Live Updates

بیورو کریسی کیلئے ڈالے ،حکمرانوں کے جہاز یہ اخراجات نہیں بلکہ مائنڈ سیٹ ہے جسے بدلنا ہوگا ‘ شاہد خاقان عباسی

جمعرات 21 مئی 2026 19:15

بیورو کریسی کیلئے ڈالے ،حکمرانوں کے جہاز یہ اخراجات نہیں بلکہ مائنڈ ..
لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 21 مئی2026ء) سابق وزیر اعظم ، کنوینر عوام پاکستان پارٹی شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ بلا ضرورت اخراجات ،بیورو کریسی کے لئے ڈالے اور حکمرانوں کے جہاز یہ صرف اخراجات نہیں بلکہ ایک مائنڈ سیٹ ہے جسے بدلنا ہوگا،ہمیں ایلیٹ کلچر کو ختم کرنا ہوگا،ہم ہمیشہ معجزات کی تلاش میں رہتے ہیں،مگر کسی معجزے سے حالات بہتر نہیں ہوں گے،ہرشناختی کارڈ رکھنے والا ٹیکس فائلر ہونا چاہیے ،پاکستان میں جب تک بڑی ریفارمز نہیں ہوں گی بہتری نہیں آئے گی،حکومت اپنے خرچے پورے کرنے کیلئے عام شہریوں پر ٹیکس بڑھارہی ہے ،اگر آپ سمجھتے ہیں کہ صوبے این ایف سی ایوارڈ کو غلط سمجھتے ہیں تو بجلی اور فیس کو صوبوں کے حوالے کردیں،آج وفاق گیس اور پاور سیکٹر کے تمام نقصانات برداشت کررہا ہے،یہ ہو جائے تو صوبوں کے پاس شاہ خرچیوں کیلئے اضافی پیسہ نہیں بچے گا۔

(جاری ہے)

ان خیالات کا اظہار انہوںنے نجی یونیورسٹی میں پری بجٹ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ سیمینار سے سابق چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریو نیو شبر زیدی، ماہر معیشت فاطمہ اسد ،ماہر معیشت نائب صدر آئی سی ایم اے عظیم حسین سمیت دیگر نے بھی خطاب کیا ۔سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ 1990میں جب ہماری حکومت آئی تو ریفارمز کی کوشش کی گئی،سنگاپور تین لوگوں کو بھیجا گیا،ہمارا ڈیٹا دیکھ کر وہاں کے لوگوں نے کہا کہ آپ تو بینک کرپٹ ہیں اورآج بھی ویسا ہی ہے،میں پچھلے اڑتیس سال سے بجٹ کا کسی نہ کسی طرح حصہ رہا ہوں،بجٹ میں کوئی چیز نہیں ہوتی ،بجٹ خسارہ پورا کرنے کیلئے مزید ٹیکسزلگا دیتے ہیں ،1990میں بھی ایک کمیٹی دو گھنٹے بیٹھ کر بحث کرتی ہے اور پانچ اشیا ء پر ٹیکس بڑھا دیتے تھے،آج بھی ہم وہی کررہے ہیں، ہم نے یہ فیصلہ کرنا ہے کہ ہم نے آگے کیسے بڑھنا ہے،ہم نے بہت سی جنگوں میں حصہ لیا کیا انہوں نے ہماری معیشت بہتر کی ،ہمیں اپنی گروتھ بہتر کرنا ہوگی،جب بھی ہم گروتھ بہتر کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو سرمایہ کاری کی کمی آجاتی ہے،ہمیں ریفارمز کی ضرورت ہے۔

انہوںنے کہا کہ جو لوگ اپنی کرپشن کو چھپاتے ہیں وہ ٹیکس نیٹ کو بڑھانے نہیں دیتے،ہر شخص جو ووٹ ڈالتا ہے ملک چلانے میں ذمہ دار بن جاتا ہے،ہر شہری کی ذمہ داری ہے کہ وہ ٹیکس دے،ٹیکس دینا اچھی بات نہیں بلکہ ذمہ داری ہے،اگر کسی کی کوئی انکم نہیں ہے وہ بھی بتادے،ٹیکس آن لائن فائل کرنے میں آسانی ہونی چاہیے،شہریوں کے تمام اخراجات کو ٹیکس فائلنگ سے منسلک کردیا جائے،شہری جب بھی کوئی خرچ کرے تو وہ ریکارڈ میں ہو اور اگر بظاہر آمدن سے زیادہ ہو تو فوری پوچھا جائے ۔

شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ پاکستان میں جب تک بڑی ریفارمز نہیں ہوں گی بہتری نہیں آئے گی،آج ہماری سب سے زیادہ آمدن پورٹس سے ہے،اس کے لئے ایف بی آر کی ضرورت نہیں ہے،یہ نہیں کہ عام شہری ٹیکس نہیں دینا چاہتا بلکہ وہ ایف بی آر کے ریکارڈ میں نہیں آنا چاہتا،وفاقی کے ٹیکس وصولی سے اخراجات پورے نہیں ہوتے تو قرض لینا پڑتا ہے،قرض ہر سال بڑھ رہا ہے مگر کوئی حقیقت سمجھنے کو تیار نہیں ،ہمیں ایلیٹ کلچر سے نکلنا ہوگا،بھارت اور بنگلہ دیش میں فیول پر ٹیکس زیادہ مگر وہاں بیس پرائس کم ہے،ہم نے آج تک فیول میں کاسٹ کم کرنے کی طرف توجہ نہیں دی،حکومت اپنے خرچے پورے کرنے کیلئے عام شہریوں پر ٹیکس بڑھارہی ہے ،ارکان پارلیمنٹ کی تنخواہیں کئی سو فیصد بڑھ گئی ہیں،پہلے تنخواہیں بڑھانے پر شرمندگی ہوتی تھی مگر اب ایسا نہیں ہے۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ آج این ایف سی ایوارڈ پر بات ہورہی ہے،اگر آپ سمجھتے ہیں کہ صوبے این ایف سی ایوارڈ کو غلط سمجھتے ہیں تو بجلی اور فیس کو صوبوں کے حوالے کردیں،آج وفاق گیس اور پاور سیکٹر کے تمام نقصانات برداشت کررہا ہے،یہ ہو جائے تو صوبوں کے پاس شاہ خرچیوں کیلئے اضافی پیسہ نہیں بچے گا۔ انہوںنے کہاکہ اگر ملک میں سرمایہ کاری لانی ہے تو عدلیہ کے نظام بہتر کرنا ہوگا،آئی ایم ایف خود عدلیہ کی آزادی پر سوال اٹھا رہا ہے،ملک میں سیاسی استحکام ،قانون پرعملدرآمد لے آئیں سرمایہ کاری آجا ئے گی ،ہماری مشکلات کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اخراجات آمدن سے بہت زیادہ ہیں۔

سابق چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریو نیو شبر زیدی نے کہا کہ پاکستان میں ہر آدمی ٹیکس چور ہے، تاجروں سے کوئی بھی ٹیکس نہیں لے سکتا، کوئی بھی حکمران ہو کسی بھی بازار میں جائے اور ٹیکس لینے کیلئے داخل ہو کر دکھا دے، اگر ایسا ہوا تو خود کشی کر لوں گا۔انہوںنے کہاکہ 25فیصد سپر ٹیکس لیا جا رہا ہے جبکہ دنیا میں اوسط ٹیکس شرح 26فیصد ہے لیکن پاکستان میں مجموعی طور پر 51فیصد تک ٹیکس وصول کیا جاتا ہے، پھر بھی ملک کا موازنہ بھارت اور بنگلہ دیش سے کیا جاتا ہے،مہنگی چیزوں کے ساتھ ہم اپنی صنعت کو بنگلہ دیش اور دیگر ممالک سے کیسے مقابلہ کرسکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں 11کھرب روپے سرکولیشن میں ہیں جبکہ بعض بینک اور مالیاتی ادارے بھی ٹیکس چوری میں ملوث ہیں، ناکام ریاست ٹیکس وصول کرنے میں ناکام ہو گئی ہے اور ملک میں نااہلی ہی بنیادی مسئلہ ہے، پرویز مشرف ہو ،بانی پی ٹی آئی ہو شہباز شریف ہو یا شوکت عزیز وہ ریاست کو نہیں چلا سکے۔ شبر زیدی نے بتایا کہ گزشتہ بجٹ میں 14ہزار ارب روپے کی ٹیکس وصولیاں ہوئیں، بانی پی ٹی آئی نے اپنے دور حکومت میں 2ہزار ارب روپے اضافی ریونیو کی بات کی تھی مگر انہیں انکار کر دیا گیا تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ملک میں صرف 300کمپنیاں باقاعدگی سے ٹیکس دیتی ہیں جبکہ وہ خود 95فیصد کمپنیوں کے ایڈوائزر رہ چکے ہیں، سب یہی کہتے ہیں کہ ان کی اسلام آباد سے جان چھڑائیں ، وہ ٹیکسوں کی بھرمار اور بجلی کی نرخوں سے پریشان ہیں ۔ انہوںنے کہاکہ پاکستان کی معاشی ڈکشنری سے ریفارمز اور پالیسی جیسے الفاظ حذف کر دینے چاہئیں۔علاقائی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوںنے کہا کہ ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی یا جنگ کے خاتمے سے پاکستان کو فائدہ ہو سکتا ہے، بشرطیکہ ملک اپنی مارکیٹنگ اور معاشی حکمت عملی بہتر بنائے۔

