک کروڑ نوکریاں، پچاس لاکھ گھر، ساڑھے تین سو ڈیم، پولیس اصلاحات ،نوے روز میں کرپشن کا خاتمہ، جنوبی پنجاب صوبے کا وعدہ سب جھوٹ نکلے بزنس ایڈوائزری کمیٹی کے اجلاس میں حکومت ، حزب اختلاف میں بحث کے دوران ایکدوسرے کی تقاریرکے دوران مداخلت نہ کرنے پر اتفاق پہلے روز ایوان کا ماحول مجموعی طو رپر پر امن رہا ،حکومتی اور اپوزیشن بنچوں کی جانب سے بجٹ پر عام بحث کرتے ہوئے تقاریر کا سلسلہ جاری وزیر خزانہ نے بجٹ تقریر میں تمام شعبوںبارے بتایا ،یہ حیران ہیں تین سال میں جی ڈی پی 3.4 پر کیسے پہنچ گئی‘ میاں اسلم اقبال وزیر اعظم عمران خان کی قیادت میں کرونا وبا کے باوجود ملکی معیشت ٹیک آف کر گئی لیکن شریف خاندان کی معیشت بیٹھ گئی ہے‘ وزیر صنعت سپیکر پرویز الٰہی کاریسکیو 1122ایکٹ پر عملدرآمد نہ ہونے پر برہمی کا اظہار ،معاملہ خصوصی کمیٹی نمبر 13کے سپرد، آج اجلاس بھی طلب کر لیا

جمعرات 17 جون 2021 22:34

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 17 جون2021ء) پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف حمزہ شہباز نے آئند ہ مالی سال کے بجٹ پر عام بحث کا آغاز کر دیا ،سپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی کی زیر صدارت بزنس ایڈوائزری کمیٹی کے اجلاس میں حکومت اور حزب اختلاف میں بحث کے دوران ایک دوسرے کی تقاریرکے دوران مداخلت نہ کرنے پر اتفاق کیا گیا جس کی وجہ سے پہلے روز ایوان کا ماحول مجموعی طو رپر پر امن رہا ،قائد حزب اختلاف حمزہ شہباز نے بجٹ کو اعدادو شمار کا گورکھ دھندا قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستانی قوم روٹی کو ترس رہی ہے ،بے روزگاری 35فیصد سے بڑھ کر 85فیصد ہوگئی ہے ،ایک کروڑ نوکریاں، پچاس لاکھ گھر، ساڑھے تین سو ڈیم، پولیس اصلاحات ،نوے روز میں کرپشن کا خاتمہ، جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانے کا وعدہ سب جھوٹ نکلے ، سپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی نے اسمبلی سے منظور ہونے والے ریسکیو 1122ایکٹ پر عملدرآمد میں رکاوٹیں ڈالے جانے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اسمبلی سے منظوری کے بعد گورنر صاحب بھی اس بل کومنظور کر چکے ہیں تا ہم یہ حکومت کے پاس رکا ہوا ہے اور اس پر عمل درآمد نہیں ہو رہا،یہ ایکٹ میرا نہیں نہ میرا س سے کوئی ذاتی مفادوابستہ ہے ،سب سے زیادہ میں نے اس حکومت کا دفاع کیا ہے ،میں نے بہت سی حکومتیں چلائی ہیں، ضیا الحق کے زمانہ سے چلا آر ہا ہوں، مگر اسمبلی کے پاس کردہ بل پر عمل درآمد نہ ہونا ٹھیک نہیںجبکہ سپیکر نے معاملہ خصوصی کمیٹی نمبر13کے سپرد کرتے ہوئے آج ہی اجلاس طلب کر کے اس کی صدارت کرنے کا بھی اعلان کر دیا ۔

(جاری ہے)

پنجاب اسمبلی کا اجلاس گزشتہ روز بھی اپنے مقررہ وقت کی بجائے 2گھنٹے 8منٹ کی غیر معمولی تاخیر سے سپیکر چوہدری پرویز الٰہی کی صدارت میں شروع ہوا۔ اجلاس کے آغاز پر سپیکر چوہدری پرویز الٰہی نے حکومتی اور اپوزیشن بنچوں کو بزنس ایڈوائزری کمیٹی میں طے پانے والے فیصلے سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ جب قائد حزب اختلاف بولیں گے تو حکومتی بنچوں میں سے کوئی نہیں بولے گا اور جب قائد ایوان ہائوس میں بولیں گے تو حزب اختلاف بھی خاموشی سے سنے گی ،دونوں جماعتوں نے میرے ساتھ یہ طے کیا ہے کہ اگر کسی نے ہلڑ بازی کی اس کو پورے سیشن سے باہر نکال دوں گا۔

