Live Updates

پاکستان بہترین ملک ہے ،ہم اس کو دنیا کا بہترین ملک بنا سکتے ہیں ،اگر صوبوں کو حقوق دیا جائے گا تو سب کہیں گے پاکستان ذندہ باد،محمود اچکزئی

ہمیں ہر صوبے کے لوگوں کے وسائل کو سمجھنا ہوگا۔آئیے اپنے ملک کو بچائیں،وزیرستان کے لوگوں کو بلائیں کہی یہ ملک آپکا ہے،آپ پارٹیز کانفرنس سے خطاب

اتوار 18 جنوری 2026 23:15

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 18 جنوری2026ء) تحریک تحفظ آئین پاکستان کے مرکزی چیئرمین و قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ پاکستان بہترین ملک ہے ۔ہم اس کو دنیا کا بہترین ملک بنا سکتے ہیں ۔اگر صوبوں کو حقوق دیا جائے گا تو سب کہیں گے پاکستان ذندہ باد ۔ہمیں ہر صوبے کے لوگوں کے وسائل کو سمجھنا ہوگا۔آئیے اپنے ملک کو بچائیں۔

وزیرستان کے لوگوں کو بلائیں کہی یہ ملک آپکا ہے ۔دیکھیں گے دہشت گردی ختم ہو جائے گی ۔مذہبی انتہا پسندی کے باوجود یہ لوگ خون کے پیاسے ہیں ۔پچیس کروڑ انسانوں کا مینڈیٹ چھینا گیا ۔سب بھائی بنیں پاکستان کو گلدستہ بنائیں ۔آٹھ فروری کو ہم نے نکلنا ہوگا۔پرامن طریقے سے عوام کو اپنا احتجاج کرنا ہوگا ۔عوام کو اپنا اتحاد دکھانا ہوگا۔

(جاری ہے)

ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتوار کو کراچی پریس کلب میں تحریک تحفظ آئین پاکستان کی آل پارٹیز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

اے پی سی میں مختلف سیاسی ۔مذہبی اور قوم پرست جماعتوں۔وکلا سول سوسائٹی کے رہنماں کی شرکت کی۔اے پی سی میں قومی ترانہ پڑھاگیا۔پاکستان زندہ باد کے نعرے لگائے گئے۔سانحہ گل پلازہ میں جاں بحق افراد کے لیے دعا کی گئی۔اے پی سی کے موقع پر پریس کلب کے باہر سیکورٹی کے سخت انتظامات تھے ۔پولیس کی بھاری نفری تعینات تھی۔اطراف کے راستوں کو رکاوٹیں لگاگر بند کردیا گیا۔

ٹریفک کو متبادل راستوں سے گزرا گیا۔ تحریک تحفظ آئین پاکستان کے مرکزی چیئرمین قائد حزب اختلاف قومی اسمبلی محمود خان اچکزئی نے کہا کہبکراچی پاکستان کا علم اور دانش کا شہر ہے ۔ہم کراچی والون کو لیکچر دینے یا سمجھانے نہیں آئے۔جب انگریز حکمران تھے اس وقت بھی سندھ دھرتی کے لوگوں نے بغاوت کی ۔سندھ کے حر مجاہدین نے بھی انگریز سامراج سے لڑے۔

پیر پاگارا کے والد کو گرفتار کر کے شہید کر کے قبل گم کر دیپہلا پرنٹنگ پریس کوئیٹہ مین 1978 میں لگایا گیا ۔پہلے اخبار کا تصور نہیں تھا۔استقلال اخبار پہلا جاری ہوا۔انجمن وطن 1938 میں بنایا گیا۔چھوٹے صوبوں کی باتیں کی جارہی ہیں .برٹش انڈین آرمی کے چالیس ہزار سپاہی قبائلی علاقوں کے لوگوں کے ساتھ جنگ کرتے رہے۔خیبرپختونخوا کا عوام اگر دہشت گرد ہے تو تمام سفارت خانون کے سامنے پختون گارڈ کیوں کھڑے ہیں .ایسی باتیں ہمیں دکھ دیتی ہیں .ہم تمام انسان کو بھائی سمجھتے ہیں .دنیا گائوں میں تبدیل ہوگیا ہی.ہم بچوں کی تربیت دینی ہی.انسانوں کو انسان سمجھا جائے .اگر ہم نے دنیا میں زندگی گزارنے ہے بتانا ہوگا .جس خدا کو مانتے ہیں کوئی نہیں روکے گا .سب قوموں کو اپنی ثقافت کے ساری ثقافتیں زندہ باد .ہم اگر ہمارا مذہب عزیز ہے تو دوسرے کے مذہب کی عزت کرنا ہوگی۔

