ہر سال40ہزار خواتین کا چھاتی کے کینسر میں مبتلا ہو کر موت کے منہ میں چلے جانا کم تعداد نہیںہے جسٹس گلزاراحمد

عورتیں ہمارے معاشرے کی لائف لائن ہیں ،آئین اورقانون میں خواتین کو مکمل اختیارات اور حقوق حاصل ہیں مرض کی تشخیص کیلئے اقدامات اورہر شہر میں علاج کیلئے بہترین ہسپتال قائم کئے جانے چاہئیں ‘ چیف جسٹس پاکستان

ہفتہ 16 اکتوبر 2021 14:14

ہر سال40ہزار خواتین کا چھاتی کے کینسر میں مبتلا ہو کر موت کے منہ میں ..
لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 16 اکتوبر2021ء) چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزاراحمد نے کہا ہے کہ ہر سال40ہزار خواتین کا چھاتی کے کینسر میں مبتلا ہو کر موت کے منہ میں چلے جانا کم تعداد نہیںہے ،عورتیں ہمارے معاشرے کی لائف لائن ہیں ،آئین اورقانون میں خواتین کو مکمل اختیارات اور حقوق حاصل ہیں ،نہ صرف عورتوں میں چھاتی کے کینسر کے مرض کی تشخیص کیلئے اقدامات ہونے چاہئیں بلکہ ہر شہر میں علاج معالجے کے لئے جدید سہولتوں سے آراستہ بہترین ہسپتال قائم کئے جانے چاہئیں ۔

ان خیالات کا اظہارانہوںنے خواتین میں چھاتی کے کینسر کے مرض کی آگاہی اورپنک ربن ہسپتال کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ پاکستان میں خواتین کی تعداد مردوں کی نسبت زیادہ ہے لیکن افسوس خواتین کے لیے کوئی ہسپتال نہیں ہے اورمیرے لیے یہ بات تکلیف دہ ہے ۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ قوم کو اپنی خواتین کا شکریہ ادا کرنا چاہیے ،یہ ہمارے معاشرے کی لائف لائن ہیں، جب تک عورتیںصحتمند نہیںہوں گی ہمارا معاشرہ صحتمند نہیں ہو سکتا ،بچوں،شوہر اورگھر کے سارے معاملات کا انحصار خواتین پر ہوتا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے آئین نے بھی خواتین کو بڑے اختیارات اورحقوق دئیے ہیں ،پاکستان کے ہر شہر میں ایسے ادارے قائم کرنے کی ضرورت ہے جہاں پر چھاتی کے کینسر کے مرض میںمبتلا خواتین کا علاج ہو سکے ،اس کے لئے بہترین سہولتوں سے آراستہ جدید ہسپتال ہونے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ ہر سال 40ہزار خواتین کا اس مرض میں مبتلا ہو کر مر جا ناکہنے کے لئے آسان بات نہیں ہے ،ہم اسے نظر انداز نہیں کر سکتے۔

ہر ادارے اورمحکمے کو سوچنا ہوگا ،یہ تعداد بہت زیادہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس مرض کی تشخیص بہت ضروری ہے ، قوم کو اس کا احساس ہونا چاہیے ۔ خواتین کو بہت سی سہولیات دی جا سکتی ہیں ۔ اگر ہمارے آنے سے اس علاج کے لئے سہولیات ملتی ہیں تو ہم بار بار آئیں گے ۔ انہوںنے کہا کہ خواتین کو آئین میں حقوق اور تحفظ حاصل ہے ،انہیںہر جگہ نمائندگی ملنی چاہیے ۔ انہوںنے کہاکہ عمر آفتاب کے کہنے پر سپریم کورٹ کی عمارت کو پنک ربن میں بدلا ہے ۔