قائد حزب اختلاف حمزہ شہباز نے آئندہ مالی سال کے لئے پیش کئے گئے بجٹ پر عام بحث کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں ایک دوسرے کی بات سننی چاہیے ،تنقید برائے تنقید کے بجائے تنقید برائے اصلاح ہونی چاہیے ،ہر شہری کو بجٹ سے امیدیں ہیں کہ ہمیں کوئی ریلیف ملے ۔قومی اسمبلی میں جو کچھ ہوا جو بھی قصور وار ہے اس کی شدید مذمت کرتاہوں ، ووٹ لے جانے والے بوتلیں پھینکتے اور گالیاں دیتے ہیں جس سے جمہوریت سے لوگوں کا اعتماد متزلزل ہوتا ہے،بجٹ سیشن کو مثبت اور تعمیراتی بنائیں گے اورایسی روایات بنائیں گے جو آنے والی اسمبلی کیلئے مشعل راہ ہوں ۔

حمزہ شہباز نے کہا حکومت کی جانب سے پہلے کہاگیا 90 روز دیدیں، وزیر اعظم کہتے رہے آئی ایم ایف کے پاس گئے تو خود کشی کر لوں گا،تین سال میں تین وزیر خزانہ آئے ،ترقی کا تسلسل قائم رہے تو چہرے بدلنے میں کوئی حرج نہیں ، فنانس کے آئن سٹائن ایم آئی ایف کے گھٹنوں کو ہاتھ لگاکر پاکستان آئے ،روپے کی قدر چالیس فیصد کم کی گئی ،گورنر اسٹیٹ بینک کو ملک واپس لاکر خواب دکھائے گئے ،آئی ایم ایف جکڑ دیتاہے ،پہلے قرضے سے انکار کیاجاتارہا پھر قرضہ لے لیا جاتا ہے ،ہم نے 25ہزار ارب قرض لیا لیکن آپ نے 48ہزار ارب روپے قرض لیا،بجٹ ہضم نہیں ہوا کہ پیٹرول مہنگا کر دیا گیا ۔

انہوں نے کہا کہ کون سی گروتھ اور ترقی کے سہانے خواب دکھائے جارہے ہیں ،آئی ایم ایف کہہ رہاتھا گروتھ ریٹ دو فیصد ہوگا یہ تین فیصد کہتے رہے، پچھلے سال کہتے رہے گروتھ ریٹ 3.5ہے لیکن 1.9کااعتراف کہہ کر غلطی پر معافی مانگتے رہے،پاکستانی قوم روٹی کو ترس رہی ہے حکومت بجٹ کا گورکھ دھندا بند کرے ،بیروزگاری 33سے کئی گنا بڑھ گئی ہے ،آبادی کی ایکڑ بڑی تعداد خط غربت سے نیچے جا چکی ہے۔

حمزہ شہباز نے کہا کہ 2008ء میں چینی 55سی110، دال ماش 140سے 320 ، چائے 750سی950 ، گوشت 800پچاس سے 1500 روپے کلو، بجلی 8روپے یونٹ سی20روپے یونٹ، ادویات کی قیمتوں میں 300سی500فیصد اضافہ ہو،گیس 300فیصد مہنگی ہوئی، پیٹرول بھی اسی تناسب سے مہنگا ہوا،کیا غریب آدمی 20ہزار روپے میں گزارہ ہو سکتاہے۔ حمزہ شہباز نے کہا کہ اگر گروتھ ایسی ہوتی ہے تو دعا ہے ایسی گروتھ نہ ہو ، آج گھر گھر میں بھوک و افلاس ہے ،لوگوں کے پاس ادویات خریدنے کے لئے پیسے نہیں ،بجلی و پانی کے بل ،سکولوں ،یونیورسٹی کی فیسیں غریب آدمی کہاں سے دے گا ۔

ایک کروڑ نوکریاں،،پچاس لاکھ گھر ،ساڑھے 500 ڈیم، 200ارب واپس لانے ، پولیس اصلاحات ، نوے روز میں کرپشن کا خاتمہ ، دو کروڑ بچوں کو یکساں تعلیمی نصاب ،جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانے سمیت تمام وعدے اور اعلانات جھوٹ ثابت ہوئے ۔12کروڑ کے صوبے کو اسلام آباد سے ریمورٹ کنٹرول سے ہدایت دی جاتی ہیں،یہ عمل جمہوریت کے ساتھ مذاق، صوبے کی خود مختاری و آئینی ترمیم کے ساتھ زیادتی ہے۔

انہوںنے کہا کہ بجٹ اعداد و شمار کا گورکھ دھندا ہے،کرونا کا رونا رویا گیا اور چھپنے کی کوشش کی گئی۔ملک کے روپے کی قدر خطے میں سب سے کم ہے ، ترقی میں مالدیپ پہلے، بنگلہ دیش دوسرے ،بھارت تیسرے نمبر پر ہے لیکن ہم کہیں نہیں، عمران خان کہتے ہیںڈھائی سال بعد پتہ چلا معیشت کس بلا کا نام ہے،2018ء میں ہمارا ترقیاتی بجٹ 635آج 560ارب ہے ،جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانے والے کوکہتاہوں ہم نے 228ارب بجٹ رکھا تھا،آج 179ارب روپے بجٹ رکھا گیا ہے۔

جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ بنانے والے بتائیں کیا ون ونڈو آپریشن سے ایک ہاری کو انصاف ملتا ہے ،یہ صرف نعرہ ہے،(ن)لیگ نے صوبائی ٹیکس وصولی میں 197ارب روپے وصول کئے لیکن موجودہ حکومت نے صرف 78ارب روپے وصول کئے ، ہم نے ٹیکس وصولی میں 152کا اضافہ کیا،نان ٹیکس ریونیو میں 84فیصد اضافہ کرکے اسے 117ارب تک پہنچایا ،موجودہ حکومت نے ریونیو میں 10فیصد اضافہ کرکے 130ارب روپے حاصل کئے لیکن (ن)لیگ نے ٹیکس وصولی میں اسے 142سے 315ارب تک پہنچایا۔

ہم نے اپنے دور میں اخراجات 12.92فیصد بڑھائے ،آج حکومت کے اخراجات 23.45کی شرح سے ہیں۔انہوں نے کہا کہ تختی جس کی مرضی ہو جو مرضی نام رکھ لیں ، ہم نے خود روزگار سکیم سے 4لاکھ 51ہزارلوگوںکو بلاسو قرضے دئیے جس میں 70ہزار خواتین بھی شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ کیا حکومت کی آنکھیں کھلیں گیں، کیا عوام کا سوچا جائے گا ،کہاجارہاہے اور ڈھول پیٹے جارہے گندم کی فصل بہت اچھی ہو گئی ہے ،کاشتکاروں کو پیسہ مل رہاہے ،کہا جارہاہے گندم کی بمپر کراپ ہے کاشتکاروں کو فائدہ ہوگیاہے ان کے وارے نیارے ہو گئے ہیں لیکن حقائق کچھ اور کہتے ہیں ،گندم قیمت میں اضافہ کسان کی جیب سے ٹیوب ویل ،کھاد ، کیڑے مار ادویات اوردیگر مدوں میں مہنگائی کر کے پورا کیا جارہا ہے ۔

اگر کسان کی مدد کرنی ہے تو پیداواری لاگت میں کمی کریں اسے سبسڈی دیں۔ کپاس کی پیداوار تیس سالہ تاریخ میں کم ترین ہوئی ، کپاس بیج ہم نے کسان کو مفت دیا ۔ایک کلو کی چینی کیلئے عوام کو قطاروں میں لگ کر انگوٹھوں پر نشان لگوانا پڑتاہے،مافیاز مافیا کی بات کی جاتی ہے ، پہلے سستی چینی باہر بھجوائی جاتی ہے اور پھر مہنگے داموں درآمد کی جاتی ہے ، اس مد میں300ارب روپے کا ڈاکہ ڈالا گیا، چینی پر 3 ارب روپے کی سبسڈی دی گئی ،چار وزرا ء کی کمیٹی ،وزیر اعلیٰ کہتے ہیں مجھے یاد نہیں کس نے سمری پر دستخط کئے۔

انہوںنے کہا کہ ہم نے ایک ارب روپے کا اپنے خاندان کو نقصان پہنچایا لیکن چینی پر سبسڈی نہیں دی ۔پانچ ایکٹر سے کم کے تین لاکھ پچاس ہزار کاشتکاروں کو بلا سود قرضے دئیے ۔انہوںنے کہا کہ لاہور کی سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں ،کھڈے بنا دئیے ہیں،پنجاب بھر میں پکیاں سڑکاں سوکھے پینڈے کے نام سے 8ہزار کلومیٹر سڑکیں بنائیں جس پر 84ارب روپے خرچ کئے،حکومت نے ڈیری سیکٹر پر 10سے 17فیصد ٹیکس لگا دیاہے۔

انہوںنے کہا کہ حکومت نے صحت کیلئے 58ارب روپے رکھے لیکن 18ارب روپے خرچ کئے،حکومت نے لیہ، لاہور، میانوالی، رحیم یار خان، بہاولپور، ملتان اور راجن پور میں 9 جدید ہسپتال بنانے کااعلان کیا لیکن تین سال گزرنے پر یہ کہاں ہیں۔ہم نے سپیشلائزڈ ہیلتھ کئیر میں 25.6ارب کاترقیاتی بجٹ چھوڑا تھا۔موجودہ حکومت کے دور میںگارڈ نے ڈاکٹر بن کر خاتون کی سرجری کی تو وہ چودہ دن بعد مر گئی کیا تحقیقات ہوئیں اس واقعہ کی ۔

ملک کی کل آبادی بائیس کروڑ ہے لیکن کرونا ویکسین 1.28فیصد آبادی کے حساب سے صرف 28لاکھ لوگوں کو لگائی گئی،اگر اسی رفتار سے کرونا ویکسین لگے گی تو اٹھارہ سال میں قوم کو ویکسین مکمل ہوگی، اس حوالے سے ہمارا نام گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں آنا چاہیے۔انہوںنے کہا کہ دو سال میں حکومت نے ہائرایجوکیشن کیلئے 16ارب رکھے جبکہ ہم نے 18ارب رکھے۔حکومت نے تعلیم کیلئے تین سال بعد 26ارب روپے رکھے جبکہ ہم نے 34ارب رکھے۔