محمود خان اچکزئی نے کہا کہ پاکستان بہترین ملک ہے ۔ہم اس کو دنیا کا بہترین ملک بنا سکتے ہیں ۔اگر صوبوں کو حقوق دیا جائے گا تو سب کہیں گے پاکستان ذندہ باد ۔ہمیں ہر صوبے کے لوگوں کے وسائل کو سمجھنا ہوگا۔ائیے اپنے ملک کو بچائیں۔وزیرستان کے لوگوں کو بلائیں کہی یہ ملک آپکا ہے ۔دیکھیں گے دہشت گردی ختم ہو جائے گی ۔مذہبی انتہا پسندی کے باوجود یہ لوگ خون کے پیاسے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ شرک کے بعد سب سے بڑا گناہ انسان کا قتل ہے ۔ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے۔غلط پالیسیوں کی وجہ سے پنجاب کا زمیدار غرق ہوگیا ۔چمن بارڈر خیبر بارڈر سے قندار تک دس ہزار لوگ روز روزگار کرتے ہیں۔پشتون کا سب سے بڑا شہر دبئی ہے ۔اس کا مطلب نہیں ہم دبئی کے مالک کے۔ہمارے لوگ آتے ہیں روزگار کرتے ہیں ۔سندھ سندھیوں کا کا ہے کے پی پختونوں کا ہے بلوچستان بلوچوں کا کا ہے ۔

جو مراعات لندن امریکہ میں ملتی ہیں وہ عوام کو دی جائے تو جھگڑا ختم ۔پچیس کروڑ انسانوں کا مینڈیٹ چھینا گیا ۔سندھ کو بلوچستان پشتون علاقوں کو لوٹین گے اور ہم ناچیں گے یہ نہیں ہوسکتا ہے ۔سندھ زبدہ آباد ہوگا تو پاکستان سے ذندہ باد ہوگا ۔سب بھائی بنیں پاکستان کو گلدستہ بنائیں ۔آٹھ فروری کو ہم نے نکلنا ہوگا۔پرامن طریقے سے عوام کو اپنا احتجاج کرنا ہوگا ۔

عوام کو اپنا اتحاد دکھانا ہوگا۔سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا کہ کراچی ملک کا سب سے بڑا شہر ہے ۔ ملک کا سب سے بڑا ٹیکس کراچی سے ملتا ہے ۔وزیر اعلی خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کا سندھ کی عوام نے تاریخی استقبال کیا ۔سندھ کی عوام نے عمران خان سے محبت کا اظہار کیا۔اس پر پوری عوام کا شکریہ ادا کرتا ہوں ۔ہمارا لیڈر دو سال سے زیادہ دنوں سے جیل میں ہے ۔

جیل میں دو سو سے زیادہ پرچے جھوٹے ہیں ۔سارے پرچے زور اور جبر کے بنیاد پر بنے۔عمران خان نے شاہانہ زندگی پر مشکل حالات کو ترجیح دی۔اگر عمران خان وزیر اعظم رہا عوام برائے ذاتی کیا فائدہ اٹھایا .اس وقت کی بیوی بھانجہ جیل میں ہے .لیکن مشکل ترین حالات میں بھی عمران خان ڈٹ کر کھڑا ہی.جب بھی ملا ہوں نہیں لگا وہ جیل میں ہیں.اسد قیصر نے کہا کہ عمران خان چٹان کی طرح کھڑا ہے ۔

عمران خان نقطہ نظر عوام کے حقوق کا ایجنڈا ہے ۔عمران خان نے کہا کمپرومائز نہیں کروں گا۔ملک کو آئین و قانون کے مطابق چلایا جائے ۔عمران خان نے کہا اگر اقتدار ملا تو کسی سے انتقام نہیں لونگا۔کیا یہ ملک کسی باپ کی جاگیر ہے۔ملک قانون اور آئین کے مطابق چلتے ہیں ۔قانون اظہار آزادی کی اجازت دیتا ہے۔لیکن ہمیں روکا جاتا ہے کہیں جلسہ نہیں کر سکتے ۔

ہمارا آئینی حق ہے کہ ہم عوام سے ملیں ۔پنجاب میں حالات بدترین ہیں ۔ہمارے لوگوں کے سامنے رکاوٹیں کھڑی کی جاتی ہیں ۔اسمبلیاں اسٹیٹ ہوتی ہیں۔جہاں ایوانوں کی حیثیت کو کچلا جائے تو کیا کیا جائے ۔ہم بھیڑ بکریاں تو نہیں ۔عوام لاکھوں کی تعداد میں نکل رہی ہے ۔حکومتی پارٹیاں ایک جلسہ کریں اور تمام وسائل استعمال کریں تو ایک جلسہ نہج کر سکتے ۔

کراچی کی بائیس سیٹیوں میں سے ایک بھی ایک کیو ایم نہیں جیتی ۔عوام نے ووٹ ایک کو دیا اسمبلی میں کوئی اور بیٹھے ہیں۔اسد قیصر نے کہا کہ سندھ کے حالات خراب ہیں نہ روڈ ہیں نہ سڑکیں ہیں ۔بلاول بھٹو بتائیں اپکو سندھ کی ٹوٹی سڑکیں نظر نہیں کیوں نہیں آتی۔کرپشن ظلم جبر سے سندھ میں بھی اقتدار سنبھالا ہوا ہی.فیصلہ کرنا ہوگا کہ یہ ملک عوام کی مرضی سے چلے گا.یہ کچھ مخصوص لوگوں کے فیصلوں سے چلے گا .عوام کا حق ووٹ ہے جو چھینا گیا ہے .جن نے ووٹ چھینا ہے اس پر آرٹیکل چھ لگنا چاہیے .نواز شریف اپنی سیٹ ہار چکا ہے .شہباز شریف مریم نواز بھی سیٹ ہار چکے تھے .ان کا کوئی ضمیر نہیں یہ لوگ بے ضمیر ہیں ۔

