پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے خود مختار اداروں کے قواعد وضوابط ، منصوبہ بندی کمیشن سے جاری منصوبوں کی لاگت ، موجودہ اور مستقبل کے منصوبوں کے اخراجات کی تفصیلات اور بے نظیر ائرپورٹ کی ابتدائی لاگت موجودہ لاگت اور تاخیر کے باعث اضافی اخراجات کی تفصیل طلب کر لی ، خود مختار اداروں کے سربراہوں کو پرنسپل اکاؤنٹنگ افسر بنا دیا جائے ،وزیراعظم کو تجویز،ظلم ہے کہ کھربوں روپے منصوبوں کے تاخیر سے ضائع ہوتے ہیں،خورشید شاہ،محترمہ کی شہادت کے موقع پر خود تحصیلداروں نے ریکارڈ جلایا تاکہ پوچھنے پر ریکارڈ نہ ملے ،پی اے سی کے اجلاس میں انکشاف

جمعرات جنوری 04:24

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبار آن لائن۔2جنوری۔2014ء)قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ طاہر رشید کی طرف سے بے بسی کے اظہار کے بعد خود ایڈمنسٹریٹو سٹاف کالج کے ریکٹر کو طلب کرلیا جبکہ وزیراعظم کو خط لکھنے کی ہدایت کی ہے کہ خود مختار اداروں کے سربراہوں کو پرنسپل اکاؤنٹنگ افسر بنا دیا جائے ، کمیٹی نے خود مختار اداروں کے قواعد وضوابد ، منصوبہ بندی کمیشن سے جاری منصوبوں کی لاگت ، موجودہ اور مستقبل کے منصوبوں کے اخراجات کی تفصیلات اور بے نظیر ائرپورٹ کی ابتدائی لاگت موجودہ لاگت اور تاخیر کے باعث اضافی اخراجات کی تفصیل بھی طلب کر لی ہے اور کمیٹی کے چیئرمین سید خورشید شاہ نے کہا ہے کہ یہ ظلم ہے کہ کھربوں روپے منصوبوں کے تاخیر سے ختم ہونے کے باعث ضائع ہوتے ہیں ۔

2005ء کے منصوبے ابھی تک نامکمل ہیں یہ پلاننگ کمیشن کی ناکامی ہے اور حکومت کی کوتاہی ہے پیسہ خطرناک حد تک ضائع ہوتا ہے،محترمہ کی شہادت کے موقع پر خود تحصیلداروں نے ریکارڈ جلایا تاکہ پوچھنے پر ریکارڈ نہ ملے ۔ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس بدھ کو یہاں چیئرمین سید خورشید شاہ کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوا کمیٹی نے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے آڈٹ اعتراضات 1998-99ء کا جائزہ لیا ۔

چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ پلاننگ کمیشن اپنے منصوبے منظور کرے جو اپنے تین سات یا مقررہ وقت میں مکمل کرے کمیٹی کو وفاقی ترقیاتی پروگرام میں شروع کئے جانے والے منصوبوں کی کیا صورتحال ہے تمام تفصیلات کمیٹی میں پیش کی جائیں ۔ کمیٹی نے پی اے سی سیکرٹریٹ کو ہدایت کی ہے کہ منصوبہ بندی کمیشن کو خط لکھ کر ان کے جاری ، مستقبل کے منصوبوں پر سالانہ تفصیلات لی جائے ۔

سید خورشید شاہ نے کہا کہ یہ ظلم ہے کہ کھربوں روپے منصوبوں کے تاخیر سے ختم ہونے کے باعث ضائع ہوتے ہیں ۔2005ء کے منصوبے ابھی تک نامکمل ہیں یہ پلاننگ کمیشن کی ناکامی ہے اور حکومت کی کوتاہی ہے پیسہ خطرناک حد تک ضائع ہوتا ہے کمیٹی نے اسلام آباد میں بے نظیر ائر پورٹ کی تعمیر پر آنے والی لاگت کی مکمل تفصیلات طلب کرلی ہیں ۔ کمیٹی کو بتایا جائے کہ منصوبہ شروع ہوتے وقت کیا لاگت تھی ۔

تاخیر کے باعث لاگت میں کتنا اضافہ ہوا ۔ آڈٹ حکام نے بتایا کہ نیب کی جانب سے 1998ء میں ملازمتوں میں پابندی کے باوجود 40 افسران بھرتی کیا گیا ۔ کمیٹی نے کہا کہ یہ بھرتیاں غیر قانونی ہیں بھرتیوں کے حوالے سے ایف پی ایس سی کے قانون پر نظر ثانی ہونی چاہیے ۔ لوگوں کا خیال ہوتا ہے کہ وہ پابندی کے دوران بھی لوگ بھرتی کروا سکتے ہیں کسی بھی ادارے میں قواعد کی خلاف ورزی نہیں ہونی چاہیے ۔

چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ کو خود ادارے سے بات کرنی چاہیے تھی ۔ سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ نے کہا کہ نیب خود مختار ادارہ ہے کمیٹی اراکین نے کہا کہ خود مختار ادارے پیسے اپنی مرضی سے خرچ کرتے ہیں جو بے قاعدگی ہے ۔ چیئرمین کمیٹی کی جانب سے جب نیب کے بورڈ آف گورنرز کے قواعد وضوابط کے متعلق استفسار پر سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ نے لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ قواعد کی کتاب نہیں لایا ۔