شبیر زیدی نے کہاکہ ہمارے ہاں کرپشن نہیں نااہلیت بڑا مسئلہ ہے ،ہم نے پچھلے سال 49ہزار ارب ٹیکس اکٹھا کیا، ہم اپنے خسارے کو دیکھ کر طے کرتے ہیں کہ ہم نے کتنا ٹیکس اکٹھا کرنا ہے، ایف بی آر کو اتنا ہی نہیں معلوم کہ ملک میں تاجر اور دکانیں کتنی ہیں، کوئی بھی مارکیٹوں سے ٹیکس وصول نہیں کرسکتا۔پاکستان میں ریفارمز کا لفظ اتنی دفعہ استعمال کیا گیا کہ اس کی اہمیت ہی ختم ہو گئی ،اگر آئی ایم ایف کہے گا کہ ٹیکس بڑھا تو ہم کیا کریں گے ، ہمارے لوگ آئی ایم ایف کو سمجھانے کیلئے تیار ہی نہیں ،ایران جنگ کے بعد دنیا پہلے والی نہیں رہے گی، اگر ہم سمجھداری سے چلیں تو اس جنگ کے بعد کی دنیا سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

1947سے اب تک ہمارے پاس جتنے ڈالر آئے ہم نے ان سے زیادہ خرچ کئے ہیں،اسی وجہ سے ہمیں آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑتا ہے،اگلے تین چار سال تک ہم اس کمی کو پورا نہیں کرسکتے،ہمارے پاس ایکسپورٹ کرنے کیلئے کچھ ہے ہی نہیں ،ایک عزت تھی ہم نے وہ بھی بیچ دی۔ انہوںنے کہا کہ آئی ٹی میں بے شمار کام ہورہا ہے۔مگر اس کا کوئی ریکارڈ نہیں ،علاج یہ ہے کہ پاکستان کو دو معاشی زونز نارتھ زون اور سائوتھ زون میں تقسیم کریں،انڈسٹری لگے گی تو پاکستان چلے گا،ہمارے پاس اس وقت بیچنے کیلئے کچھ نہیں ،ہمیں ایکسپورٹ، امپورٹ اور ری ایکسپورٹ پر جانا ہوگا،اگر ہم کراچی پر توجہ دیں تو اسے ہم دبئی کے طرز پر ڈویلپ کرسکتے ہیں،پاکستان کا مسئلہ ڈالر کی کمی ہے اس کمی کو کم کرنا ہوگا،جب قرض خواہ کو قرض واپس نہیں ملتا تو وہ آپ کا اثاثہ فروخت کرا دیتا ہے اور آپ یاد رکھیں کہ ہمارا اثاثہ کیا ہے۔