اس اسمبلی کے پاس قانون سازی کا اختیار نہیں ہے ۔ہم جب بھی حکومت میں آئین گے تمام قانون سازی کو واپس کریں گے۔سندھ میں عوامی مسائل پر عوام کے ساتھ کھڑے ہیں ۔گل پلازہ میں آگ لگنے کا افسوسناک واقعہ ہے ۔کس قسم کی حکومت ہے یہ آگ نہیں بچھا سکتی.انہوں نے کہا کہ پاکستان کو قائد اعظم کا پاکستان بنایاجائی.خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کی حکومت ہے .این ایف سی میں ہماراخیبرپختونخوا کا شیئر روکا گیا ہی.چودہ فیصد فاٹا کا بجٹ ضم ہونے کے بعد نہیں دیا گیا .ہماری انڈسٹری بند ہورہی ہی.معشیت تباہ ہورہی ہے .فوری طور پر خیبرپختونخوا کے بقایاجات جاری کی جائیں.آٹھ فروری کے احتجاج میں یوم سیاہ منائیں گے .شٹر ڈائون پیہ جام کریں گی.سب سے درخواست کریں گے ایک دن کے لیے ہمارا ساتھ دیں.مجلس وحدت المسلمین کے سر براہ قائد حزب اختلاف سینیٹ سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ اللہ تعالی نے فرمایا ہے ظلم کے خلاف ڈٹ جا۔

مظلوم ظالم کے مقابلے میں فریاد بلند کرے ۔اگر سر جھکائیں گے تو یہ عمل ناپسندیدہ ہے ۔پاکستان پر ظالموں کا قبضہ ہے ظلم جاری ہے ۔عوام کے مفاد میں جہاں قانون سازی ہونی چاہیے تھی وہ ظالموں کے قبضے میں ہے ۔جس عدلیہ سے انصاف ملنا تھا وہ بھی ظالموں کے قبضے میں ہے ۔ان حالات میں ہر پاکستانی کی زمہ داری ہے اپنے حق کے لیے بولے ۔ پاکستان کی ابادی کا حصہ جوانوں کو ہے۔

جوان ہر مشکل پر آسانی بنا لیتے ہیں ۔ظالموں نے خوف کی فضا بنا رکھی ہے ۔پیکا ایکٹ کے خلاف میڈیا والے کیوں نہیں بولتے ۔میڈیا بھی مالدارون کے قبضے میں چلا گیا ہے میڈیا بھی کارپوریٹ بن گیا ہے۔کارپوریٹ میڈیا کے ذریعے معمر قذافی کی حکومت بنائی گئی۔میڈیا پر والوں کا نام لیا جاسکتا ہے ۔لیکن عمران خان کا نام کیوں نہیں کیا جاتا ۔اس وقت عوام یہ ہے جو پاکستان کو مشکل حالات سے نکال سکتے ہیں ۔

بلوچستان کے پی جل رہا ہے سندھ میں محرومیت ہے ۔سب سے زیادہ سیاسی قیدی اس وقت پنجاب میں ہیں ۔اس وقت عمران خان کو جیل میں ڈال کر عوام کو جدا نہیں کر پائے۔نوے فیصد عوام عمران خان کے ساتھ ہے۔اگر ایک دن عوام اٹھے آٹھ فروری کو عوام نکلے ۔پرامن طریقے سے عوام نکلے تو یہ مقابلہ نہیں کر سکتے ۔ہم آئین کی بات کرتے ہیں ۔آئین عوام کی امنگوں کا ترجمان ہوتا ہے ۔

جس پر معاشرہ بنتا ہے طاقت دیتا ہے۔انہوں نے کہا کہ آٹھ فروری کو عوام کو بولنا پڑے گا ۔حالات خطرناک بن بجے ہیں۔ملک جل رہا ہے سب کو نکلنا ہوگا ۔ہر طبقہ فکر کے لوگوں کو نکلنا ہوگا اگر عوام آٹھ فروری کو نکلی تو نو فروری کو بڑی تبدیلی آئے گی۔وائس چیئرمین تحریک تحفظ آئین پاکستان سید زین شاہ نے کہا کہ ملک کے حالات برے ہیں ۔شہریوں کا معیار زندگی کم ہورہا ہے ۔

