سعودی حکام کی غیرملکی کارکن کے ایک ساتھ دو جگہوں پر کام سے متعلق وضاحت

قانونی طور پرغیرملکی کارکن آجر کے علاوہ کسی دوسری جگہ کام نہیں کرسکتا‘ غیرملکی کارکنوں کے لیے لازمی ہے کہ وہ اپنے سپانسر کے ساتھ ہی کام کریں۔ جوازات

Sajid Ali ساجد علی پیر 29 نومبر 2021 14:04

سعودی حکام کی غیرملکی کارکن کے ایک ساتھ دو جگہوں پر کام سے متعلق وضاحت
ریاض (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 29 نومبر2021ء) سعودی حکام نے غیرملکی کارکن کے ایک ساتھ دو جگہوں پر کام سے متعلق وضاحت جاری کردی ۔ اُردو نیوز کے مطابق سعودی عرب کے سعودی محکمہ جوازات نے کہا ہے کہ قانونی طور پرغیرملکی کارکن آجر کے علاوہ کسی دوسری جگہ کام نہیں کرسکتا ، ایسا کرنے پرجرمانے اور ملک بدری کی سزا مقرر ہے ، اس لیے کسی بھی کارکن کے لیے ضروری ہے کہ وہ صرف اپنے سپانسر کے ساتھ ہی کام کریں ، سپانسرکے ذمے کارکن کے جملہ سرکاری امور کو پورا کرنا ضروری ہے ، محکمہ جوازات کی جانب سے یہ وضاحت ایک کارکن کی جانب سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں سامنے آئی۔

محکمہ جوازات نے کہا کہ کارکن کو کسی قسم کی پریشانی ہونے کی صورت میں قانونی راستہ اختیار کرتے ہوئے جائز مسائل کے حل کے لیے لیبر آفس سے رجوع کیا جا سکتا ہے۔

(جاری ہے)

دوسری جانب متحدہ عرب امارات میں کام کرنے والے غیرملکی ملازمین کو 2 آجروں کیلئے کام کرنے کی اجازت مل گئی ، 2 فروری 2022 سے ملازمین نئے لیبر قوانین کے تحت یو اے ای میں ایک سے زیادہ آجر کے لیے کام کر سکتے ہیں ، مزدور تعلقات کو منظم کرنے والے 2021 کے وفاقی قانون نمبر 33 کے تحت نجی شعبے میں ملازمین جز وقتی ، عارضی یا لچکدار کام کر سکتے ہیں ، باقاعدہ کل وقتی اسکیم کے علاوہ کام کی نئی قسموں کو متعارف کرانا ملازمین کے حقوق کی حفاظت کرتا ہے، انہیں ایک سے زیادہ کام کرنے اور اپنی صلاحیتوں کو مختلف طریقے سے استعمال کرنے کے قابل بناتا ہے ، پارٹ ٹائم کام ملازمین کو ایک یا زیادہ آجروں کے پاس مقررہ گھنٹوں یا دنوں کے لیے کام کرنے کی اجازت دیتا ہے ۔