جنوبی پنجاب میں جھینگا فارمنگ ایک نئے معاشی شعبے کے طور پر ابھرنے لگی

بدھ 10 جون 2026 00:27

ملتان (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 10 جون2026ء) پاکستان میں آبی زراعت (ایکوا کلچر) کے شعبے میں جھینگا فارمنگ تیزی سے ایک امید افزا صنعت کے طور پر سامنے آ رہی ہے، جو معاشی ترقی، برآمدی آمدن، روزگار کے مواقع اور دیہی ترقی کے فروغ میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔محمد نواز شریف زرعی یونیورسٹی ملتان کی اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر نہید بانو نے اے پی پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا ماہی گیری کا شعبہ روایتی طور پر سمندری شکار پر انحصار کرتا رہا ہے، تاہم قدرتی آبی وسائل پر بڑھتے دباؤ اور پائیدار سمندری خوراک کی ضرورت کے پیش نظر ایکوا کلچر کی اہمیت میں اضافہ ہوا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ حالیہ برسوں میں خصوصاً ’’پیسیفک وائٹ شرمپ‘‘ کی فارمنگ ایک اعلیٰ قدر کی حامل زرعی سرگرمی کے طور پر توجہ حاصل کر رہی ہے، جو بنجر اور شور زدہ زمینوں کو منافع بخش معاشی وسائل میں تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

(جاری ہے)

ڈاکٹر نہید بانو کے مطابق جھینگا دنیا بھر میں سب سے زیادہ تجارت ہونے والی سمندری غذاؤں میں شامل ہے اور چین، یورپی یونین، امریکہ، جاپان اور مشرق وسطیٰ سمیت متعدد بین الاقوامی منڈیوں میں اس کی طلب مسلسل موجود ہے۔

پاکستان ماضی میں جنگلی جھینگے برآمد کرتا رہا ہے، تاہم ایکوا کلچر کے ذریعے اس کی پیداوار میں پائیدار اور منظم انداز میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ جھینگا فارمنگ کے فروغ سے پاکستان سمندری شکار میں اتار چڑھاؤ پر انحصار کم کر کے برآمدی منڈیوں کے لیے مستقل سپلائی یقینی بنا سکتا ہے، جس سے قیمتی زرمبادلہ حاصل ہوگا اور تجارتی خسارے میں کمی لانے میں مدد ملے گی۔

ڈاکٹر نہید بانو نے کہا کہ یہ صنعت روزگار کے وسیع مواقع بھی پیدا کرتی ہے۔ تالابوں کی تعمیر، ہیچری آپریشنز، فیڈ سپلائی، فارم مینجمنٹ، کٹائی، پراسیسنگ، پیکنگ، ٹرانسپورٹیشن اور مارکیٹنگ سمیت مختلف مراحل پر افرادی قوت کی ضرورت ہوتی ہے، جس سے دیہی اور نیم شہری علاقوں میں براہِ راست اور بالواسطہ روزگار کے مواقع پیدا ہوتے ہیں۔انہوں نے مزید بتایا کہ جنوبی پنجاب اور سندھ کے بعض علاقوں میں وسیع رقبہ ایسی شور زدہ زمینوں پر مشتمل ہے جو روایتی زراعت کے لیے موزوں نہیں۔

جھینگا فارمنگ ان زمینوں کے مؤثر استعمال کا ایک بہترین متبادل فراہم کرتی ہے کیونکہ جھینگوں کی افزائش نمکین اور کھارے پانی میں بھی ممکن ہے۔ان کا کہنا تھا کہ جھینگا فارمنگ زرعی شعبے میں تنوع لانے میں بھی معاون ثابت ہو سکتی ہے۔ پاکستان کی معیشت بڑی حد تک گندم، کپاس، چاول اور گنے جیسی روایتی فصلوں پر انحصار کرتی ہے، جبکہ جھینگا فارمنگ کسانوں کو آمدن کے نئے ذرائع فراہم کر کے معاشی خطرات کم کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔

ڈاکٹر نہید بانو نے کہا کہ اس شعبے میں سرمایہ کاری کے وسیع امکانات موجود ہیں کیونکہ تجارتی سطح پر جھینگا فارمنگ کے لیے تالاب، ہیچریز، پانی کے انتظامی نظام، فیڈ ملز اور پراسیسنگ یونٹس جیسا بنیادی ڈھانچہ درکار ہوتا ہے، جس سے معاشی سرگرمیوں اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ میں مدد ملتی ہے۔انہوں نے نشاندہی کی کہ اگرچہ اس شعبے میں بے پناہ معاشی امکانات موجود ہیں، تاہم ابتدائی سرمایہ کاری، فنی مہارت، پانی کے معیار کا انتظام، بیماریوں کی روک تھام اور معیاری بیج و خوراک کی دستیابی جیسے چیلنجز بھی درپیش ہیں، جن سے نمٹنے کے لیے تربیت، تحقیق، انفراسٹرکچر اور حکومتی معاونت ناگزیر ہے۔

انہوں نے بتایا کہ حکومت پنجاب جھینگا فارمنگ کے فروغ کے لیے اربوں روپے کے مختلف منصوبوں پر عمل پیرا ہے، جن میں 1.8 ارب روپے کا ترقیاتی منصوبہ اور 4.43 ارب روپے کا وسیع شرمپ فارمنگ پروگرام شامل ہے۔ اس سے قبل بھی پائلٹ منصوبوں پر 4.147 ارب روپے سے زائد کی سرمایہ کاری کی جا چکی ہے، جبکہ طویل المدتی توسیعی منصوبے کے لیے 50 ارب روپے مختص کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔

ڈاکٹر نہید بانو کے مطابق حکومتی اندازوں کے تحت جنوبی پنجاب کی شور زدہ زمینوں پر بڑے پیمانے پر جھینگا فارمنگ کے فروغ سے سالانہ تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر کی برآمدات حاصل کی جا سکتی ہیں، جس سے زرمبادلہ میں نمایاں اضافہ اور ہزاروں نئے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ مناسب منصوبہ بندی، تکنیکی معاونت اور پائیدار انتظامی حکمت عملی کے ذریعے جھینگا فارمنگ پاکستان کی معیشت، آبی زراعت اور ماہی گیری کے شعبے کے لیے ایک اہم محرک ثابت ہو سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ شعبہ برآمدات میں اضافے، دیہی ترقی، زرعی تنوع اور سرمایہ کاری کے فروغ کے ذریعے قومی معیشت کو مضبوط بنانے میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