معیشیت کا حال برا ہے ۔وسائل کے کنٹرول کی جنگ ہے ۔پچیس کروڑ عوام کی زندگی مفلوج بنا کر رکھ دی گئی ہے۔ہم نے اپوزیشن کی تمام جماعتوں کو آل پارٹیز کانفرنس میں بلوایا ہے۔چھبیسویں ستاسیویں آئینی ترمیم پیکا ایکٹ سب جڑ ہیں ۔پورے ملک میں عدم سیاسی استحکام ہے۔پارلیمنٹ ربڑ اسٹیمپ ہے ۔کراچی کلفٹن میں گٹر بن گئے ہیں کبھی صاف پانی ہوا کرتا تھا نسڑکیں تباہ بجلی مخصوص علاقوں کے علاہ پورے شہر میں صحیح نہیں ہے۔

پانی شہر میں نہیں آتا ٹینکر سے پانی لیا جاتا ہے ۔انڈس ڈیلٹا کو تباہ کیا گیا ہے۔سندھ بھر کی فاریسٹ ختم ہوتی جارہی ہے ۔ہماری خواہش ہے کہ ان چیزوں کو سنجیدہ لینا ہوگا ۔آج جو حالات ہیں پانچ سال حکومت کرنے کے لئے انہوں نے اپنے جج رکھ دیئے ہیں ۔عدلیہ کو کمزور کر دیا گیا ہے ۔آج جو خطرات ہیں وفاقی وزیر غیر زمہداری کا اظہار کرتے ہیں ۔صوبوں کو چھوٹے صوبے بنانے کی باتیں کی جارہی ہیں ۔

ہم گالی سمجھتے ہیں سندھ کی تقسیم قبول نہیں۔سید زین شاہ نے کہا کہ پاکستان میں جس نظام نے قبضہ کیا ہے اس سے جان چھڑانے کے ۔عوام ہمارا ساتھ دے ہم ایسا ملک چاہتے ہم جس میں عدل انصاف ہو۔مذہبی آزادی ہو، جینڈر ڈسکرپشن نہ ہو ۔فری انصاف سب کو ملے ۔ فری اینڈ فیئر الیکشن ہو ہم ایسا ملک چاہتے ہیں جس میں انسانی حقوق کی احترام کو۔عدلیہ کی آزادی میڈیا کی آزادی ہو۔

اجتماعی قربانیوں کے سب کو تیاری کرنا ہوگی ۔عوامی حقوق کے لیے سب جو نکلنا ہوگا ۔ہمارا ساتھ دے ۔پانی کے معاملے پر سندھ کی عوام نے ساتھ دیا تو عوام کی فتح ہوئی ۔حق کے لیے اگر جان بھی چلی جائے تو پرواہ نہیں کرنی ۔8 فروری کی کال پر عوام ساتھ دے۔جنرل سیکرٹری جی ڈی اے ڈاکٹر صدر عباسی نے کہا کہ ہم اسی چوراہے پر پہنچ گئے جہاں چھوڑا گیاتھا .پاکستان میں ڈکٹیٹرشپ کی طویل تاریخ ہے ہم اس وقت کہیں نہیں کھڑی. اسٹبلشمنٹ کیوں نہیں سمجھتی .عوام پہلے بھی ان کے خلاف نکلی تھی.یحیی خان کے دور ضیئا الحق ادوار میں بڑے دعوے کیئے گئے لیکن وہ بھی نکالے گئی.موجودہ صورتحال سے سبق سیکھناچاہیی.سیاستدانوں سے ایک غلطی ہوئی ہے .سیاسی جماعتوں کو بھی اپنی پارٹی کی جمہوریت پر دھیان دینا ہوگا.ہم اس وقت سب سے مشکل تحریک میں جارہے ہیں. ہم نے بہت ساری تحریکیں دیکھی ہیں..آج کا نظام ستائیسویں ترمیم نے تباہ کر دیا ہے .چھبیسویں ستاسیویں ترمیم کے ذریعے نظام کو مفلوج کیا.چھبیسویں ترمیم میں ماحول بنایا ستائیسویں ترمیم میں سب کچھ کیا گیا.ہم موجودہ پارلیمنٹ کو تسلیم نہیں کرتے .نہ ستائیسویں نہ اٹھائیسویں ترمیم کو تسلیم کرتے ہیں.ہمارے تین پارلیمنٹیرینز اس کا حصہ نہیں بنی.جماعت اسلامی کے نائب امیر کراچی مسلم پرویز نے کہا کہنابتدا سے یہاں پر اسمبلیاں توڑی گئی ہیں .یہاں نہ کبھی میڈیا آزاد رہا نہ عدلیہ نہ سیاست .ایک الیکشن بھی آج تک آزاد نہیں ہوا.چار ممالک اس وقت ٹارگٹ پر ہے .ایران، بنگلادیش ، افغانستان پاکستان ٹارگٹ پر ہیں .معشیت کو سنبھالنا بہت ضروری ہے .سیاسی استحکام بہت ضروری ہے .عوام سے زیادہ ملکی حالات کو کوئی بہتر نہیں سمجھ سکتا.استحکام پاکستان پارٹی کے مرکزی رہنما اور سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا کہ چند ہفتوں میں حکومت نے دو سروے نکالے ہیں۔