خورشید شاہ نے کہا کہ اگر تمام ادارے قواعد وضوابط کے مطابق کام کرنا شروع کردیں تو بے ضابطگیاں نہ ہوں گی ۔ چیئرمین کمیٹی کے پوچھنے پر سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ نے بتایا کہ صدر مملکت نیب کے بورڈ آف گورنرز کے چیئرمین ہیں جس پر ایک ممبر نے کہا پھر انہیں بھی یہاں بلانا چاہیے ۔ جس پر خورشید شاہ نے کہا کہ صدر کو بلا تو نہیں سکتے تاہم پوچھنا چاہیے کہ انہوں نے اپنے بورڈ کو پابندی کے دوران ملازمین بھرتی کرنے کی کیسے اجازت دی ۔

نیب بورڈ کس حد تک اپنے اختیارات استعمال کرسکتا ہے ۔ کمیٹی نے معاملے پر وزارت قانون سے رائے طلب کرلی ۔آڈٹ حکام نے بتایا کہ پاکستان ایڈ مسٹر ٹو سٹاف کالج میں پچاس لاکھ روپے کی خورد بورد کی گئی خورد بورد کرنے والے پرویز نامی کیشیر کا انتقال ہوگیا ہے مگر ہمیں اس کے انتقال کے حوالے سے تصدیق نہیں کرائی گئی ۔ سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ نے بتایا کہ یہ معاملہ ایف آئی اے کے پاس ہے جس پر ایف آئی اے حکام نے کہا کہ یہ معاملہ نیب کے پاس ہے کیونکہ ا کتوبر 2004ء سے اکتوبر 2008ء تک ایف آئی اے کے اختیارات نیب کو چلے گئے تھے اس لیے تمام کیسز بھی نیب کے پاس چلے گئے ۔

نیب نے کہا کہ ہمیں دفتر سے پوچھنا پڑے گا رکن کمیٹی عبدالمنان نے کہا کہ 2004ء سے 2008ء تک ایف آئی اے نے ہمیں گھسیٹا ادھر کیوں کام نہیں کررہے ۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ بدقسمتی سے حکومتی ا دارے طریقہ کار اختیار نہیں کرتے اگر اس معاملے کو مدت کا سرٹیفکیٹ دے دیا جاتا تو ہمارے لیے آسانی ہوجانی چاہیے آئندہ تمام اعدادوشمار اور دستاویزات کیا کرکے لائیں ۔

سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ نے کہا کہ ایف آئی اے لاہور سے رابطہ کیا تو ہمیں بتایا گیا کہ ایف آئی اے دفتر پر دوبارہ حملہ ہوا ہے اور اب ریکارڈ نہیں مل رہا ۔ سید خورشید شاہ نے کہا کہ محترمہ کی شہادت کے موقع پر خود تحصیلداروں نے ریکارڈ جلایا تاکہ پوچھنے پر ریکارڈ نہ ملے ۔ کمیٹی نے اس معاملے پر پانچ روز میں ایف آئی اے اور نیب سے تحقیقاتی رپورٹ طلب کرلی ۔

آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے کہا کہ خود مختار ادارے اپنا کام کریں ۔ قواعد وضوابط کی خلاف ورزی نہ کریں تمام خود مختار اداروں کے لیے قواعد بنانا ضروری ہے ادارے چاہے خود مختار ہوں مگر حکومت پاکستان کے ہی ہیں ۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ تمام خود مختار اداروں کو خط لکھ کر قواعد وضوابط اور اختیارات کی تفصیلات طلب کی جائیں تمام خود مختار ادارے حکومت کے قواعد کو فالو کریں ۔

سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ شاہد رشید نے کمیٹی کو بتایا کہ ایڈ منسٹریٹو سٹاف کالج ہمیں سنجیدہ نہیں لیتا ۔ ریکٹر کالج خود پرنسپل اکاؤٹنگ آفیسر ہے۔ خورشید شاہ نے کہا کہ پاکستان ایڈمنسٹریٹو سٹاف کالج وہ ادارہ ہے جہاں بیورو کریٹس کی ٹریننگ دی جاتی ہے اگر ادارے کا یہ حال ہے تو وہ بیورو کریٹس کو کیا ٹریننگ دیتے ہونگے ۔ کمیٹی نے آئندہ اجلاس میں پاک ایڈمنسٹریٹو سٹاف کے ریکٹر کو طلب کرلیا ہے خورشید شاہ نے کہا کہ غریبوں کے پیسے کو بے دردی سے استعمال کیا جاتا ہے اور کوئی پوچھنے والا نہیں ہے ۔

سیکرٹری پی اے سی میں جواب دینے سے پہلے ماتحت اداروں سے جواب طلب کریں اور خود احتساب کریں ۔ انہوں نے کہا کہ اسٹیبلشمنٹ اپنے قوانین میں ترمیم کریں ۔ وزیراعظم کو خط لکھا جائے کہ خود مختار اداروں کے سربراہوں کو پرنسپل اکاؤنٹنگ آفیسر بنا دیا جائے کیونکہ سیکرٹریز کا کہنا ہے کہ وہ ہماری بات نہیں سنتے ۔ رقم حکومت خرچ کرتی ہے اور بدنام پارلیمنٹ ہوتی ہے کمیٹی نے وزارت خزانہ سے پرنسپل اکاؤنٹنگ افسران کی تفصیلات طلب کرلی ہیں اراکین کمیٹی نے مشورہ دیا ہے کہ پی اے سی میں سابقہ آڈٹ اعتراضات کے ساتھ موجودہ حکومت کے آڈٹ اعتراضات کا بھی جائزہ لے ۔

متعلقہ عنوان :

Your Thoughts and Comments