یوکرینی شہریوں کے وجود کو خطرہ لاحق، اقوام متحدہ

DW ڈی ڈبلیو بدھ 7 دسمبر 2022 12:00

یوکرینی شہریوں کے وجود کو خطرہ لاحق، اقوام متحدہ

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 07 دسمبر 2022ء) اقوام متحدہ کے انسانی امور کے سربراہ مارٹن گریفتھس نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو بتایا کہ انتہائی سرد موسم کے دوران بھی یوکرین کے توانائی کے انفرااسٹرکچر پر روس کے "مسلسل" اور "احمقانہ" حملوں نے یوکرینی عوام کی بنیادی ضرورتوں کے حوالے سے غیر معمولی صورت حال پیدا کر دی ہے۔

مارٹن گریفتھس نے منگل کے روز سلامتی کونسل کے اراکین کو 24 فروری کو یوکرین پر روسی حملے کے بعد سے وہاں ہونے والی اموات، لوگوں کی نقل مکانی اور درپیش مصائب کی تفصیلات بتائیں۔

مہاجرین کا بوجھ، جرمن شہروں میں گنجائش خاتمےکے دہانے پر

انہوں نے کہا کہ اہم تنصیبات اور بنیادی ڈھانچوں پرماسکو کے حالیہ حملوں نے صورت حال مزید ابتر کردی ہے اور لاکھوں افراد حرارت، بجلی اور پانی تک رسائی سے محروم ہوگئے ہیں۔

(جاری ہے)

جوکہ "جنگ کی وجہ سے پیدا شدہ انسانی بحران کا ایک اور خطرناک پہلو ہے۔"

یوکرینی شہریوں کا وجود حملے کی زد میں

گریفتھس کا کہنا تھا کہ 14ملین سے زیادہ افراد کو یوکرین سے نقل مکانی کے لیے مجبور ہونا پڑا ہے۔ ان میں 7.8 ملین وہ افراد شامل ہیں جنہوں نے یورپ میں مختلف ملکوں میں پناہ لے رکھی ہے۔

انہوں نے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق دفتر کے اعداد و شمار کے حوالے سے بتایا کہ یکم دسمبر تک کی رپورٹ کے مطابق اس جنگ میں مجموعی طور پر 17023 افراد ہلاک ہوچکے ہیں، جن میں 419 بچے شامل ہیں۔

تاہم کہا کہ ہلاکتوں کی حقیقی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہوسکتی ہے۔

یوکرین کو اب تک کس ملک نے کتنے ہتھیار مہیا کیے؟

گریفتھس نے بتایا کہ کم از کم 715 صحت کے مراکز پر حملے کیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ شہری انفراسٹرکچر پر حملوں کے نتیجے میں لوگ صحت خدمات اور بچے تعلیم سے محروم ہوگئے ہیں۔ یوکرین میں آج شہریوں کا وجود حملے کی زد میں ہے۔

"

خیال رہے کہ فروری میں یوکرین پر روس کے حملے کے بعد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی درجنوں میٹینگیں ہوچکی ہیں تاہم کوئی بامعنی اقدام کرنے میں ناکام رہی ہے۔ سلامتی کونسل میں ویٹو کا اختیار رکھنے والے پانچ ممالک، چین، فرانس، برطانیہ اور امریکہ کے ساتھ روس بھی شامل ہے۔

جنگ کا حقیقی متبادل پیش کیا جائے

اقوام متحدہ کی نائب سفیر ایڈوگ کومبے مسامبو نے میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مہینوں کی جنگ کے نتیجے میں یوکرینی عوام کو درپیش مصائب اور مایوسی کے مدنظر بین الاقوامی برادری کے سامنے جنگ کا کوئی حقیقی متبادل پیش کیے بغیر صرف میٹنگ پر میٹنگ کرنے سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ جنگ کو ختم کرنے کے سلسلے میں بات چیت کی جائے۔

روسی سفیر وسیلی نیبانزیا کا کہنا تھا کہ ماسکو بات چیت شروع کرنے کے لیے صرف اسی صورت میں تیار ہے جب "جنگ شروع کرنے کے بنیادی اسباب" کو حل کیا جائے۔

یوکرینی جنگ میں شدت لانا پوٹن کی بقا کا مسئلہ

ماسکونے ابتدا میں کہا تھا کہ فوجی حملے کا اس کا مقصد یوکرین کو غیر مسلح کرنا تھا تاکہ وہ روس کے لیے خطرہ نہ بن سکے لیکن کییف اور اس کے اتحادیوں کا خیال ہے کہ روس کا اصل مقصد یوکرین کی یورپ نواز حکومت کو معزول کرنا ہے۔

ج ا/ ص ز (اے ایف پی، روئٹرز)