لیبر اور ہائوس انکانک سرے نکالا ہے۔ سروے میں بتایا گیا ہے غربت میں اصافہ ہوا ہے ۔غریب لوگ مزید 18 فیصد غریب ہوئے ہیں ۔آوستا پاکستانی بارہ فیصد غریب ہوئے ہیں۔ہماری انکم 2010 والی آج تک کھڑی ہے۔2021 میں حقیقی انکم کم ہوتی جارہی ہے ۔2018 میں سولہ فیصد گھرانوں کو کھانے کی فکر تھی۔آج ان گھرانوں کی تعداد پچیس فیصد ہوگئی ہے ۔پچیس فیصد لوگوں کو پتہ نہیں روٹی کہاں سے ائے گی،۔

2018 میں ہر پاکستانی زیادہ کھاتہ تھا اج وی نہیں کھا سکتا۔2018 میں جو چار انڈے کھق سکتا تھا اج ایک انڈہ نہیں کھا سکتا ۔پاکستان کو معاشی طور پر تباہ کیا گیا ہے ۔گوشت، گندم چاول عوام میں کھا سکتی۔انہوں نے کہا کہ سال پانچ سال پہلے شہری تنخواہ سے پیسے بچا لیتا تھا۔آج کا شہری قرض لیکر بھی گھر نہیں چلا سکتا۔کئی خاندانوں کے کے پاس ناشتہ تک نہیں کر سکتے۔

جب تک سیاست سیٹل نہیں ہوتی تو معیشیت ٹھیک نہیں ہوگی۔پہلا قدم حکومت کو بڑھانہ ہوگا ۔اب کہا جارہا ہے 25 سال کی عمرکو ووٹ کو حق دیا جائے۔کچھ دنوں میں کہا جائے گا ووٹ کی عمر ستر سال کر دی گئی ہے ۔گل پلازہ میں افسوسناک آگ کا واقعہ ہوا۔متاثرین سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں ۔سندھ میں پ پ کی حکومت اٹھارہ سالوں سے ہے ۔کراچی میں آگ پر قابون نہیں پاسکتے تو اندرون سندھ کے کیا حالات ہونگے۔

مفتاح اسماعیل نے کہا کہ اگر حکومت کے پاس مینڈیٹ نہیں تو وہ تبدیلی نہیں پاسکتے۔خدارا عوام کو خیال کریں۔بھوک افلاس پھیل رہی ہے۔غریب غریب تر ہوتا جارہا ہے۔دنیا بھر سستا ہورہا ہورہا ہے لیکن حکومت لینے کو تیار نہیں ۔غریب عوام کے خاطر آپس میں بیٹھ کر معاہدہ کرنا چاہیے۔محمود خان اچکزئی اسد قیصر مل کر حکومت سے بات کریں ۔چار سالوں سے سیاست پھنسی ہوئی ہے۔

پیکا ایکٹ کے خلاف صحافی برادری جو بات کرنا چاہیے۔سابق سینیٹر مشتاق احمد سے کہا ہے کہ کراچی پریس کلب کا شکریہ جنہوں نے پروگرام کی اجازت دی۔کراچی پریس کلب نے جمہوریت کا عزم کیا ہے۔ جس کی وجہ سے آج یہاں آل پارٹیز کانفرنس کا انعقاد ہوا ۔پاکستان کو چار بنیادی چیلنج ہیں۔معاشی استحکام سیاسی استحکام جمہوریت سے آتاہے۔پاکستان کی ساٹھ فیصد دولت دس فیصد لوگوں نے ہاتھ میں آچکی ہے۔

پاکستان میں غزائی قلت کی وجہ 53 فیصد میں اضافہ ہوا ہے۔فارین ڈائریکٹ انویسٹمنٹ نیمیچے جارہی ہے معشیت تباہ ہورہی ہے۔دہشت گردی میں اضافی ہوا ہے۔2025 میں سے زیادہ دہشت گردی ہوئی۔یہ حکومت نااہل ہے جو عوام کو ڈلیور نہیں کر سکتے ۔ان تمام ایشوز کی جڑ عوام کے مینڈیٹ پر ڈاکہ ہے۔عوام کا مینڈیٹ واپس کرنے کے بجائے مزید غلطیاں ہورہی ہیں،۔27 ترمیم کے ذریعے آئین توڑا گیا ہے غیر آئینی استثنا دیا گیا۔

اپنے جرم کی سزا عوام کو دی جارہی ہے۔انہوں نے کہا کہ ملٹری آپریشن کے باوجود دہشت گرد کیوں موجود ہیں۔پختونوں کی نقل مکانی ملٹری آپریشن کسی صورت قبول نہیں۔پہلے بائیس ملٹری آپریشن کا حساب دیا جائے ۔انتے آپریشن کے باوجود دہشت گردی کیوں ختم نہیں ہوئی۔عمران بشری بیبی سمیت تمام سیاسی اسیران نے عوام کی آواز اٹھائی۔ان کو عوام کی جنگ لڑنے پر جیل میں ڈالا گیا۔

