شہباز شریف کی بریت سے متعلق مسلم لیگ ن کا دعویٰ غلط ثابت ہو گیا

برطانوی عدالت کے آرڈر میں شہباز شریف کا نام اور بریت کا کوئی ذکر نہیں ہے،آرڈر میں سلیمان شہباز کے برطانوی بینک کے منجمد دو اکاؤنٹس کی بحالی کا ذکر ہے

Muqadas Farooq Awan مقدس فاروق اعوان منگل 28 ستمبر 2021 16:07

شہباز شریف کی بریت سے متعلق مسلم لیگ ن کا دعویٰ غلط ثابت ہو گیا
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔28 ستمبر 2021ء) : اپوزیشن لیڈر اور مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف کی بریت سے متعلق مسلم لیگ ن کا دعویٰ غلط ثابت ہو گیا۔میڈیا رپورٹ کے مطابق سلیمان شہباز کے 2 اکاؤنٹس پر برطانوی ویسٹ منسٹر مجسٹریٹ عدالت کے آرڈر کی کاپی حاصل کر لی گئی ہے۔برطانوی عدالت کے آرڈر میں شہباز شریف   کا نام اور بریت کا کوئی ذکر نہیں ہے۔

آرڈر میں سلیمان شہباز کے برطانوی بینک کے منجمد دو اکاؤنٹس کی بحالی کا ذکر ہے۔جبکہ اسی حوالے سے وزیراعظم کے مشیر برائے احتساب شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ برطانوی عدالت سے جاری حکم نامے میں کہیں شہباز شریف کا نام موجود نہیں، انہیں کسی چیز سے بری کیا گیا ہے نہ ہی ان کے خلاف لندن میں منی لانڈرنگ پر کوئی مقدمہ تھا۔

(جاری ہے)

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ رات دیر گئے میرا برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی سے رابطہ ہوا جس سے مجھے مجسٹریٹ کورٹ کا حکم نامہ ملا۔

انہوں نے 2 صفحات پر مشتمل یہ مختصر حکم نامہ 10 ستمبر کو جاری کیا تھا جسے فیصلہ نہیں کہا جاسکتا، دراصل اثاثے منجمد کرنے کا حکم واپس لینے کا حکم ہے۔انہوں نے کہا کہ ویسٹ منسٹر مجسٹریٹ کورٹ نے 17 دسمبر 2019 کو 12 ماہ کے لیے 2 بینک اکاؤنٹس کے اثاثے منجمد کیے تھے جس میں ایک سلیمان شہباز شریف اور ایک ان کے وکیل ذوالفقار احمد کے نام پر ہے۔شہزاد اکبر نے کہا کہ نیشنل کرائم ایجنسی (این سی ای) نے مشکوک ٹرانزیکشن کی بنیاد پر سلیمان شہباز اور ذوالفقار احمد کے اکاؤنٹس پر اثاثے منجمد کرنے کا حکم نامہ حاصل کیا تھا۔

انہوں نے واضح کیا کہ برطانیہ میں شہباز شریف کے حوالے سے اثاثے منجمد کرنے کا کوئی حکم جاری نہیں ہوا تھا۔انہوں نے کہا کہ حکم نامہ دونوں فریقین کی رضامندی سے جاری ہوا جس میں کہا گیا کہ اے ایف اوز کو ختم کیا جاتا ہے، نہ کسی کو اس میں جرمانہ ہے نہ ہی فیس کی ادائیگی ہونی ہے، لاگت کے حکم نامے اس وقت جاری ہوتے ہیں جب آپ کسی کے ساتھ ناانصافی کریں۔

انہوں نے کہا کہ برطانوی عدالت سے جاری حکم نامے میں کہیں شہباز شریف کا نام موجود نہیں، انہیں کسی چیز سے بری کیا گیا ہے نہ ہی ان کے خلاف لندن میں منی لانڈرنگ پر کوئی مقدمہ تھا۔شہزاد اکبر نے کہا کہ منجمد اثاثوں کی بحالی کے حکم کو ایسے بنا کر پیش کیا گیا جیسے لندن میں شہباز شریف کو منی لانڈرنگ کے کیس سے بری کیا گیا ہو۔مذکورہ حکم نامے کا پس منظر بتاتے ہوئے مشیر برائے احتساب نے کہا کہ دسمبر 2019 میں این سی اے کو برطانیہ کے 2 بینکوں سے سلیمان شہباز کے 2 اکاؤنٹس میں 2 مشکوک ٹرانزیکشنز کی اطلاع ملی جس پر این سی اے نے ان کے اکاؤنٹس کو منجمد کردیا۔

شہزاد اکبر نے کہا کہ این سی اے کے پاس یہ اختیار ہے کہ اگر کسی اکاؤنٹ یا ٹرانزیکشن پر کوئی شک گزرتا ہے تو اس کے اثاثوں کو 12 ماہ کے لیے منجمد کیا جاسکتا ہے اور مزید تفتیش کے لیے 12 ماہ کی توسیع حاصل کی جاسکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ تفتیش صرف اور صرف اس اکاؤنٹ اور ٹرانزیکشن سے متعلق ہوتی ہے جسے منجمد کیا گیا ہو اور یہ ایک سول نوعیت کا مقدمہ ہوتا ہے۔

مشیر برائے احتساب نے کیا کہ ایسا بڑھا چڑھا کر پیش کیا جارہا ہے کہ جیسے اثاثہ ریکوری یونٹ یا نیب نے یہ مقدمہ شروع کروایا ہو، یہ غلط رپورٹنگ ہے، جب مشکوک ٹرانزیکشن کی اطلاع ملی تو این سی اے نے پاکستانی اداروں سے رابطہ کیا اور 3 سے 4 افراد کے نام فراہم کرکے درخواست کی کہ اگر ان کے خلاف پاکستان میں کوئی مقدمہ یا تفتیش جاری ہے تو ہمیں فراہم کریں۔

انہوں نے بتایا کہ مذکورہ درخواست کے جواب میں اثاثہ جات ریکوری یونٹ نے تمام متعلقہ اداروں سے معلومات حاصل کرنیکے بعد خط لکھا، 7 دسمبر کو ہمیں این سی اے کی درخواست موصول ہوئی جس کا جواب 11 دسمبر کو دیا گیا تھا۔شہزاد اکبر نے کہا کہ اس خط کو مسلم لیگ (ن) والے بہت اچھال رہے ہیں، اس کا عنوان تو پڑھ لیں، اس کا آغاز ہی اس بات سے ہوتا ہے کہ آپ نے جو معلومات مانگی تھیں ان سے متعلقہ‘ اور نیچے اس خط میں شہباز شریف خاندان کے خلاف پاکستان میں چلنے والے مقدمات کی تفصیل بتائی گئی۔