حکومت نے اب آئندہ مالی سال کیلئے دو ہزار بائیس کیلئے 42ارب روپے رکھے ہیں۔ہم نے ساڑھے تین لاکھ لیپ ٹاپ طالب علموں میں تقسیم کئے ،رنگ ساز کا بیٹا اب سرجن بن رہاہے،آپ نے چھ نئی یونیورسٹیاں بنانا تھیں وہ کہاں ہیں ،یہ گورنر ہائوس کی دیواریں گرانے کی طرح کا وعدہ تھا۔ہم نے امن و امان کیلئے 9 ارب حکومت نے 2.2فیصد رکھے اور 2021کے دس ماہ میں صرف 45کروڑ خرچ کئے۔

ساہیوال سانحہ میں بچوں کے سامنے والدین کو گولیوں سے چھلنی کر دیاگیا لیکن ایک صاحب نے ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر چیک دئیے ۔حمزہ شہباز نے کہا کہ رنگ روڈ واقعہ افسوسناک ہے اگر سکیورٹی ہوتی تو واقعہ نہ ہوتا،بچوں کے سامنے ماں کا ریپ کیاگیا ،سیف سٹی کے 8ہزار میں سے 3ہزار کیمرے بند پڑے ہیں ،ہم نے سیف سٹی پر 9 ارب روپے کے بجائے 22ارب روپے مختص کئے۔

انہوں نے کہا کہ تین سال میں 480بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات ہوئے ،3ہزار کیمرے خراب نہیں بلکہ قانون اندھا ہو چکا ہے بے حسی چھائی ہوئی ہے۔انہوںنے کہا کہ احتساب کا نعرہ لگایاگیا لیکن احتساب کی چھتری میں کرپشن رشوت کا بازار گرم کیاگیا۔ہمیں پولیس گھر کی لونڈی کا طعنہ دیاجاتا لیکن ڈی پی او پاکپتن کا واقعہ اور سپریم کورٹ کا نوٹس سب کے سامنے حکومتی کارکردگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

لاہور شہر جو ہر وقت صاف ستھرا ہوتا تھا آج کوڑے کاڈھیر بن چکا ہے ۔سپریم کورٹ نے لوکل باڈیز الیکشن کروانے کا اعلان کیا لیکن ابھی کچھ نہ ہوا۔ ہم نے خواتین کو وراثتی حقوق دئیے ،اورنج لائن ٹرین کے منصوبے میں 22ماہ کی تاخیر سے 11ارب روپے کا نقصان ہوا ،آج 65ہزار مسافر دو گھنٹے کا سفر چھالیس منٹ میں طے کرتے ہیں ،56 ارب روپے کا ڈھنڈورا سنتے سنتے کان پک گئے لیکن قوم سچ سن لے کہ حکومت نے لاہور ہائی کورٹ میں تسلیم کرلیا کہ چھپن کمپنیاں بناکر کوئی خلاف ورزی نہیں کی گئی۔

ہمیں جنگلہ بس کا طعنہ دینے والے سن لیں ہم نے 100 ارب روپے میں تین میٹرو بس سروس ملتان لاہور اور راولپنڈی میں بنائیںاس کے برعکس خیبر پختونخواہ کی بی آرٹی میں 100 ارب روپے سے زائد کی کرپشن کی گئی ،ایشین ڈویلپمنٹ بینک نے 27کلو میٹر کی ناقص پلاننگ کی نشاندہی کی۔خیبر پختوانخواہ حکومت حکم امتناعی کے پیچھے چھپی ہوئی ہے اورتحقیقات نہیں ہونے دی جارہی ۔

انہوںنے کہا کہ جنوبی پنجاب میں ڈیڑھ کروڑ درخت لگنے تھے لیکن تین سال میں حکومت نے اس منصوبے کو بغض و حسد کی نذر کردیا،اگر حکومت ہیلی کاپٹر ، مالم جبہ، فارن فنڈنگ کیس، چینی ،گندم اور راولپنڈی رنگ روڈ سکینڈل کی تحقیقات کرے اور مجرمان کو سزائیں تو مان لیں گے ،پی ٹی آئی نے احتساب کا سچا نعرہ لگایاتھا،صاف چلی شفاف چلی پر کہوں گا کہ پاکستان نے کرپشن میں چار درجے ترقی کی اور124کی پوزیشن پر ترقی کی ۔