ایمان مزاری ہادی علی پر جج کے رویے کی مذمت کرتے ہیں ۔عافیہ صدیقی کو ڈالرز میں فروخت کیا گیا۔فوری عافیہ صدیقی کو رہا کروایا جائے ۔پاکستان کی حکومت صرف یہ لکھے کہ حکومت عافیہ صدیقی کی رہائی کے حق میں ہے تو رہائی ہوگی ۔لیکن یہ لوگ ایسا نہیں کرتے۔سابق گورنر سندھ محمد زبیر عمر نے کہا کہ ہمارا ایجنڈا پاکستان کے لیے ہے۔پاکستان ایک جمہوری حکومت ہوگی، عدلیہ آزاد ہوگی۔

قائد اعظم کا وزن اور خواہشات ہمارا وزن ہے ۔ہمارا جگھڑا ہے کہ آئین 1973 کا بحال کیا جائے۔ایسا ماحول بننا چاہیے عوام کو یقین ہو کہ عوامی نمائندے حکومت میں ہوں ۔ایم کیو ایم پیپلز پارٹی نے لیگ کے اراکین خود سمجھتے ہیں پارلمینٹ میں کیسے آئے ہیں۔کراچی ملک کا معاشی حب ہے ۔بائیس قومی اسمبلی کی نشستیں چوری کی گئیں۔سب سے زیادہ دھاندلی کراچی میں ہوئی۔

یہاں کی عوام کو محسوس ہوا ان کے نمائندوں کو عوام کی فکر ہے۔وزیر اعلی خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کا عوام بھرپور استقبال کیا۔جب الیکشن کمیشن شفاف ہوگا تو پارلیمنٹ عوام کی منتخب ہوگی.انہوں نے کہا کہ ہمارا فرض بنتا ہے اس جدوجہد میں اپنا کردار ادا کریں .آج عمران خان ہاتھ اٹھا دیں تو پاکستان کا کیا بنے گا.جب سیاسی عدم استحکام ہوگا تو معاشی استحکام نہیں آسکتا.پچھلے چار سالوں میں ہر پاکستانی کی زندگی خراب ہوئی ہے .چار سالوں میں صرف اشرافیہ نے ترقی کی ہے .ایک طرف اسٹاک ایکسچینج ریکارڈ توڑ رہا ہے دوسری جانب 45 فیصد لوگ غربت کی لکیر سے نیچے جارہے ہیں.ساڑے تین سالوں میں ایکسپورٹ گر گئی .انویسٹمنٹ گر چکی ہے مزید گر رہی ہے جب تک رول آف لا نہیں آئے گا ملک ترقی نہیں کرے گا۔

آج کا تاجر عدالتوں پر بھروسہ نہیں ۔کوئی بھی مہاعدہ کرتے ہیں بیرونی ممالک میں کرتے ہیں۔ محمد زبیر عمر نے کہا کہ ججز پارلیمنٹ میں پانچ پانچ۔ سو فیصد تک اضافہ کیا گیا .آٹا چینی گوشت لینا عوام کو مشکل ہے .اشرافیہ یہاں عیاشیاں کر رہے ہیں.جب تک صاف شفاف الیکشن نہیں ہوتے یہ ظلم جاری رہے گا۔پی ٹی آئی سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ نے کہا کہ پی ٹی آئی سندھ کی جانب سے تمام مہمانوں کو ویلکم کرتے ہیں۔

جیل میں قید قوم کے عظیم لیڈر عمران خان کی جانب سے تمام مہمانوں کو ویلکم کرتا ہوں۔پریس کلب میں آل پارٹیز کانفرنس ہورہی ہے باہر بڑی تعداد میں پولیس کیوں لگائی گئی یے۔ہمیں ان سے ہی سیکیورٹی تھریٹ ہے .اس وقت کراچی پریس کلب کو پولیس نے گھیرے رکھا۔کراچی پریس کلب کے راستے پولیس نے بند کر دیی.سن سے بھی پاکستان زندہ آباد کے نعرے لگائے گئی.سڑکوں پر پتھر بچھائے گئے سڑکیں بند کی گئیں.پیپلز پارٹی میزبانوں کا خیال نہیں کر رہی .سندھ صوفیوں کی اور مہمانوں کی دھرتی ہی.ان سے واپسی پر انصاف حیدرآباد میں تقریر تھی.انصاف ہائوس حیدراباد کو بھی سیل کیا گیا.آج یہاں سب پاکستان کے حلالی بیٹے بیٹے ہیں.اجرک ٹوپی اور مہمان نوازی ہماری ثقافت ہی.انہوں نے کہا کہ وزیر اعلی خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے بھی راستے روکے گئے۔

سیاسی اخلاقیات تباہ ہوچکی ہے ۔تحریک تحفظ آئین پاکستان شامل جماعتوں کے کارکنوں کی جدوجہد کو سلام پیش کرتا ہوں ۔تمام جماعتوں کے کارکنان فسطائیت کا مقابلہ کر رہے ہیں۔بڑے بڑے لوگ جو اپوزیشن کی سیاست کرتے رہے ۔ان لیڈروں نے کرسی کی لالچ میں اپنی سیاست تباہ کر دی ۔تحریک تحفظ آئین پاکستان میں شامل جماعتوں نے حق کا راستہ اختیار کیا ہے۔

