پی ایس پی بلدیاتی ترمیمی قانون کے خلاف 30 جنوری کے معرکے کے لئے بلکل تیار ہیں:سید مصطفی کمال .

کراچی سے کشمور تک کی عوام کے وسائل اور اختیارات کے حصول کی جنگ لڑنے کراچی والے کثیر تعداد میں 30 جنوری کو فوارہ چوک پر جمع ہونگے اور اپنی بات منوا کر آئیں گی: چیئرمین پاک سرزمین پارٹی

جمعہ 28 جنوری 2022 23:56

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 28 جنوری2022ء) پاک سر زمین پارٹی کے چیئرمین سید مصطفی کمال نے کہا کہ پی ایس پی بلدیاتی ترمیمی قانون کے خلاف 30 جنوری کے معرکے کے لئے بلکل تیار ہیں۔ کراچی سے کشمور تک کی عوام کے وسائل اور اختیارات کے حصول کی جنگ لڑنے کراچی والے کثیر تعداد میں 30 جنوری کو فوارہ چوک پر جمع ہونگے اور اپنی بات منوا کر آئیں گے۔

23 جنوری کی پہلی ہی ملاقات میں ہماری 65 سے 70 فیصد تجاویز ماننے والے پیپلز پارٹی کے وفد پر واضح کردیا تھا کہ پی ایس پی 2013 اور 2021 کے بلدیاتی قانون کو نہیں مانتی۔ پی ایس پی 2001 کا بلدیاتی قانون مزید اختیارات اور وسائل کے لیے جدوجہد کررہی ہے۔ پی ایس پی کی بقایا 30 فیصد تجاویز پر پی ایس پی اور پیپلزپارٹی کی کمیٹی تشکیل دی گئی، پیپلزپارٹی کے وفد کو مذاکرات کے دوران اور پریس کانفرنس میں میڈیا کے سامنے بتا دیا تھا کہ بلدیاتی ترمیمی قانون کیخلاف پی ایس پی 30 جنوری کو فوارہ چوک سے وزیر اعلیٰ ہاؤس کی جانب مارچ کرئے گی، پی ایف سی کے اجرائ کا زکر 2013 کے قانون میں بھی موجود تھا لیکن آج تک اجرائ نہیں ہوا، سندھ حکومت پی ایف سی کا اجرائ 1200 ارب روپے کی صوبے کی گراس رقم پر کرے، پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت نے اگر اپنے تمام اخراجات پورے کرنے اور بلدیاتی اداروں کی تعداد پر پی ایف سی کا اجرائ کیا تو یہ فقط ڈرامے بازی ہے۔

(جاری ہے)

اٹھارویں ترمیم کے بعد تمام اختیارات صوبوں کو منتقل ہو گئے ہیں، یاد رہے کہ پاکستان کی کل آمدنی کا 56 فیصد صوبوں کو ملتا ہے جس میں سے 27 فیصد یعنی ایک ہزار ارب روپے سندھ کو ملتے ہیں، 200 ارب سندھ حکومت کی اپنی آمدنی ہے، پی ایف سی پر عمل درآمد کے لیے کمیشن بنانا ہوگا جسکی سربراہی سپریم کورٹ کے جج کریں۔ پیپلز پارٹی سے بلدیاتی ترمیمی قانون پر اتنی تفصیل اور باریک بینی سے بات اب تک کسی نے نہیں کی۔

حقیقت یہ ہے کہ تاحال 2021 کا قانون نافذ العمل ہے، یہ معاملہ کسی نوٹیفکیشن سے نہیں بلکہ صوبائی اسمبلی میں قانون سازی سے ہی حل ہوگا۔ وفاق سے ملنے والے اختیارات اور وسائل صوبوں میں منجمد ہو گئے ہیں، گلی محلوں میں نہیں گئے۔اٹھارویں ترمیم اگر عوام کو فائدہ نہیں پہنچا رہی تو اسے ختم ہونا چاہیے۔ اٹھارویں ترمیم نے صوبوں میں کرپشن مزید بڑھا دی ہے۔