حمزہ شہباز کی بجٹ پر تقریر کے دوران حکومت بنچوںسے مداخلت کی گئی ،حمزہ شہباز کی تقریر کے دوران حکومتی رکن نے ’’بس کر دیں‘‘کا جملہ کہا جس پر حمزہ شہباز نے احتجاجاًتقریر کو روک دیا او رسپیکر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ پہلی طے کیا گیا تھا کہ تقریر کے دوران کوئی مداخلت نہیں کرے گا۔سپیکر نے حکومتی بنچوںپر بیٹھے ممبرز کو خاموش رہنے کی رولنگ دی جس کے بعد حمزہ شہباز نے دوبارہ تقریر کا آغاز کر دیا۔

رکھے۔حکومت نے دو ہزار بائیس کیلئے بیالیس ارب روپے رکھے ۔ہم نے ساڑھے تین لاکھ لیپ ٹاپ طالب علموں میں تقسیم کئے رنگ ساز کا بیٹا اب سرجن بن رہاہے۔چھ نئی یونیورسٹیاں مری چکوال اور گرونانک یونیورسٹی بنانا تھی وہ کہاں ہیں یہ گورنر ہاس کی دیواریں گرانے کی طرح کا وعدہ تھا۔ہم نے امن و امان کیلئے نو ارب حکومت نے دو اعشاریہ دو فیصد رکھے اور دو ہزار اکیس کے دس ماہ میں پینتالیس کروڑ خرچ کئے۔

ساہیوال سانحہ میں بچوں کے سامنے والدین کو گولیوں سے چھلنی کر دیاگیا لیکن ایک صاحب نے ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر چیک دے کر کہا جا کوئی تحقیقات نہیں ہوئیں ۔ میاں حمزہ شہباز شریف نے کہا کہ رنگ روڈ واقعہ افسوسناک ہے اگر سکیورٹی ہوتی تو واقعہ نہ ہوتا۔بچوں کے سامنے ماں کا ریپ کیاگیا سیف سٹی کے آٹھ ہزار سے تین ہزار کیمرے بند پڑے ہیں ۔ہم نے سیف سٹی پر نو ارب روپے کے بجائے بائیس ارب روپے مختص کئے۔

تین سال میں چار سو اسی بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات ہوئے ۔آٹھ ہزار سے تین ہزار کیمرے خراب نہیں بلکہ قانون اندھا ہو چکا ہے بے حسی چھائی ہوئی ہے۔احتساب کا نعرہ لگایاگیا لیکن احتساب کی چھتری میں کرپشن رشوت کا بازار گرم کیاگیا۔ہمیں پولیس گھر کی لونڈی کا طعنہ دیاجاتا لیکن ڈی پی او پاکپتن کا واقعہ اور سپریم کورٹ کا نوٹس سب کے سامنے حکومتی کارکردگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

لاہور شہر جسے ہر وقت صاف ستھرا بنایاجاتا آج کوڑے کاڈھیر بن چکا ہے ۔سپریم کورٹ نے لوکل باڈیز الیکشن کروانے کا اعلان کیا لیکن ابھی کچھ نہ ہوا۔خواتین کو وراثتی حقوق دئیے ۔اورنج لائن ٹرین پچیس ارب روپے میں قائم کی بائیس ماہ کی تاخیر سے گیارہ ارب روپے کا نقصان ہوا ۔آج پینسٹھ ہزار مسافر دو گھنٹے کا سفر چھالیس منٹ میں کرتے ہیں ۔چھپن ارب روپے کا ڈھنڈورا پیٹتے پیٹتیکان پک گئے سچ قوم سن لے حکومت نے لاہور ہائی کورٹ میں تسلیم کرلیا کہ چھپن کمپنیاں بناکر کوئی قانونی خلاف ورزی نہیں کی گئی۔

ہمیں جنگلہ بس کا طعنہ دینے والے سن لیں سو ارب روپے میں تین میٹرو بس سروس ملتان لاہور اور راولپنڈی میں بنائیں۔میٹرو بس میں چار سو چھ ارب روپے کی بچت کی ۔اس کے برعکس کے پی میں بی آرٹی میں سو ارب روپے سے زائد کی کرپشن کی گئی ایشین ڈویلپمنٹ بینک نے ستائیس کلو میٹر کی ناقص پلاننگ کی نشاندہی کی۔حکومت کے پی میں بی آر ٹی پر سٹے آرڈر کے پیچھے چھپی ہوئی ہیجو تحقیقات نہیں ہونے دے رہے۔

حکومت نے ماحولیات اور درختوں کیلئے بجٹ میں چار اعشاریہ پانچ ارب روپے رکھے لیکن صرف تیس ارب روپے خرچ کئے۔جنوبی پنجاب میں ڈیڑھ کروڑ درخت لگنے تھے لیکن تین سال میں حکومت نے اس منصوبے کو بغض و حسد کی نذر کردیا۔اگر حکومت ہیلی کاپٹر سکینڈل، مالم جبہ، فارن فنڈنگ کیس، شوگر اور ویٹ سکینڈل، راولپنڈی رنگ روڈ سکینڈل کی تحقیقات کرے اور مجرمان کو سزائیں تو مان لیں گے پی ٹی آئی نے احتساب کا سچا نعرہ لگایاتھا۔

