امریکہ ، عدالت نے ایپسٹین کا ممکنہ خود کشی نامہ جاری کر دیا

جمعرات 7 مئی 2026 22:07

واشنگٹن (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 07 مئی2026ء) ایک امریکی جج نے ایک تحریر جاری کی ہے جو بظاہر جنسی جرائم کے مرتکب جیفری ایپسٹین کا وہ خود کشی نامہ معلوم ہوتا ہے جو اس نے نیویارک کی ایک جیل میں اپنی موت سے چند ہفتے قبل لکھا تھا۔ایپسٹین کے ساتھ ایک ہی سیل میں قید رہنے والے قیدی نے بتایا کہ اسے یہ تحریر ایک کتاب سے اس وقت ملی تھی جب ایپسٹین نے خودکشی کی ایک ناکام کوشش کی تھی۔

یہ واقعہ اگست 2019 میں اس کی موت سے چند ہفتے پہلے پیش آیا تھا۔سطروں والے کاغذ پر لکھی گئی اس تحریر کے متن میں درج ہے : انہوں نے مہینوں تک میری تحقیقات کیں اور انہیں کچھ نہیں ملا!یہ ایک حقیقی خوشی کی بات ہے کہ انسان الوداع کہنے کے لیے مناسب وقت کا انتخاب خود کر سکے۔تحریر میں مزید کہا گیا ہے تم لوگ مجھ سے کیا چاہتے ہو کیا میں رونا شروع کر دوں! اس میں کوئی لطف نہیں۔

(جاری ہے)

یہ اس زحمت کے قابل نہیں ہے۔ایپسٹین کے ساتھی قیدی کی فوجداری کارروائی کے حصے کے طور پر یہ تحریر برسوں تک سربمہر رہی، لیکن نیویارک کی جنوبی عدالت کے جج کینیتھ کاراس نے اخبارکی درخواست پر اسے منظرِ عام پر لانے کا حکم دیا۔اگرچہ اس دستاویز کی صحت کی تصدیق نہیں ہوئی ہے، لیکن اس کا انکشاف ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب اس با اثر سرمایہ دار کی سزا کی سماعت کے انتظار کے دوران ہونے والی موت پر سوالات کا سلسلہ جاری ہے۔

اس کی موت کو خود کشی قرار دیا گیا تھا، لیکن جیل میں سکیورٹی کی متعدد خامیوں اور سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج غائب ہونے نے سرکاری موقف کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا کر دیے تھے۔ایپسٹین جولائی 2019 کے آخر میں اپنے سیل میں زخمی حالت میں ملا تھا، جسے حکام نے خود کشی کی ایک ناکام کوشش قرار دیا تھا۔ دعوی کیا گیا ہے کہ یہ تحریر اس سابقہ واقعے سے پہلے لکھی گئی اور ایک تصویری ناول میں رکھی گئی تھی۔ایپسٹین کا کیس اب بھی امریکہ کے سیاست دانوں کے درمیان بحث کا موضوع بنا ہوا ہے، خاص طور پر گذشتہ مہینوں میں اس سرمایہ دار کی زندگی کے بارے میں ہونے والی وسیع تحقیقات سے متعلق دستاویزات سامنے آنے کے بعد۔