حلیم عادل شیخ نے کہا کہ آئین اب ٹوٹ چکا ہے ۔اب ہم آئین کی بحالی کی تحریک چلا رہے ہیں۔عدلیہ غلام بن چکی ہے ۔جو سچ بولتا ہے اس کا سر کچل دیا جاتا ہے۔تحریک تحفظ آئین پاکستان پر زمہ داری بڑھ چکی ہے۔قوم کا ایک ہی مطالبہ ہے عمران خان کو رہا کرو 26۔ 27 ترمیم کے ذریعے آئین کو توڑا گیا۔جس نے آئین بحال ہوا عدلیہ آزاد ہوئی۔عمران خان سمیت تمام اسیران رہا ہو جائیں گے۔

انہوں نے تھوک پر سزائیں سنائی ہوئی ہیں۔انہوں نے سزائوں کی دکان کھلی ہوئی ہے۔8 فروری کو جو لائحہ عمل دیا جائے گا اس پر عمل ہوگا۔پورے سندھ میں تنظیمی نیٹورک موجود ہے۔پاکستان بار کونسل کے سینئر رکن بیرسٹر صلاح الدین نے کہا کہ یہاں حکومت حج فیصلا کرتی ہے کہ اپوزیشن کون کرے گا۔اچکزئی کو اپوزیشن لیڈر بننے پر مبارکباد دیتے ہیں۔چھبیسویں ستاسیویں ترمیم سے عدلیہ کمزور ہوئی ۔

عدلیہ کا پہلا کام عام شہریوں کے مسائل حل کرے۔ڈیڑھ سال ہوگیا ہے کوئی بہتری نہیں آئی ۔ججز کی بھی اس معاملے پر کوئی دلچسپی نہیں ہے ۔پوری دنیا میں ریفارمز ہوئے ہیں ۔ہمارے یہاں نظام میں ریفارمز نہیں ہوئے۔سول پروسیجر میں اصلاحات کے لئے سید منصور علی شاہ نے دلچسپی لی ۔جب تک سول جسٹس سسٹم ٹھیک نہیں ہوگا تو معشیت ترقی نہیں کرے گی۔کسی بھی ملک میں رول آف لا لانا چاہتے ہیں۔

تو کسی ملزم کو مخصوص وقت میں سزا ملے گی۔یہاں جو ملزم اور مجرم ہے اس کو جیل میں رکھا جاتا ہے ۔یہاں سزا جزا کا کوئی سسٹم نہیں ہے ۔ہمارے مقتدر حلقے کرمنل پروسیجر میں اصلاحات نہیں چاہتے۔تیسرا فنکشن عدلیہ کا جوڈیشل ریویو ہے ۔کسی بھی جمہوریت میں آزاد عدلیہ ہونی چاہیے۔صدر کراچی بار ایسوسی ایشن عامر نواز وڑائچ نے کہا کہ پاکستان کا پہلے کوئی آئین نہیں تھا۔

آئین میں ترامیم کے ذریعے تبدیلیاں کی گئیں۔عدلیہ کی حالت بری ہوگئی ہے۔ستائیسویں ترمیم نے عدلیہ پر بڑا بحران پیدا کیا۔ہر صوبے کے وسائل انکے حوالے کئے جائیں۔ کسی بھی صوبے کے وسائل صوبوں پر استعمال نہیں ہورہے ہیں۔جب تمام صوبوں کو اپنے وسائل استعمال کرنے کا حق دیا جائے تو کوئی نہیں لڑے گا۔سردار عبد الرحیم نے کہا کہ جعلی الیکشن کے ذریعے جعلی اسمبلیاں بنی.جعلی اسمبلیاں کے ذریعے یہ ترامیم پاس ہوئی .نہ الیکشن جعلی ہوتے نہ یہ ترامیم ہوتی .سیاسی جماعتیں اپنے آپ کو کمزور کرنے میں برابر کی شریک ہیں.ہمیں اپنی گریبان میں جھانک دیکھنا ہوگا .جو مہذب معاشرے میں نظام چلتا ہے وہ کی ہمارے ملک میں ہو .ایسی لائحہ عمل بنانا ہوگا اور اس پر سختی عمل کرنا ہوگااور پاکستان کی عوام کو حقوق دلوائیں جو آزادی کے بعد خواب دیکھا۔

پی ٹی آئی کے رہنما فردوس شمیم نقوی نے کہا کہ کوئی بھی شعبہ دیکھیں ہر جگہ ادارے نظر آتے ہیں۔ ۔عمران خان کی جدوجہد کسی ادارے کے خلاف نہیں ہے۔یہ جدوجہد عوامی ہے ان اداروں کے خلاف ہے جنہوں نے سیاست میں مداخلت نہ کرنے کا حلف لیا ہے۔بلوچستان نیشنل پارٹی کے رہنماساجد ترین نے کہا کہ پاکستان بننے سے پہلے سندھ ایک تاریخی حیثیت رکھتا ہے .گزشتہ ستتر سالوں میں عوام کو حقوق نہیں ملے .آئین نے آج تک کسی کو تحفظ نہیں دیا.تاریخ گواہ ہے سردار عطا اللہ مینگل کی حکومت ختم کی گئی.بلوچستان میں ساٹھ فیصد عوام آئین کے تحفظ کی بات پر یقین نہیں رکھتی.سابق ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی سید ظفر علی شاہ نے کہا کہ کبھی ایسا نہیں ہوا جو موجودہ وقت میں ہورہا ہے .آئین کی بالادستی کے بغیر ملک نہیں چل سکتا.عوامی رائے پر عمل کرنا ہوگا.عوام کہا چاہتے اس عمل کرنا ہوگا.نائب امیر جمعیت علمائے اسلام شیرانی گروپ حافظ احمد نے کہا کہ الیکشن ہمیشہ ہائجیک ہوتا ہے۔