صاف چلی شفاف چلی پر کہوں گا کہ پاکستان نے کرپشن میں چار درجے ترقی کر لی ہے ۔ صوبائی وزیر صنعت و تجارت میں اسلم اقبال نے اپنی تقریر میں کہا کہ (ن) لیگ کی حکومت نے اربوں روپے خرچ کیے لیکن ماڈل ٹائون میں سیدھی گولیاں ماریں، کیا ماڈل ٹائون میں ہاتھ کی انگلی سے گولیاں ماری جا رہی تھیں،ماڈل ٹائون سانحہ راجن پور کے جنگل میں نہیں بلکہ لاہور میں ہوا جہاں سے آپ ووٹ لیتے ہیں۔

آپ میں اتنا حوصلہ نہیں کہ اتنے ممبرز میں سے کسی کو قائد حزب اختلاف بنا دیں،آپ نے صرف اپنے ہی خاندان کو نوازنا چاہتے ہیں،ٹکٹ کے نام پر لوگوں کو غلام بنا تے ہیں۔41 ارب روپے اوور ڈرافٹ تھا جو معلوم ہی نہیں کہاں گئی ۔(ن) لیگ دورکی 8ہزار اسکیمیں ہم نے مکمل کرائی ہیں۔میو ہسپتال کا ٹاوراور پنجاب اسمبلی کی نئی عمارت کواس لئے مکمل نہیں ہونا دیا گیا کیوں کہ اس پر تختی پرویز الٰہی کی تھی۔

وزیر خزانہ نے بجٹ تقریر میں تمام شعبوںبارے بتایا ،یہ حیران ہیں کہ تین سال میں جی ڈی پی 3.4 پر کیسے پہنچ گئی، وزیر اعظم عمران خان کی قیادت میں کرونا وبا کے باوجود ملکی معیشت ٹیک آف کر گئی لیکن شریف خاندان کی معیشت بیٹھ گئی ہے،یہ چور مچائے شور کا فارمولہ اپنائے ہوئے ہیں،شوگر ملز ان کی اور کہتے ہیں چینی پر سبسڈی دی۔کورونا کی وجہ دنیا کی صفہ اول کی معیشتوں نے گھنٹے ٹیک دئیے،اپوزیشن کو کورونا آنے پر خوشی ہوئی کے عمران خان ناکام ہو جائیں گے،عمران خان نے انڈسٹریز کو چلانے کیلئے جو کام کیا اپوزیشن کو اس کی پریشانی ہے۔

عمران خان نے عوام کیلئے کاروبار کے مواقع فراہم کیے ،پاکستان کی انڈسٹریز کے پاس آج ایکسپورٹ کے اتنے آڈر ہیں کے لیبر کم ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم نے صحت کے شعبے میں ان کے دور سے زیادہ بجٹ مختص کیا ،8515 ہسپتالوں میں آلات رکھے گئے ہیں، ہم نے 80 ارب روپے کا ہیلتھ انشورنس کا پروگرام شروع کیا ،31 دسمبر 2021 تک گیارہ کروڑو عوام کو ہیلتھ کارڈ دئیے جائیں گئے، ایک جھگی میں سونے والا غریب آدمی بھی صحت کارڈ کے ذریعے علاج کرا سکے گا،ان کی اورنج ٹرین کی کیا خصوصیات ہیں وہ سب کو پتہ ہیں،1لاکھ 90 ہزار مسافروںکا کا دعوی کیا گیالیکن 52 ہزار بھی نہیں آئے۔

سابق حکومت نے 200 ارب سے زائد خرچ کرکے ہمیں سفید ہاتھی کا منصوبہ دیا۔پانچ،سات ارب میں دانش سکول بنا دئیے جس میں صرف 300 طلبہ پڑھتے ہیں، ہم نے تعلیم کیلئے 142 ارب روپے مختص کیے گئے جو گزشہ سال سے 91 ارب زیادہ ہے، ہم نی97 ارب روپے (ن) لیگ کے بجٹ سے زیادہ رکھا ہے۔آئندہ سال کیلئے 25 فیصد ایلمنٹری سکولز کو ماڈل کا درجہ دیا جائے گا ،پنجاب کے آٹھ اضلاع میں یونیورسٹیوں کے قیام کی منظوری دی گئی ہے ،17 ارب سے عالمی معیار کی انجینئرنگ یونیورسٹی قائم کرنے جا رہے ہیں۔

