مریدکے ،13سالہ گھریلو ملازمہ پر مبینہ وحشیانہ تشدد، ملزمان بچی کو نیم مردہ حالت میں گھر کے باہر پھینک کر فرار

یتیم بچی کے جسم پر تشدد کے نشانات، ہڈیاں ٹوٹنے اور بال کاٹنے کے الزامات، وزیراعلیٰ پنجاب سے نوٹس اور انصاف کی اپیل

جمعہ 1 مئی 2026 14:45

مریدکی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 01 مئی2026ء) مریدکے کی آبادی رکھ بھولی کی رہائشی 13سالہ یتیم گھریلو ملازمہ کو مبینہ طور پر بااثر مالکن نے آہنی راڈ سے وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنا ڈالا ، سر کے بال بھی کاٹ ڈالے ،پہلے گھر کے کمرہ میں قید کئے رکھا ،حالت غیر ہونے پر نیم مردہ حالت میں گھر کے باہر پھینک کر فرار ہوگئی ۔تشدد کی شکار کرن نے اپنے جسم پر جگہ جگہ تشدد کے نشان دکھاتے ہوئے بتاکہ یا اسکی مالکن نے اسے بیٹی کو کھانا نہ دینے کے الزام میں آہنی راڈ سے بہمانہ تشدد کا نشانہ بنایا وہ چیختی اور اللہ کے واسطے دیتی رہی مگر مالکن نے ایک نہ سنی ،اسکا بازو ٹانگ اور کمر کی ہڈیاں ٹوٹ گئیں پھر سر کے بال کاٹ ڈالے اور ایک کمرہ میں بند کردیا ،حالت غیر ہونے پر گھر کے باہر پھینک گئے ۔

(جاری ہے)

کرن کی والدہ ریحانہ بی بی نے بتایا کہ اسکے دس بچے ہیں ،کرن کا والد فوت ہوا مگر اسکی مالکن نے جنازہ میں بھی نہ آنے دیا ۔وہ غربت کی زندگی گزار رہے ہیں سوچا بیٹی کو کسی گھر میں ملازمہ رکھ دیتے ہیں انہیں کیا معلوم تھا اسکی مالکن اتنی ظالم اور بے رحم ہے ،میری بیٹی کو دیکھیں جسم پر جگہ جگہ تشدد کے نشان اور ہڈیاں ٹوٹ چکی ہیں ۔گھر میں فاقے ہیں وہ بیٹی کو ہسپتال بھی نہیں لے جاسکتی ۔وہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز سے اپیل کرتی ہیں کہ اس واقعہ کا نوٹس لیں ،میری بیٹی کا علاج کروائیں اور ہمیں انصاف دیں وگرنہ وہ دس بچوں سمیت خود کشی کرلیں گی ۔اس سلسلہ میں جب متعلقہ پولیس سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے موقف اختیار کیا کہ وہ قانون کے مطابق کاروائی کررہے ہیں۔