عظیم حسین نے کہاکہ ایف بی آر خود ہی پالیسی میکر ہے خود ہی کلیکٹر ہے اور خود ہی اپیل سننے والا ہے،اگر ہم ٹیکس کلیکشن بڑھانا چاہتے ہیں تو طریق کار میں آسانی لانی ہوگی،حکومت نے ریٹیلرز کو ٹیکس نیٹ میں لانے کی کوشش کی مگر کامیابی نہیں ملی،ریٹیلرز مارکیٹ کھربوں روپے ہے مگر وہ ٹیکس نیٹ میں نہیں ہے،جب کوئی آپ کو قرض دیتا ہے تو واپسی کی اہلیت دیکھتا ہے اور ایسا ہی آئی ایم ایف کرتا ہے،قرض دیتے وقت آئی ایم ایف ٹیکس میں اضافے کا مطالبہ کرتا ہے تو ہم پہلے سے موجود ٹیکس پیئرز پر بوجھ ڈال دیتے ہیں،ہمیں اپنی پالیسیز کو ایڈہاک بنیادوں سے مستقل بنیادوں پر بنانا ہوگا،آئی ٹی کے ساتھ ٹیکسٹائل انڈسٹری کو بھی بڑھانا ہوگا،حکومت کو کاروبار بڑھانے کی طرف توجہ دینی چاہیے ،اگر کاروبار بڑھے گا تو ٹیکس خود ہی بڑھ جائے گا،اگر ٹیکس دینے والے بڑھ جائیں گے تو ٹیکس ریٹ کم بھی ہوگا تو ریونیو بڑھ جائے گا۔

ماہر معیشت عمر ظہیر نے کہا ہے کہ پچھلے سہ ماہی میں ہم نے طے شدہ سے کم ٹیکس جمع کیا ،اس کمی کو پورا کرنے کیلئے سپر ٹیکس متعارف کرایا گیا ،بہتری کیلئے پہلے حکومت کو اپنے خرچے کم کرنے ہوں گے ،حکومت چاہتی ہے عوام زیادہ ٹیکس دیں جبکہ وہ اپنے اخراجات کم کرنے کو تیار نہیں ،فیصلہ ساز ہمارے ہاں ماہر نہیں ہیں،ٹیکس ریفنڈ زمیں سینکڑوں ارب نہیں دیئے جارہے،جو سسٹم اس وقت ہم چلارہے ہیں اس میں اس پر اعتبار نہیں ہے،اس وقت جو سسٹم چل رہا ہے اس میں ملازمین کی کارکردگی صرف ٹیکس جمع کرنے کے ساتھ ماپی جاتی ہے،اس سسٹم کو بدلنے کی ضرورت ہے،سیلز ٹیکس غریب امیر سب کیلئے ایک جیسا ہے جو کہ غیر مناسب ہے۔

فاطمہ اسد نے کہا کہ ہمیں اپنے مستقبل کے بارے میں سوچنا ہوگا،پٹرول اور انرجی کی قیمتوں کے بارے میں تو سوچنا ہی ہے مگر آئی ایم ایف کے بارے میں بھی سوچنا ہوگا،آئی ٹی انڈسٹری بڑھ رہی ہے اس بارے میں سوچنا ہوگا،آئی ٹی میں انفراسٹرکچر کو بڑھانا ہوگا،نئی نسل کیلئے آئی ٹی میں نوکریاں پیدا کرنی ہوں گی،دنیا دیجیٹلائزیشن کی طرف جارہی ہے،ای کامرس کی طرف بھی توجہ دینا ہوگی،پچھلے سال سے ملک کے مائیکرو اکنامکس میں بہتری آرہی ہے،یہ اچھا ہے مگر ہمیں مستحکم پالیسیوںکی طرف جانا ہوگا،ٹیکسوں کی بھرمار معیشت کو نقصان پہنچا رہی ہے،اس وقت پینتیس سے ساٹھ فیصد ٹیکسز ہیں،ٹیکس نیٹ میں بہتری لانا ہوگی،ہم جو اتنا ٹیکس دے رہے ہیں وہ کہاں جارہا ہے کسی کو کچھ معلوم نہیں،شفافیت کی شدید ضرورت ہے،ٹیکس نیٹ میں بہتری کے ساتھ کاروبار میں آسانی لانے کی ضرورت ہے،غربت ہمارے ملک میں بہت بڑھ چکیہے،بجٹ میں اس کو مدنظر رکھنا چاہیے،ڈیفنس بجٹ بھی اہم ضرورت ہے،مگر ڈیفنس بجٹ کیلئے ڈویلپمنٹ کو متاثر نہیں ہونا چاہیے،پہلے سے ٹیکس دینے والوں کیلئے ریلیف بھی ہونا چاہیے۔

Live ایران امریکا کشیدگی سے متعلق تازہ ترین معلومات