رحمتہ العالمین سکالر شپ کیلئے 83 ارب مختص کیے گئے ہیں۔ انہوںنے کہا کہ کین کمشنر سے پوچھیںکس شوگر مل نے کس کس کے پیسے دینے ہیں،کسانوں کے پیسے رکھنے سے انسان امیر نہیں ہوتا،کسانوں کے پیسے اب کے نہیں بلکہ آٹھ آٹھ سالوں سے واجب الادا ہیں۔مسلم لیگ(ن) کے رانا مشہودنے کہا کہ یہ حکومت چوتھا بجٹ دے رہی ہے جس میں جھوٹ کے سوا کچھ نظر نہیں آ رہا،سانحہ ماڈل ٹائون کے بارے میں اخبارات میں آیا کہ یہ لندن پلان تھا،شاہراہ دستور پر قبریں کھودی گئیں تھیں،طاہر القادری نے اس حکومت کے خلاف احتجاج کا اعلان کر دیا ہے ، سانحہ ماڈل ٹائون کے نیچے یہ سانحہ ساہیوال کو نہیں چھپا سکتے۔

انہوںنے کہا کہ ہم نے جہاں سے درخت کاٹا اس کے مقابلے میں پانچ درخت لگائے ،تنقید کے لیے علم کا ہونا ضروری ہے جبکہ نقطہ چینی کے لئے جہالت ہی کافی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے چینی مافیا پر ہاتھ ڈالا تھا،ہم دو ماہ میں ہی چینی کی قیمتیں پچاس روپے پر واپس لائے ،خان صاحب جب بھی نوٹس لیتے ہیں تو قیمتیں بڑھ جاتی ہیں،یہ حکومت کا مافیاز کو پال رہی ہے ،رنگ روڈ اسکینڈل، شوگر اور آٹا اسکینڈل کی انکوائریوں سے کچھ نہیں نکلنا،آج عوام آدھا تولہ خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے ،اس حکومت میں عام آدمی کا جینا دو بھر ہو چکاہے۔

انہوںنے کہا کہ تین سال کے بعد بھی یہ حکومت ہمارے دیئے ہوئے بجٹ تک نہیں پہنچ سکی ،ہماری پالیسیوں کی وجہ سے کئی بچے اور بچیاں بیرون ملک پڑھنے گئے ،پیف کے پراجیکٹ کی مدد سے 96ہزار بچے اور بچیوں کو اسکول لائے ،چائنہ کے ساتھ ملکر ٹیکنیکل ایجوکیشن کے لئے یونیورسٹی قائم کی گئی ،ہمنے دوسرے ملکوں کے ماڈلز کا مطالعہ کرنے بعد ٹیکنیکل یونیورسٹی کو قائم کرنے کا فیصلہ کیا تھا، خیبر پختوانخواہ میں تحریک انصاف کی حکومت آٹھ سالوں سے حکومت کے باوجود ایک بھی ہسپتال بھی نہیں بناپائی ،کاروبار کی ترقی کے لئے بجلی ہم نے پیدا کی، دہشتگردی کوہم نے ختم کیا ،شہباز شریف پر الزام لگانے والے لوگ عدالتی فیصلے دیکھ لیں۔

پیپلز پارٹی کے سید عثمان محمود نے بجٹ بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ قومی اسمبلی میں جو ہوا اس کی مذمت کرتا ہوں،سپیکر چوہدری پرویز کو مبارکباد دیتا ہوں کہ انہوں نے نظم و ضبط اور ایوان کے تقدس کو بحال رکھا۔انہوں نے کہا کہ3 سال گزر گئے ہیں پنجاب کی اپوزیشن کے کسی ممبر کو ترقیاتی فنڈز نہیں دئیے گئے ،کیا اپوزیشن اس صوبے کا حصہ نہیں،تعلیم صحت اور سینی ٹیشن کے ایشوز پر کچھ نہیں کیا گیا ،حکومت کے اس اقدام کی شدید مذمت کرتا ہوں،اپوزیشن بھی عوام کے ووٹ لے کر آئی ہے ان کو دیوار کے ساتھ لگا دیا گیا ہے ،سپیکر چوہدری پرویز الٰہی کی قیادت میں اس ایوان نے پروڈکشن آڈر کا قانون پاس کیا،سپیکر نے کمیٹی میں گندم کا ریٹ 2 ہزار روپے مقرر کیالیکن حکومت نے کمیٹی کی تجویز کی بجائے 1800 روپے من گندم کا ریٹ نکالا،حکومت اپنا مالی سال کا ترقیاتی بجٹ بھی استعمال نہ کرسکی ،حکومت کے بجٹ میں جو اعدادوشمار دئیے گئے ہیں ان میں تضاد ہے ،حکومت نے ٹیکس فری بجٹ کا جھوٹا دعوی کیا ،نہ جانے حکومت اپنے اہداف کیسے پورے کرے گی،حکومت تو ٹیکس محاصل کے اہداف کو بھی پورا نہیں کرسکی ،وفاق نے این ایف سی ایوارڈ میں پنجاب کا 150ارب روپے کم کیا ہے ۔

