پاکستان نے ایل او سی سے دراندازی کے بھارتی الزامات مسترد کردیئے

بھارت جعلی مقابلوں، نسل کشی اور فالس فلیگ آپریشنز کیلئے ایسے الزامات لگاتا آیا ہے،عاصم افتخار عالمی برادری کو بھارت کے جارحانہ اور پرتشدد عزائم سے ہمیشہ خبردار کیا،افغانستان میں زمینی حقائق تبدیل ہو چکے اور انسانی المیہ جنم لے رہا ہے، عالمی برادری کو افغانستان کا ہر ممکن ساتھ دینا ہو گا اور ساتھ لے کر چلنا ہو گا،ترجمان دفتر خارجہ کی ہفتہ وار بریفنگ

جمعرات 23 ستمبر 2021 19:19

پاکستان نے ایل او سی سے دراندازی کے بھارتی الزامات مسترد کردیئے
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 23 ستمبر2021ء) پاکستان نے لائن آف کنٹرل سے دراندازی کے بھارتی الزامات کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت جعلی مقابلوں، نسل کشی اور فالس فلیگ آپریشنز کیلئے ایسے الزامات لگاتا آیا ہے،عالمی برادری کو بھارت کے جارحانہ اور پرتشدد عزائم سے ہمیشہ خبردار کیا،افغانستان میں زمینی حقائق تبدیل ہو چکے اور انسانی المیہ جنم لے رہا ہے، عالمی برادری کو افغانستان کا ہر ممکن ساتھ دینا ہو گا اور ساتھ لے کر چلنا ہو گا۔

جمعرات کو ترجمان دفتر خارجہ عاصم افتخار نے ہفتہ وار بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ وزیراعظم عمران خان (آج) جمعہ کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے ورچوئل خطاب کریں گے، وزیراعظم کے خطاب میں کشمیر بنیادی نقطہ ہوگا جبکہ وزیر خارجہ اقوام متحدہ کی اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کررہے ہیں ۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ وزیرخارجہ نے تنازع کشمیر اور بھارت میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا معاملہ اٹھایا ہے، انہوں نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں پردستاویزات بھی سپرد کیں۔

ترجمان دفتر خارجہ نے لائن آف کنٹرول سے دراندازی کے بھارتی الزامات کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا کہ بھارت جعلی مقابلوں، نسل کشی اور فالس فلیگ آپریشنز کیلئے ایسے الزامات لگاتا آیا ہے، عالمی برادری کو بھارت کے جارحانہ اور پرتشدد عزائم سے ہمیشہ خبردار کیا۔انہوں نے کہا کہ بھارتی وزیراعظم پر نیویارک کی عدالت میں مقدمہ اقلیتوں کے ساتھ سلوک کا عکاس ہے، بھارت مسلمانوں، عیسائیوں، سکھ، دلت سب اقلیتوں کے ساتھ ناروا سلوک کر رہا ہے، عالمی برادری اقلیتوں کے خلاف بھارتی مظالم پر سنجیدہ مؤقف رکھتی ہے۔

ترجمان نے کہا کہ افغانستان میں زمینی حقائق تبدیل ہو چکے اور انسانی المیہ جنم لے رہا ہے، افغانستان میں دیرپا قیام امن اور استحکام پاکستان سمیت تمام ممالک کا مقصد ہے، عالمی برادری کو افغانستان کا ہر ممکن ساتھ دینا ہو گا اور ساتھ لے کر چلنا ہو گا۔