صنعتکاروں کا بجلی بلوں میں 20فیصد اضافی سیلز ٹیکس عائد کیے جانے کے خلاف احتجاج

بجلی بلوں میں17فیصد سیلز ٹیکس کے علاوہ مزید 20فیصد اضافی سیلز ٹیکس وصولی سراسر ناانصافی ہے، فیصل معیز خان حکومت بجلی بلوں میں اضافی سیلز ٹیکس وصولی کا فیصلہ واپس لے ورنہ صنعتیں تباہ ہوجائیں گی، صدر نکاٹی کی حکومت سے اپیل

ہفتہ 23 اکتوبر 2021 22:42

صنعتکاروں کا بجلی بلوں میں 20فیصد اضافی سیلز ٹیکس عائد کیے جانے کے خلاف ..
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 23 اکتوبر2021ء) نارتھ کراچی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری(نکاٹی) کے صدر فیصل معیز خان نے کے الیکٹرک کی جانب سے بجلی بلوں پر 20 فیصد اضافی سیلز ٹیکس عائد کرنے پر شدید احتجاج کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ یہ اضافہ فوری طور پر واپس لیا جائے اور کے الیکٹرک کو صنعتکار برادری سے لوٹ مار سے باز رکھا جائے بصورت دیگر صنعتیں جو پہلے ہی اپنی بقا قائم رکھنے کی سخت جدوجہد کررہی ہیں بجلی کی مد میں اضافی ٹیکس عائد ہونے سے تباہ و برباد ہوجائیں گی اور بے روزگاری کا سیلاب آجائے گا۔

نکاٹی کے صدر نے ایک بیان میں کہاکہ کے الیکٹرک کی جانب سے صنعتوں کو جو بجلی کے بل ارسال کیے گئے ہیں ان میں20 فیصد اضافی سیلز ٹیکس بھی لگایا گیا ہے حالانکہ کے ای بجلی بلوں میں پہلے ہی 17فیصد سیلز ٹیکس وصول کررہی ہے اس کے باوجود20فیصد اضافی سیلز ٹیکس عائد کرنے کا کوئی جواز نہیں بنتا۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہاکہ سیلز ٹیکس میں رجسٹرڈ صارفین سے مزیداضافی سیلز ٹیکس کی جبراً وصولی سراسر ناانصافی ہے جو پیداواری لاگت میں بے انتہا اضافہ کردے گی جس کے ملکی برآمدات اور صنعتی پیداواری سرگرمیوں پر بہت برے اثرات مرتب ہوں گے۔

فیصل معیز خان نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ کے الیکٹرک کی جانب سے بجلی بلوں میں 20 فیصد اضافی سیلز ٹیکس عائد کیے جانے کا نوٹس لیتے ہوئے فوری طور پر یہ فیصل واپس لیا جائے اور وزیراعظم عمران خان کے کاروبار کرنے اور صنعتیں چلانے کو آسان بنانے کے ویژن پر عمل کرتے ہوئے سازگار کاروباری وصنعتی ماحول فراہم کیا جائے بصورت دیگر صنعتکاروں کے لیے اپنی فیکٹریاں چلانا ناممکن ہوجائے گا لہٰذا حکومت اگر چاہتی ہے کہ صنعتوں کو فروغ حاصل ہو اور روزگار کے زیادہ سے زیادہ مواقع پیدا کیے جائیں تو لازمی طور پر کاروبار وصنعت مخالف اقدامات سے گریز کیا جائے تاکہ ملکی صنعتیں کورونا سے پیدا سنگین معاشی صورتحال کا مقابلہ کرتے ہوئے اپنے پاؤں پر دوبارہ کھڑی ہوسکیں۔