ا نہوںنے کہا کہ آج تک شیخ زید ہسپتال بنانے کے منصوبے کا اعلان ہونے کے یہ شروع نہیں ہو سکا ،جنوبی پنجاب صوبے کے سیکرٹریٹ کو مسترد کرتے ہیں،جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ سے صرف اضافی اخراجات ہوں گے،بلدیاتی نظام کی دھجیاں اڑا دی گئیں ۔قبل ازیں سپیکر چودھری پرویز الٰہی نے ریسکیو 1122کے ایکٹ پر عملدرآمد نہ کروانے پر حکو مت پر اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ ریسکیو 1122 واحد ادارہ ہے جس کے سٹاف نے کورونا کے دنوں میں اپنی زندگیوں کی پرواہ کئے بغیر انسانیت کی خدمت کی۔

اگر ہم لوگو ں کی زندگیاں نہیں بچا سکتے تو اس ایوان میں بیٹھنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ انہوںنے کہا کہ ایکٹ کی مخالفت کرنے والے بیوروکریٹس کا نام لینا اچھا نہیں سمجھتا۔ سپیکر نے ایکٹ پر عملدرآمد کا معاملہ کمیٹی کے سپرد کردیا جبکہ سیکرٹری اسمبلی نے سپیکر کی ہدایت پر آج جمعہ کے روز ہی میٹنگ کا وقت مقرر کر دیا ۔سپیکر چوہدری پرویز الٰہی نے کہا کہ کورونا کے دنوں میں ڈی جی ریسکیو1122 ڈاکٹر رضوان نصیر سے بات کی، انہوں نے مجھ سے کمٹمنٹ کی اور عملے کو گھر گھر جا کر لاشیں دفنانے کا حکم دیا۔

بہت سے لوگوں کو ہمارا کام پسند نہیں تا کہ ہماری کارکردگی مزید بہتر نہ ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ ریسکیو1122کے بل کی خاطر میں نے وزیر اعلیٰ ، اراکین اسمبلی، وزرا ء اور ہر ذمہ دار سے بات کی اور اسمبلی نے یہ بل پاس بھی کیا، اسمبلی سے منظوری کے بعد گورنر صاحب بھی اس بل کومنظور کر چکے ہیں تا ہم یہ حکومت کے پاس رکا ہوا ہے اور اس پر عمل درآمد نہیں ہو رہا۔

انہوں نے کہا کہ یہ ایکٹ میرا نہیں نہ میرا س سے کوئی ذاتی مفادوابستہ ہے اس پر عمل درآمد سے بے شمار جانیں بچیں گے۔ انہوںنے کہاکہ اس کی مخالفت کرنے والے بیوروکریٹس کا نام لینا اچھا نہیں سمجھتا، وہ آج بھی بڑے عہدوں پر فائز ہیں۔ اس موقع پر سپیکر نے وزیر قانون محمد بشارت راجہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ مجھے آپ کی نیت پر شک نہیں ہے، مگر اس معاملہ میں آپ بھی بے بس نظر آئے، آپ نے کہا کہ آج ہو جائے گا کل ہو جائے گا مگر نہیں ہوا۔

سپیکر نے وزیر قانون کو کہا کہ آپ بے جا حکومت کا دفاع نہ کریں،سب سے زیادہ میں نے اس حکومت کا دفاع کیا ہے ۔چوہدری پرویز الٰہی نے کہا کہ دو روز قبل اسمبلی اجلاس کے دوران میں نے پرنسپل سیکرٹری کو بھی اس سلسلہ میں بلوایا مگر کوئی فائدہ نہیں ہوا،میں نے بہت سی حکومتیں چلائی ہیں، ضیا الحق کے زمانہ سے چلا آر ہا ہوں، مگر اسمبلی کے پاس کردہ بل پر عمل درآمد نہ ہونا ٹھیک نہیں۔

سپیکر نے معاملہ اسمبلی کی خصوصی کمیٹی نمبر13کے سپرد کرتے ہوئے سیکرٹری اسمبلی کو ہدایت کی وہ آج جمعہ کے روز ہی اس کی میٹنگ رکھیں جس کی صدارت میں خود کروں گا۔ بعدازاں سیکرٹری اسمبلی محمد خان بھٹی نے سپیکر چودھری پرویز الہی کے احکامات کی تعمیل میں آججمعہ دوپہر ایک بجے دن کمیٹی کی میٹنگ کا نوٹس جاری کروا دیا۔قبل ازیں سپیکر چوہدری پرویز الٰہی کی صدارت میں ہونے والے بزنس ایڈوائزر ی کمیٹی کے اجلاس میںوزیر قانون راجہ بشارت، وزیر صنعت میاں اسلم اقبال ،وزیر پراسیکیوشن چوہدری ظہیرالدین ،ملک ندیم کامران ،سمیع اللہ چوہدری ،خلیل طاہر سندھو اورسید حسن مرتضی نے شرکت کی ۔

اجلاس میں حکومت اور اپوزیشن نے بجٹ اجلاس پرامن چلانے پر اتفاق کیا ۔اجلاس کا وقت ختم ہونے پر پینل آف چیئرمین نے اجلاس آج جمعہ دوپہر دوبجے تک کیلئے ملتوی کر دیا۔
پاکستان میں کرونا وائرس کی چوتھی لہر سے متعلق تازہ ترین معلومات