پی ایس پی وزیر اعلیٰ ہاؤس سے اختیارات اور وسائل نکال کر کراچی سے کشمور کی گلی محلوں تک لانا چاہتی ہے۔ پی ایس پی ایک پرامن جماعت ہے لیکن ہم وہ بھی نہیں کہ ایک گال پر تھپڑ مارو گے تو ہم دوسرا گال پیش کردیں گے، ہم اسی طرح جواب دیں گے جیسے بات کی جائے گی، میں لڑائی نہیں چاہتا کیونکہ یہ کراچی سے کشمور تک ہماری نسلوں کا مسئلہ ہے، ہمیں ہر حال میں اس مسئلے کو حل کرانا ہے، مجھے سیاست نہیں کرنی، ہم نے اس مسئلے کو کبھی لسانی نہیں بنایا میں مہاجر ہوں تو میرے ساتھ سندھی،بلوچ پٹھان پنجابی سرائیکی بنگالی سب ہیں،اس معاملے پر ہم نے شہباز شریف، مولانا فضل الرحمان، پرویز الہٰی، سراج الحق سمیت سب سے بات کی، ہم جماعت اسلامی کے پاس گئے یہاں تک پیشکش کردی کہ ہم جماعت اسلامی کے جھنڈے تلے بیٹھیں گے۔

اسلام آباد جا کر آواز لگائی کہ پیپلز پارٹی کا بلدیاتی ترمیمی قانون قومی سلامتی کا مسئلہ ہے نہ کہ صرف ایک کراچی کا۔ پاکستان کی معاشی شہ رگ کراچی اگر انتظامی اور معاشی طور پر خودمختار نہیں کی گئی تو احساس محرومی بڑھے گی اور تباہی ہوگی۔ پیپلزپارٹی کو اگر یہ بلدیاتی ترمیمی قانون بہت بہتر لگتا ہے تو یہی قانون وفاق کو بھیج کر اسی فارمولے پر اختیارات اور وسائل کا معاہدہ کرنے کی ہمت کرئے۔

ہم نے پاکستان کے معاشی انجن اور سندھ کے دارالحکومت کے امن و امان کے لیے شہادتیں اس لیے نہیں دیں کہ پیپلز پارٹی کے ظالم اور متعصب حکمران اسے ذاتی جاگیر سمجھ کر تباہ کردیں۔ ہم الحمد لل? تب کھڑے رہے جب سچ بولنے کی سب سے چھوٹی سزا موت تھی۔ پوری جدوجہد میں بلدیاتی ترمیمی قانون کے مسئلے کو لسانی مسئلہ نہیں بنایا، جو لوگ اس کالے قانون کو تحفظ دے رہے ہیں وہ لسانی فسادات چاہتے ہیں تاکہ اصل مطالبات پیچھے رہ جائیں اور سندھی مہاجر اور پٹھان کا مسئلہ آگے آجائے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے پاکستان ہاؤس میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا اس موقع پر صدر پی ایس پی انیس قائم خانی سمیت دیگر مرکزی عہدیداران بھی موجود تھے۔ مصطفیٰ کمال نے مزید کہا کہ ہم نے 2013 کے بلدیاتی قانون کے خلاف 2021 کے بلدیاتی ایکٹ آنے سے پہلے مظاہرہ کیا۔ مختلف ڈسٹرکٹ میں عوامی احتجاج کے بعد جب پیپلز پارٹی نے کان نہیں دھرے تو نور گراؤنڈ میں جنرل ورکرز اجلاس کیا۔

اجلاس میں فیصلہ ہوا 30 جنوری کو وزیر اعلیٰ ہاؤس جا کر احتجاج کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری تیاریاں جاری تھیں اس دوران پیپلز پارٹی کی جانب سے رابطہ کیا گیا، بات چیت کے دروازے کھلے ہیں ناصر حسین شاہ اور مرتضیٰ وہاب پاکستان ہاؤس آئے،پارٹی کے سینئر اراکین پر مبنی کمیٹی مشتمل دی گئی۔ 23 تاریخ کو پیپلز پارٹی کا وفد آیا جس نے ہمارے 60 سے 70 فیصد مطالبات تسلیم کیے۔جس کے بعد پیپلز پارٹی کے مہمانوں کے ہمراہ پریس کانفرنس کی گء، پیپلز پارٹی کی جانب سے مجھ پر زاتی حملے کیے گئے، ہم نے اسے سندھی مہاجر مسئلہ نہیں بننے دیا۔