2024 کا الیکشن مکمل چھینا گیا نجس لیڈر کو عوام نے منتخب کیا اس کو جیل میں ڈال دیا۔جس کو عوام نے مسترد کیا اس کو حکومت دے دی گئی ۔8 فروری کو پورے ملک کا پہیہ جام کریں گے۔عوامی جمہوری پارٹی کے نور نبی راہوجو نے کہا کہ سندھ کے تعلیمی اداروں غںڈہ راج ہیسندھ کے لوگ سندھ کی بات کریں گی.فیڈرل اردو یونیورسٹی کے پروفیسرڈاکٹر اصغر علی نے کہا کہ ہماری ریاست جو پالیسی دی رہی ہے ۔

وہ تمام پالیسی عوام کو تباہ کرنے کے لئے ہے۔ عوامی تحریک قادر رینٹو نے کہا کہ ہماری جماعت کسانوں مزدوروں کی پارٹی ہے۔جس کا بنیادی رسول بخش پلیجو فاضل راہو نے رکھا ۔پاکستان کی جمہوری جدوجہد میں کردار ادا کیا ہے۔ پاکستان بننے کے بعد کبھی بھی جمہوریت نہیں رہی۔قوت برداشت کی ایک حد ہوتی ہے۔طلبہ رہنما ارسلان چانڈیو نے کہا کہ ضیا کے دور اسٹوڈنٹس یونین پر پابندی لگائی گئی۔

جب اسٹوڈنٹس یونین کو ختم کیا جاتا ہے تو ہائبرڈ بین جاتا ہے ۔اسٹوڈنٹس یونین کا کسی صورت میں بحال کرانا ہے۔آفتاب احمد خانزادہ نے کہا کہ ریاست مکمل خطرے میں ہے ۔جب ریاست اپنے انسانوں کو کھو دیتی ہے تو زندہ نہیں رہتی۔ریاست مفلوج ہوکر رہ گئی ہے منافقت قومی بیانیہ ہے ۔آئین کتاب نہیں کھلونہ بن چکا ہے ۔پارلیمنٹ طاقتوں کا مرکز ہے ۔یہ نظام خود کو بچانے کے لئے مسلسل جھوٹ بنا رہا ہے ۔

قومی مفاد کا مطلب میرا مفاد ہے ۔ریاست کو چند خاندانوں کے ہاتھوں میں بیچ دیا ہے۔سینئر صحافی جبار خٹک نے کہا کہ آئین پاکستان میں ریاست کو ستون بتایا ہی.اربوں کی رشوت سے سسٹم تباہ کیا گیا ہے .عوامی مسائل کرپشن کے بغیر حل نہیں ہوتے .عمران خان نے اہم قدم اٹھایا ہی.جیل سے باہر لوگ تحریک کو آگے بڑھا سکتے ہیں.آئی بی اے یونیورسٹی کے ڈین اکبر زیدی نے کہا کہ نااہلی کی وجہ غربت میں اصافہ ہوتا ہے۔

مسائل کا حل منصوبہ بندی سے نکلتا ہے۔سیکرٹری جنرل قومی عوامی تحریک مظہر راہوجو نے کہا کہ جو لوگ اقتدار میں ہیں وہ پاکستان کی جڑیں کھوکھلی کر رہے ہیں۔ہم کسی قوم کے خلاف نہیں ہم ظالموں کے خلاف ہیں۔بے روزگاری بدحالی سندھ میں اضافہ ہوگیا ہے پاکستان کی عدالتیں ہمیں کب انصاف فراہم کریں گی۔صدر پی ٹی آئی وومن ونگ سندھ سرینہ عدنان نے کہا کہ پاکستان کے تاریکی دور میں تحریک تحفظ آئین پاکستان روشنی کی کرن ہے۔جو پارٹیاں راہ حق پر کھڑی ہیں انکو خراج تحسین پیش کرتی ہوں۔جئے سندھ محاذ کے عبد الخالق جونیجو نے کہا کہ محمود خان اچکزئی ہمارے لیڈر ہیں۔ہم ان کے ساتھ ہیں۔سینئر صحافی عامر ضیا نے کہا کہ ہم قلم کے مزدور ہیں .پریس کلب نے ہمیشہ جمہوریت کا ساتھ دیا ہے ۔
Live بجٹ 27-2026ء سے متعلق تازہ ترین معلومات